خبر
4/20/2013
امام علی ابن موسی الرضا علیہماالسلام

 
امام علی ابن موسی الرضا علیہماالسلام

حضرت امام علی ابن موسيٰ الرضا علیہ السلام حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت طاہرہ سے ، آنحضرتؐ کے آٹھویں بر حق جانشین اور شیعوں کے آٹھویں امام علیہ السلام ہیں۔
مشہور مورخین اور محدّثین نےحضرت امام رضا علیہ السلا م کی ولادت باسعادت ۱۱ ذیقعد۱۴۸ ھ ۔ق بروز جمعرات یا جمعہ ذکر کی ہے۔
حضرت امام رضا علیہ السلام کے والدبزرگوار شیعوں کے ساتویں امام حضرت موسيٰ بن جعفر الکاظم علیہ السلام اور والدہ ماجدہ کے متعدد نام جیسے’’تکتم ، نجمہ،سماّنہ،خیزران،سکن،نجیہّ اور طاہرہ ذکر ہوئے ہیں لیکن ان میں سےمشہور ترین نام ’’تکتم‘‘ہے۔
حضرت ؑ کا نام نامی علی،مشہور لقب رضا اور معروف کنيّت ابوالحسن ہے ۔حضرت ثامن الائمہ علیہ السلام اپنے پاک و طاہر آباء و اجداد اور جدّ بزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی مثل دین مبین اسلام کی اعليٰ تعلیمات اور خداوند حکیم و علیم کے اسماء و صفات کے آئینۂ تمام نما اور ایک الٰہی نمائندےاور کامل انسان تھے۔
حضرت کی اخلاقی صفات اور زہد و تقويٰ کا یہ عالم تھا کہ دوست تو دوست، دشمن بھی حضرتؑ کی طرف کھنچےچلے آتے تھے ۔لوگوں کے ساتھ ادب ، تواضع اور مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور کبھی بھی اپنے آپ کو لوگوں سے جدا نہیں کر تے تھے۔
امام ہشتم علیہ السلام کو خدا داد علم اپنے جد ّبزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سلم سے وراثت میں نصیب ہوا، حضرت علیہ السلام علم اور فضیلت کے سرچشمہ تھےجن سے علم و معرفت کے پیاسے سیراب و مستفیض ہو کر اپنی مشکلات حل کرواتے اور ضروریات پورا کرواتے تھے۔ وہ علوم و معرف کے گنجینے تھے ۔ مورخین اور راویوں کا اس بات پر اتفاق ہے ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام اپنے زمانے کے دانشمند ترین ، عالم ترین اور دین مبین کے احکام و فرائض میں شائستہ ترین فر دتھے، حضرت علیہ السلام عالم اسلام کی عليٰ ترین ہستی تھے جن سے مختلف ادیان ومکاتب کے علما و فقہا ء اپنے اپنے سوالات کے جوا بات اور مشکلات کے حل کیلئے رجوع کیا کرتے تھے۔
حضرت امام رضا علیہ السلام کے وجود ذیجود میں علم الہی کی تجلیات اس قدر نمایا ں تھیں کہ حضرت ؑ کے والد بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے انہیں ’’عالم آل محمد ‘‘ علیہم السلام کے لقب سے ملقّب فرمایا ۔
امام علیہ السلام کی اس زمانے میں دیگر منفرد اور منحصر خصوصیات میں حضرت علیہ السلام کا دنیا کی تمام زبانوں سے واقف و آشنا ہونا ہے ۔حجّت خدا امام رضا علیہ آلا ف التحیۃ و الثنا ءمختلف قبیلوں کے لوگوں اور ادیان و مذہب کے دانشوروں سے ان کی اپنی اپنی زبان میں گفتگو فرماتے تھے ،ان کے سوالات خود انہیں کی زبان میں سنتے اور پھر اسی طرح انہیں بہترین اور دلائل کے ساتھ جوابات مرحمت فرماتے تھے۔
آٹھویں برحق امام علیہ السلام کی امامت کی مدّت تقریباً ۲۰ سال تھی۔اس مدّت ِ امامت کو تین علٰیحدہ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:امامت کے پہلے ۱۰ سال عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں گذرے،اگلے ۵ سال ہارون کے بیٹے امین کی خلافت کے دوران بسر ہوئے اور آخری ۵ سال ہارون کے دوسرے بیٹے مأمون کے زمانے میں بیتے جبکہ مامون ایک وسیع حکومت و سلطنت پر مسلط ہو چکا تھا۔
