آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 6 اکتوبر2026 بروز منگل کی شام حرم امام رضا(ع) کے قدس ہال میں ملک بھر کے قبائلی شہداء کے خاندانوں کے لئے ’’باید برخاست‘‘(قیام ضروری ہے) کے عنوان سے خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں آیت اللہ احمد مروی نے قبائلی خاندانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں میں آئمہ معصومین(ع) کو اپنا نمونہ اور مشعل راہ بنانا چاہئے تاکہ فلاح اور سعادت کی طرف بڑھ سکیں۔
انہوں نے ظلم کے استقامت اور مزاحمت کو اہلبیت اطہار(ع) کی سیرت کا ایک اہم پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ائمہ اطہار (علیہم السلام) ہر موقع پر ظالموں سے بیزاری اور ان سے نفرت کا اظہار کرنے کو اپنا فرض سمجھتے تھے، اور ایسا نہیں تھا کہ وہ ظالموں کے سامنے خاموشی اختیار کریں یا بے حس رہیں ۔
آیت اللہ مروی نے اس موضوع سے متعلق دو شیعہ افراد کے بارے میں ایک روایت ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو افراد مدینہ سے مرو آئے اور جب امام رضا(ع) کی خدمت میں پہنچے اور اپنی نماز کا حکم پوچھا تو امام رضا(ع) نے ایک سے کہا کہ تم مکمل پڑھو اور دوسرے سے کہا کہ تمہاری نماز قصر ہے ۔
ان دونوں افراد نے حیرت سے پوچھا کہ ہم دونوں ایک ہی مقام سے روانہ ہوئے ہیں، ایک ہی منزل پر پہنچے ہیں، ہمارے قیام کا دورانیہ بھی یکساں ہے اور ہم ساتھ واپس جائیں گے؛ پھر ہماری نماز کا حکم مختلف کیوں ہے؟ حضرت رضا(ع) نے جواب میں فرمایا کہ جس شخص کو نماز مکمل پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا، اسے اس لیے ایسا حکم دیا گیا کہ اس نے مامون، یعنی ایک ظالم، سے ملنے کے ارادے سے سفر کیا اور اس کا سفر معصیت کا سفر ہے اور اسلام میں معصیت و گناہ والے سفر میں نماز پوری ہے لیکن دوسرا شخص ولی اللہ کی زیارت کے ارادے سے آیا ہے اور اسلام کی نظر میں وہ مسافر شمار ہوتا ہے اور اسے نماز قصر پڑھنی چاہئے ۔
آيت اللہ مروی نے کہا کہ امام (ع) نے حتی کہ ایک شرعی حکم اور نماز کے حکم کی وضاحت کے دوران بھی ظلم کے خلاف مزاحمت کے مسئلے کو واضح کیا اور یہ دکھایا کہ ظالموں کی مخالفت اور ان کے خلاف جدوجہد کرنا اسلام کے دستور اور نظریے کے مطابق ہے۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ آئمہ معصومین (ع) کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ہر موقع پر ظالموں سے بیزاری اور براءت کا اعلان کیا اور ظالموں کو رسوا کیا ، ظالموں کا مقابلہ کرنا اور ان کے سامنے آواز بلند کرنا نہیں چھوڑا، اولیاء اللہ کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہی ہے ۔
اہلبیت(ع) کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے بلندیوں کی طرف حرکت کرنا
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ زندگی کے تمام معاملات میں اہلبیت(ع) کو نمونہ قرار دینا چاہئے ،کہا کہ کاروبار،زراعت،بچوں کی تربیت، امانت داری ، سچائی اور لوگوں کےساتھ معاملات میں ہمیں اولیاء اللہ کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔
آیت اللہ احمد مروی نے قرآن کریم کی آیت ’’لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے انسان سے اس کی طاقت اور صلاحیت سے زیادہ کچھ نہیں مانگا ہے؛ لہٰذا ہمیں بلند ترین مقام کو نظر میں رکھنا چاہیے،پیغمبر گرامی اسلام(ص) اور ان کے جانشینوں کو اپنے لئے نمونہ قرار دینا چاہئے اور بلند مقصد کے ساتھ سفر کو جاری رکھنا چاہئے ، جتنا بھی بلندی کی طرف چل سکیں چلیں ، خداوند متعال ہم سے ہماری طاقت سے زیادہ نہیں مانگ رہا ، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اس بلندی کی طرف حرکت کریں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اہلبیت(ع) کی سیرت کا ایک اہم درس ظلم کے خلاف مزاحمت، ظالموں سے مقابلہ اور ظالموں کے سامنے سر نہ جھکانا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے گذشتہ تقریباً نصف صدی کے دوران دشمنوں اور بدخواہوں کی طرف سے شدید ترین دباؤ اور تکالیف برداشت کیں، لیکن دشمن کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا اور یہ ہمارے دین کی تعلیم اور انبیاء و اولیائے الٰہی کی تعلیمات ہیں کہ ظالم کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرناہے ۔
