آستان نیوز کے مطابق آستان قدس رضوی کی آرگنائزیشن اف لائبریری، میوزیم اینڈ آرکائيو کے سربراہ حجت الاسلام سید جلال حسینی نے اس سلسلہ میں ہمارے نمائںدے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرانقدر نسخہ اس آرگنائزیشن اور آستان قدس رضوی کے پبلیکیشنز کے ادارے کے تعاون سے زیور طباعت سے آرستہ ہوا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مصحف الحسن(ع) درحقیقت معیاری تصویروں کی تیاری اور قرآن کریم کے نسخہ نمبر 3382 کی دقیق علمی تحقیق کا نتیجہ ہے ۔ قرآن کریم کے اس گرانقدر نسخہ کے صرف آٹھ ورق ہی موجود ہیں جو 17/۔10/5 سینٹی میٹرکے سائزکے ہیں جن کی آستان قدس رضوی کے کتابخانہ میں حفاظت کی جارہی تھی ۔
آستان نیوز کے مطابق آستان قدس رضوی کی آرگنائزیشن اف لائبریری، میوزیم اینڈ آرکائيو کے سربراہ نے کہا کہ یہ نسخہ نو سطروں کے صفحہ پر مشتمل خط کوفی میں تحریر ہے اور اس نسخہ کو رہبرشہید حضرت آيت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ نے اس کتابخانہ کو ہدیہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نسخہ کی اشاعت میں معیاری کیفیت والی تصویروں کے ساتھ ساتھ نسخہ کا تعارف اور اس کی خصوصیات کو تین زبانوں فارسی عربی اور انگریزی زبانوں ميں بیان کیا گياہے
مصحف کی اشاعت میں شریک ماہرین فن
حجت الاسلام سید جلال حسینی نے کہا کہ اس گرانقدر نسخہ کی اشاعت کی ہنری کمیٹی کے مدیر علی ثابت نیا تھے ان کا کہنا تھا کہ اس نسخہ کا انگریزی میں ترجمہ، نگارش اور تحقیق کا کام مہدی صحرا گرد نے انجام دیا اور اس کا عربی زبان میں ترجمہ مہدیار فدوی نے کیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ استاد محسن عبادی نے اس نسخہ کی خوشنویسی میں اپنا کردار ادا کیا جبکہ محمد علی رمضانی اور جواد عباس نیا نے اس نسخہ کی فوٹوگرافی اور اشاعت میں اپنا فن استعمال کیا
اس قرآنی نسخہ کی اشاعت کے اہداف
حجت الاسلام و المسلمین سید حسینی نے کہا کہ آستان قدس رضوی کی آرگںازئریشن آف لائبریری میوزیم اینڈ آرکائیو نے آستان قدس رضوی کے سب سے بڑے علمی مرکز ميں تبدیل ہونے کے اہداف کے حصول اور اپنی دیرینہ ذمہ داریوں کے تحت جو گنجینہ رضوی میں موجود گرانقدر میراث کے تعارف پر مشتمل ہيں یہ کام انجام دیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ آستان قدس رضوی کی یہ آرگنائزیشن ایک تخصصی ناشر ہے اور اس بات کے پیش نظر کہ رضوی گنجینہ میں انتہائي قیمتی نسخوں اور کتابوں میں آئمہ اطہار کے دست مبارک سے تحریر کردہ قرآںی نسخوں کی اپنی خاص اہمیت اور مقام ہے اور اہل علم و معرفت کی اس پر خاص توجہ ہے اسی لئے یہ آرگنائزیشن اپنے لئے واجب سمجھتی ہے کہ ان گرانقدر نسخوں کی تصویروں کی اشاعت کرکے ان تک شائقین اور محققین کی دسترس کو آسان بنائے ۔