مامون نے حضرتؑ کو مدینہ نہ رہنے دیا اُس کی خام خیالی یہ تھی کہ حضرتؑ کو اپنے پاس بلا کر مؤمنین و مسلمین سے جدا کرکے اُن کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرسکے گا اور اس طرح اُس کی حکومت مضبوط تر ہو جائے گی اور کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوگا لیکن امام علیہ السلام کو مدینہ سے ہجرت کرواکر جب اس نے دیکھ لیا کہ اُس کی پالیسی کامیاب نہیں ہورہی اور مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے بلکہ اس کے برعکس اسلامی معاشروں کے درمیان امام رضا علیہ السلام کی عظمت و محبت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور حضرتؑ کے اخلاق، علم اور دیگر تمام صفات و خصوصیات اور مناقب و فضائل کا نور آئے دن پھیلتا جا رہا ہے تو اس غاصب خلیفہ نے اپنے آباد و اجداد کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس معصوم امام علیہ السلام کو شہید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
اب مامون جانتا تھا کہ جس قدر وقت گذرتا چلا جائے گا،امام علیہ السلام کی حقانیت اور اس کی سازشیں برملا ہوتی چلی جائیں گی،دوسری طرف سے مامون کے اس ولایتعہدی کے کام سے عباسی اس سے ناراض تھے اور یہ ناراضگی اس قدر مخالفت میں تبدیل ہوگئی تھی کہ عباسیوں نے بغداد میں ابراہیم بن مہدی عباسی کے ہاتھ پر بیعت کرلی اس طرح مأمون کی حکومت کو طرح طرح کے خطرات لاحق ہو گئے تھے لہٰذا اُس نے فیصلہ کیا کہ مخفیانہ طور پر امام علیہ السلام کو قتل کروادے،اس غاصب و سنگدل خلیفہ نے معصوم امام علیہ السلام کو مسموم کردیا تاکہ امامؑ کے خطرے سے بھی نجات حاصل کرسکے اور عباسیوں اور اپنے طرفداروں کو بھی اپنے ساتھ متحد کرسکے۔
مأمون نے حضرت امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی عباس کو لکھا:تم لوگ تنقید کیا کرتے تھے کہ میں نے ولیعہدی کا منصب و عہدہ کس لیے علی بن موسيٰ الرضا کے سپرد کردیا ہے۔آگاہ ہو جاؤ کہ وہ انتقال کر گئے ہیں،پس میری اطاعت میں آجاؤ۔
مأمون کوشش کررہا تھا کہ امام رضا علیہ السلام کے چاہنے والوں اور پیروکاروں کو شہادت کا اصلی ماجرا معلوم نہ ہو اس لیے تظاہر اور عوام فریبی کی چالوں کے ذریعے اپنی جنایت و جرم چھپانا چاہتا تھا اور یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ امام رضا علیہ السلام اپنی طبیعی موت اس دنیا سے رحلت کر گئے ہیں لیکن حقیقت مخفی نہیں رہ سکی اور اس غریب الغرباء امام علیہ السلام کے خاص اور قریبی اصحاب حقیقت سے باخبر ہو گئے۔
’’ابا صلت ہروی‘‘جو امام رضا علیہ السلام کے نزدیکی اور خاص صحابی تھے،انہوں نے امام علیہ السلام اور مأمون کے درمیان ہونے آخری گفتگو اور شہادت کے ماجرے کو بیان کیا ہے:
’’احمد بن علی انصاری کا کہنا ہے کہ میں نے اباصلت سے پوچھا:مأمون تو امام رضا علیہ السلام کی محبت کا دعویدار تھا اور ان کا ظاہر میں بہت احترام کرتا تھا،اُس نے حضرتؑ کو اپنا ولیعہد قرار دیا تھا پس کیسے ممکن ہے کہ حضرت کے قتل کا اقدام اُس نے کیا ہو؟
ابا صلت نے جواب میں کہا:چونکہ مأمون نے امام علیہ السلام کی عظمت و بزرگواری کو دیکھا تھا اس لیے احترام کا اظہار کرتا تھا اور انہیں ولیعہد بنانے کی اس لیے کوشش کی تھی تاکہ لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرسکے کہ امام(نعوذ باللہ) دنیا کی چاہت رکھتے ہیں اور اس طرح لوگوں کی نظروں میں امام علیہ السلام کا مقام گرانا چاہتا تھا لیکن جب اُس نے دیکھا کہ اُس کی سازشوں کے باوجود امام علیہ السلام کے زہد و تقويٰ میں کچھ فرق نہیں آیا ہے اور لوگوں نے بھی امام ؑ سے زہد و تقويٰ کے خلاف کوئی چیز نہیں دیکھی ہے اسی لیے لوگوں کے درمیان حضرت ؑ کی فضیلت و مقام میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے تو مأمون نے مختلف شہروں سے نام آور متکلم حضرات کو اکٹھاا کیا اور اس امید پر کہ ان میں سے کوئی ایک تو کسی علمی بحث میں امام ؑ پر غلبہ کرسکے گا اور اس طرح حضرت ؑ کا علمی مقام دانشوروں کی نظروں میں گرجائے گا اور پھر ان کے ذریعے یہ بات عام لوگوں تک بھی مشہور ہو جائے گی لیکن دور دراز سے آنے والے یہودی،مسیحی،آتش پرست،صائبی،برہمنی،ملحد اور دہری دانشوروں اور مسلمانوں کے مختلف فرقوں کےعلماء میں سے ہر ایک نے جتنے بھی سوالات اُٹھائے،ان کے مدلل جوابات پائے،کوئی شخص بھی امام علیہ السلام پر علمی غلبہ نہیں پاسکا اور سب کے سب متفقہ طور پر حجت خدا کی اعلمیت کے قائل و معترف ہو گئے کہ حضرتؑ سے زیادہ علم رکھنے والا اور علوم و معارف کا ایسا سمندر کوئی اور موجود نہیں ہے۔
اس طرح کے تأثرات کے بعد لوگ کہنے لگے:’’خدا کی قسم امام رضا علیہ السلام خلافت کے منصب کیلیے مأمون سے زیادہ شائستہ،سزاوار اور لائق ہیں’’۔ مأمون کے کارندے یہ خبریں اُس تک پہنچاتے تھے اور وہ بہت غضبناک ہو جاتا تھا اور جوں جوں حسد کی آگ میں جلتا رہتا تھا۔حجتِ خدا امام رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء بھی مامون کے سامنے حق بات کہنے سےنہیں ڈرتے تھے اور نہایت بے باکی سے حق بات کہہ دیتے تھے،کتنے مواقع ایسے آئے کہ جس بات سے مأمون کتراتا تھا اور پسند نہیں کرتا تھا،امام علیہ السلام بلا جھجک فرمادیتے تھے جس سے مأمون کی امام علیہ السلام کے بارے میں موجود اندرونی نفرت کے شعلے بھڑک اُٹھتے تھے۔
آخر کار جب مأمون نے امام علیہ السلام کے خلاف اپنے انواع و اقسام کے حیلوں اور سازشوں کے جالوں کو ناکام دیکھا تو مخفیانہ طور پر غریب الغرباء امام رضا علیہ السلام کو مسموم کردیا‘‘۔
’’اباصلت‘‘جو خود امام علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور حضرت کی تدفین کے مراسم میں بھی شریک تھے،روایت کرتے ہیں:مرو سے بغداد کی طرف واپس جاتے ہوئے راستے میں طُوس کے مقام پر مأمون نے حضرت امام علیہ السلام کو انگور کے ذریعے مسموم کر کے شہید کردیا،حضرتؑ کا پیکر مطہر اُسی بقعے میں جہاں ہارون مدفون تھا،ہارون کی قبر کے ساتھ(سرہانے کی جانب)دفن کردیا گیا۔
غریب الغرباء حضرت امام رضا علیہ السلام کی شہادت کا یہ دلسوز واقعہ ماہ صفر کے آخری دن ۲۰۳ ھ۔ق میں پیش آیا۔ شہادت کے وقت امام علیہ السلام ۵۵ برس کے تھے۔
خداوندقدوس و سبحان،اُس کے انبیاء و رسل،اولیاء اور تمام صلحاء کے بے حد و حصر درودوسلام ہوں ارضِ غربت میں مظلومانہ مسموم اور شہید ہونے والے رأفتِ الہٰی کے آئینہ ٔتمام نما غریب الغرباء حضرت امام رضا پر؛جن کے حرم مطہر سے آج بھی مخلوقِ خدا فیضیاب ہو رہی ہے۔  
وزٹرز کی تعداد:1019
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...