آیت اللہ مروی نے فتنوں، سازشوں، دشمنیوں، دفاع مقدس کے آٹھ برسوں، پابندیوں اور پروپیگینڈوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دو سالوں میں ہم پر دو جنگیں مسلط کی گئیں؛ لیکن ایرانی قوم نے پیغمبراکرم(ص) اور اوصیائے الٰہی کی پیروی کرتے ہوئے دباؤ اور پابندیاں برداشت کیں،مگردشمن جو ایران کو جھکانے کا خواب دیکھتا رہا، وہ یہ خواب اپنی قبر میں لے جائے گا اورکبھی اس کا یہ خواب پورا نہیں ہوگا، انشاء اللہ۔
قوم مبعوث ہوگی
آستان قدس رضوی کےمتولی نے مجاہد اور شہید رہبر(رح) کے ایک قول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ہمارے رہبر شہید عظیم الشان اور امام مجاہد شہید نے فرمایا، اگر ایک دن لوگ محسوس کریں کہ دشمن ان پر حملہ آور ہو رہا ہے، تو لوگ مبعوث ہو جائیں گے؛ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مبعوث کیا۔
آیت اللہ احمد مروی نے اس قول کو ’’بہت معنی خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجاہد اور شہید رہبر(رح) نے ایک موقع پر ’’قوم مبعوث ہو گی‘‘ اور ’’لوگ مبعوث ہوں گے‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی اور یہ واقعہ حقیقت میں رونما ہوا ،دشمن کا یہ خیال تھا کہ انقلاب کے رہنما اور کمانڈرز کی شہادت سے عوام کا حوصلہ پست ہو جائے گا اور وہ مزاحمت کی طاقت کھو دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مادی طور پر دشمن نے شاید یہی سوچا تھا، اور اگر ایسا کسی دوسرے ملک میں ہوتا تو شاید اس کا نظام ہی درہم برہم ہو جاتا؛ لیکن ایران میں اس کا نتیجہ بالکل الٹا نکلا۔
آیت اللہ مروی نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک آپریشن کے دوران، جس میں دو بڑی طاقتوں (امریکہ اور صہیونی ریاست) نے حصہ لیا، امت کے رہبر و رہنما کو اسی ابتدائی مرحلے میں شہید کر دیا گیا اور اعلیٰ درجے کے کمانڈرز بھی شہید ہوئے۔ دشمن کے لیے یہ سوچنا فطری تھا کہ عوام اپنا حوصلہ کھو دیں گے؛ رہنما چلے گئے، اہم کمانڈرز شہید ہو گئے اور قوم کے پاس مزاحمت جاری رکھنے کی طاقت نہیں رہے گی؛ لیکن نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔
انہوں نےکہا کہ لوگوں نے نہ صرف گھروں میں پناہ نہیں لی، بلکہ نہ توان پر خوف و ہراس طاری ہوا اور نہ ہی انہوں نے اپنا حوصلہ ہارا، بلکہ انہوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں نکل آئے۔
آیت اللہ مروی نے اس صورتحال کو ایک نیا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اسلامی انقلاب میں رونما ہوا؛ لوگوں نے نہ صرف خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ وہ سڑکوں پر نکل آئے، نعرے لگائے اور یہ موجودگی پورے جوش، جذبے اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ جاری رہی۔
’’ھیھات منا الذلۃ‘‘ کا نعرہ لوگوں کے کردار سے ظاہر ہو رہا ہے
انہوں نے اس جذبے کو قرآن کریم، پیغمبر اکرم(ص)، اہلبیت(ع)،امام خمینی(رح) اورشہید رہبر(رح) کی تعلیمات کے اثر اور حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کے روز عاشورا کے فرمان کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چودہ سو سال پہلے حضرت ابا عبد اللہ الحسین(ع) نے ظالم و ستمگر یزید کے سامنے کہا تھا ’’ھیھات منا الذلہ‘‘ اور آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد اس قول کا مفہوم ہمارے معاشرے میں ظاہر ہو رہا ہے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ امام حسین(ع) کا ’’ھیھات منا الذلہ‘‘ کا نعرہ ہمارے معاشرے میں گونج رہا ہے اور ظلم و ظالم سے جنگ کا حوصلہ لوگوں میں نمایاں ہو چکا ہے ۔
