آستان نیوز کے مطابق حوزہ علمیہ خراسان کے علمی شعبے کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین مہدی رضائی نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے دارالعلم کے عہدیداروں کے دورہ قم اور علما اور مراجع سے ان کی ملاقاتوں کا ذکرکرتے ہوئے پہلے دارالعلم کے قیام کی تاریخ بیان کیا اور کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات میں مدرسہ دارالعلم کا قیام 3 مدرسوں سے عمل میں آيا لیکن رواں سال موسم گرما میں دارالعلم کےمدرسوں کی تعداد 7 ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے سال مدرسہ میں فقہ اصول ، علوم عقلی اور قرآن و ادبیات کی تعلیم شروع کی گئی لیکن 4 سال بعد ان مدرسوں کی تعداد 7 سات ہوگئی۔
حجت الاسلام رضائی نے دارالعلم کے قیام اور اس کی کمیٹی میں آستان قدس رضوی کے متولی کی رکنیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کمیٹی کے ارکان کی موجوگي میں دارالعلم کے منصوبوں کے بارے میں فیصلے کئے جاتے ہیں۔
حجت الاسلام رضائي نے دارالعلم کی بنیاد کے چار محوروں علمی ، ابلاغیاتی ، تدارکارتی اور ثقافتی محور کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ ان کے انتظامی امور حوزہ علمیہ اور آستان قدس رضوی کے درمیان تقسیم کئے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلم کے کلاسز اور پروگرام علوم اسلامی رضوی، مدرسہ خیرات خانہ، مدرسہ میرزا جعفر اور تحقیقاتی فاؤنڈیشن کی عمارتوں میں منعقد ہوتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سبھی 7 مدرسوں کے پانچ سالہ جامع پروگرام انتہائي اعلی معیار کے ہیں جو کمیٹی کی منظوری سے ایجنڈے کا حصہ بنتے ہیں ۔
حجت الاسلام رضائي کا کہنا تھا کہ قم، تہران اور مشہد کے اساتذہ کی دارالعلم میں خدمات اس مرکز کی اہم خصوصیات ہیں اور ان اساتذہ کی تعداد 64 ہے جن میں پچاس فیصداساتذہ خراسان کے ہین اور باقی دیگر صوبے کے ہیں۔
دارالعلم کا تسلسل اور اس کی علمی مرکزیت
حوزہ علمیہ خراسان کے نائب سربراہ نے دورہ قم کا ذکرکیا اور کہا کہ علما اور حضرات آيات سبحانی ، فاضل ،شب زندہ دار ، فیاضی ، قائنی ، نجفی ، علیدوست اور یزدان پناہ سے ملاقاتیں بہت ہی مفید رہیں ۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلم کو ایک علمی مرکز اور مرجعیت میں تبدیل کرنا سبھی عہدیداروں کی خواہش اور کوشش ہے اور مدرسہ فقہ و اصول میں موضوع شناسی کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔
انہوں نے ممتاز اساتذہ کی جانب سے دارالعلم میں اپنی خدمات دینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیز اس علمی مرکز کے لئے بہت ہی اہم ہے ۔
انہوں نے آخر میں مدرسہ فقہ و اصول میں بین الاقوامی شعبہ کے اضافے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس ادارے کو بہتر سے بہترانداز میں چلانے کے لئے اس کے آخری مرحلے کے انعقاد کی خبردی ۔