سپاہ پاسداران کا امریکی عوام کے نام خط
آیت اللہ احمد مروی نے جنگ کے دوران امریکی صدرکے ایرانی عوام سے خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے اس وقت ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آپ کی مدد اور نجات کے لیے آئے ہیں اور پھر فوجی اور انتظامی فورسز کو مخاطب کیا اور ان سے کہا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں۔ لیکن اس واقعے کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس کے خطاب کا نتیجہ برعکس نکلا اور معاملہ الٹ گیا؛ سپاہ پاسداران نے امریکی عوام کے نام ایک خط لکھا کہ وہ اپنے ملک کو ان لوگوں (اپنے حکمرانوں) کے ہاتھوں سے بچائیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس اقدام کو ’’انتہائی دانشمندانہ اور مثبت‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون کے ایک مشیر نے اس خط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم نے ایرانی عوام سے کہا تھا کہ وہ ان کی نجات کے لیے آئے ہیں، لیکن چھے ماہ بعد، سپاہ پاسداران نے امریکی عوام کو خط لکھا اور ان سے کہا کہ وہ اپنے ملک کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے بچائیں۔ اس مشیر کے مطابق، یہ مسئلہ ایرانی عوام، ایرانی حکومت، ایرانی فوجی قوتوں کے اعتمادِ نفس اور ایرانی قوم کے ناقابلِ شکست ہونے کی علامت ہے۔
دشمن کے اعلان کردہ اہداف کی ناکامی پر زور
آیت اللہ مروی نے حالیہ جنگ کے بارے میں پیش کئے جانے والے جائزے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا تجزیہ یہ تھا اور امریکی صدر نے بھی صراحتاً بیان کیا کہ یہ جنگ تین دن اور زیادہ سے زیادہ تین ہفتے چلے گی اور کام تمام ہو جائے گا اور ایران بکھر جائے گا اور ایران کی چھوٹے ملکوں میں تقسیم یقینی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس امید سے داخل ہوا ، لیکن اب چھے ماہ گزر چکے ہیں اور دشمن کا کوئی بھی منصوبہ اور خواہش پوری نہیں ہوئی۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے واضح کیا کہ اب دشمن اس خود ساختہ دلدل سے باعزت طریقے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے؛ اسی لیے وہ جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، محاصرے اور پابندیوں میں شدت لا رہا ہے اور دباؤ ڈال رہا ہے؛ لیکن ہمیں ان دھمکیوں سے ڈرنا نہیں چاہیے اور ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ پابندیاں، دباؤ اور دشمن کا میڈیا پروپیگنڈا عوام میں خوف، مایوسی اور ناامیدی پیدا کرے۔
میڈیا پروپگینڈے کے اثرات کے بارے میں انتباہ
آیت اللہ مروی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دشمن کی دھمکیوں، پابندیوں، دباؤ اور میڈیا پروپیگنڈے سے نہیں ڈرنا چاہیے، کہا کہ دشمن اپنے اقدامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے لوگوں میں مایوسی، ناامیدی، خوف و ہراس پیدا کرنے اور ان کا حوصلہ کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے دشمن کے پروپیگنڈوں کے طریقہ کار کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ایک بحری جہاز لاتے ہیں، فیصلہ کرتے ہیں، میٹنگ کرتے ہیں یا پابندی لگاتے ہیں اور پھر اسے دسیوں اور سینکڑوں گنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں؛ ان کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں خوف و ہراس پید کریں اور یہ تصور پیدا کریں کہ امریکہ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور امریکہ سے سمجھوتہ کرنا اور اس کے سامنے جھک جانا ہی بہتر ہے ۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ «مذاکرات اپنی جگہ پر، ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کی شرط کے ساتھ، قابل قبول ہیں»؛ مزید کہا کہ لیکن امریکہ مذاکرات نہیں چاہتا؛ پہلی جنگ مذاکرات کے درمیان پیش آئی اور رمضان کی جنگ بھی ایسے حالات میں پیش آئی جب مذاکرات جاری تھے؛ لہٰذا امریکہ کا مسئلہ مذاکرات نہیں، بلکہ اس کا ہدف ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرناہے ۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ ہدف یہ ہے کہ ایران کہے کہ اس نے امریکہ کو دنیا کا آقا تسلیم کر لیا ہے اور اس کی اپنی کوئی طاقت نہیں ہے؛ جیسا کہ دنیا کے بعض ممالک اور خطے کے ممالک نے امریکہ کی سرپرستی اور بالادستی تسلیم کر لی ہے اور ذلت و خواری برداشت کر رہے ہیں۔ افسوسناک طور پر مسلمان ممالک جنہوں نے امریکہ کی غلامی تسلیم کر لی اور ہر ذلت و خواری برداشت کر رہے ہیں تاکہ چند دن حکومت کرتے رہیں، چند دن، چند لمحے امیر اور بادشاہ رہیں؛ کیا امیری؟ کیا صدارت؟ کیا بادشاہت؟ یہ امیری اور بادشاہت کی سیڑھی آپ کو ذلت اور رسوائی کی بنیاد پر یہاں تک لے آئی ہے، نہ کہ طاقت، اقتدار اور عزت کی بنیاد پر۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیت «لَن یَجعَلَ اللهُ لِلکافِرینَ عَلَی المُؤمِنینَ سَبیلاً» پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہم سے چاہتا ہے کہ خطے کے کچھ ممالک کی طرح، اس کی چودھراہٹ کو قبول کریں اور مجرم امریکہ کی تابعداری اور ذلت و رسوائی کا لباس پہن لیں۔ کیا اسلام ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ اللہ نے یہ قرار نہیں دیا کہ کفار مسلمانوں پر حاکم ہوں۔ قرآن نے مسلمانوں کی ذمہ داری واضح کر دی ہے اور دیگر آیات میں بھی دشمنوں کے ساتھ تعلقات اور رازوں کی حفاظت کے بارے میں تنبیہ کی ہے۔ ہم پیغمبر (ص)کی امت ہیں، قرآن کے تابع ہیں اور عظیم الشان پیغمبر (ص)کے اوصیاء کے تابع ہیں اور ہم کفار کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کر سکتے۔
قبائل ملک کا اثاثہ ہیں
آیت اللہ مروی نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں قبائیلیوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ عزیز، بہادر اور غیرت مند قبائل، انقلابِ اسلامی کے آغاز سے ہی، جیسا کہ ہمارے شہید اور مجاہد رہبر(رح) نے فرمایا، ان مقامات میں سے ایک پر موجود تھے جہاں دشمن نے منصوبہ بندی کی تھی تاکہ نوخیز اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے مشکل کھڑی کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے قبیلوں پر نظریں جما رکھی تھیں، لیکن غیرت مند، بہادر، ایماندار اور محبِ وطن عشائر نے دشمن کو اس کے منصوبے میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے امام خمینی(رح) کے اس قول کو یاد دلاتے ہوئے کہ ’’قبائل اس ملک کا اثاثہ ہیں ‘‘ کہا کہ حقیقت میں ایسا ہی ہے ، قبائل نہ صرف ملک کی سیکیورٹی ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے میدان میں مردانگی کے ساتھ صف آرا ہیں بلکہ معیشت، مویشی پالنے اور ڈیری مصنوعات کے شعبوں میں بھی بہت گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔آپ قبائل دونوں میدانوں میں سب سے آگے ہیں اور قوم اور اسلام کے لیے باعث افتخار ہیں۔
آیت اللہ مروی نے دشمن کے سامنے قبائل کی استقامت و مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے دشمن کو یہ موقع نہیں دیا کہ وہ اپنے تمام تر ہتھکنڈوں، چالاکیوں اور فریب کاریوں کے باوجود آپ جیسے غیرت مند، بہادر اور محب وطن مردوں اور عورتوں پر ذرا برابر بھی اثر ڈال سکے۔