آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 18 اکتوبر2026 بروز اتوار کی شام حرم امام رضا(ع) کے قدس ہال میں عراقی موکب داروں کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں آیت اللہ احمد مروی نے خطاب کرتے ہوئے عراقی مہمانوں کو خوش آمدید کہا اورحضرت ابا عبد اللہ الحسین(ع) کے زائرین کی میزبانی میں ان کی خدمات کا شکریہ ادا کیا، اور اسلام، امیرالمؤمنین علی (ع) اور اہلبیت عصمت و طهارت (ع) کی حمایت میں عراقی عوام کی شاندار تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے حق کے محاذ کے دفاع میں اس قوم کے تاریخی کردار کی یاد تازہ کی۔
انہوں نے عراقی اور ایرانی اقوام کے اٹوٹ اعتقادی اور تاریخی رشتہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہلبیت (ع) کی محبت نے یہ کر دکھایا ہے کہ دونوں قومیں آٹھ سالہ جنگ کے تجربے کے باوجود، صدام کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر اپنے تعلقات میں بھائی چارگی اور ہمدردی کو عروج پر لے آئیں؛ یہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جسے اسلام اور اہلبیت (ع) کے دشمن کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چہلم امام حسین(ع) کے موقع پر موکب داری ،دنیا میں ایک منفرد اور انوکھا کارنامہ
آستان قدس رضوی کے متولی نے تقریباً سات سال قبل عراقی موکب داروں کے ایک وفد کی شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں شہید رہبر(رح) نے آپ عراقی موکب داروں کی قیمتی خدمات کا شکریہ ادا کیا ، ہم یہ چاہتے تھے کہ مشہد مقدس میں آپ کی اس سال تشریف آوری اور رہبر معظم انقلاب سے ملاقات ہوتی لیکن سیکیورٹی حالات کی وجہ سے ہمیں اس توفیق سے محروم ہونا پڑا، ان شاء اللہ اگلے سفر اور زیارت میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کی زیارت اور ملاقات کی توفیق بھی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عراق میں موکب داروں کا شاندار کارواں حقیقت میں دنیا میں ایک انوکھا کارنامہ ہے؛ نہ صرف عالم اسلام میں، بلکہ پوری دنیا میں۔ وہ لوگ جو اپنے تمام مادی وسائل قربتہ الیالله اور اپنے آقا حضرت اباعبدالله الحسین (ع) کے زائرین کی تکریم وتجلیل کے لیے میدان میں لاتے ہیں اور پورے دل و جان سے خدمت کرتے ہیں اپنا خاص مقام رکھتے ہيں ۔
عراقی عوام نے اسلامی تاریخ میں حق کے محاذ کی حمایت میں درخشاں ابواب رقم کئے ہیں
آستان قدس رضوی کے متولی نے عراقی عوام کے اسلام اور اہلبیت(ع) کی حمایت میں تاریخی ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام کی اسلام، ولایت، امیرالمومنین علی (ع) اور اہل بیت عصمت و طہارت (ع) کی حمایت میں شاندار تاریخ رکھتے ہیں۔
انہوں نے عراق کی سرزمین میں اسلام کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے پہلے عراق ساسانی ایران کا حصہ تھا اور ایرانی حکومت کے تحت تھا؛ عراق لشکر کشی سے فتح نہیں ہوا، بلکہ اس زمانے کے عراقی عوام نے جب اسلام کا پیغام اور پیغمبر اسلام (ص) کی دعوت سنی تو وہ اسلام کے عاشق ہو گئے۔ عراق لشکر کشی اور تلوار سے فتح نہیں ہوا؛ عظیم الشان پیغمبر (ص) کے پیغام نے عراقی عوام کے دلوں کو فتح کیا۔ عراق نے بغیر لشکر کشی کے اسلام قبول کیا اور یہ عراقی عوام کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔
آيت اللہ احمد مروی نے کہا کہ امیرالمؤمنین (ع) کا دورِ خلافت آپ کے لیے بہت مشکل دور تھا، لیکن عراقی عوام نے آپ کی امامت میں حق کے محاذ میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
انہوں نے جنگ صفین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ صفین میں جس طبقے اور سر زمین کے لوگوں نے امیرالمؤمنین علی (ع) کے لشکر کو وزن، قوت اور شان بخشی اور تقریبا اٹھارہ مہینے جنگ برداشت کی، وہ عراقی عوام تھے۔ اگر عراقی عوام امیرالمؤمنین (ع) کے لشکر میں موجود نہ ہوتے، تو تاریخی شواهد کی رو سے جنگ پہلے ہی ہفتوں میں معاویہ کے حق میں ختم ہو چکی ہوتی۔
آیت اللہ مروی نے عراقی موکب داروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ عراقی عوام تاریخِ اسلام، تاریخِ امیرالمؤمنین (ع) اور تاریخِ اہلبیت عصمت و طهارت (ع) میں ایسے درخشاں ابواب رکھتے ہیں اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ آج بھی آپ عراقی عوام نے اربعین میں ایثار، قربانی، ولایت پذیری، مہمان نوازی اور حضرت اباعبدالله الحسین (ع) سے عشق و محبت کے شاندار مناظر پیش کیے ہیں جو مبارکباد اور تحسین کے لائق بھی ہیں۔
دشمن نے آٹھ سال مسلط جنگ کے ذریعے ایران و عراق کے مابین دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کی
آستان قدس رضوی کے متولی نے ایران اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں صدام کو ایران سے جنگ پر اکسانے کے پیچھے امریکہ کا ایک مقصد یہ تھا کہ اہلِ بیت (ع) کے پیروکار دو شیعہ قوموں کے درمیان تعلقات خونریزی، دشمنی اور کینے سے آلودہ ہو جائیں؛ کیونکہ دشمن جانتا تھا کہ تاریخیپس منظر، بے پناہ دولت اور بہادر و مہذب عوام کی حامل دو طاقتور ریاستوں اور عظیم شیعہ تہذیبوں، ایران اور عراق، کا اتحاد خطے میں امریکہ کی موجودگی اور اثرورسوخ کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صدام کو ایران کے خلاف اکسایا اور امریکہ کی منصوبہ بندی اور حمایت سے دونوں قوموں پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی، تاکہ بھائی کو بھائی سے لڑانے کا ماحول پیدا ہو اور کم از کم صدیوں تک ایران اور عراق کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ محبت و خلوص سے بھرپور تعلقات قائم نہ کر سکیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے عراق میں بعثی حکومت کے خاتمے کےبعد کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صدام کے خاتمے کے بعد دونوں قوموں اور دونوں تہذیبوں کے درمیان محبت اور بھائی چارہ اس قدر عروج پر پہنچا کہ برسوں پہلے ان کے درمیان لڑی جانے والی جنگ کے باوجود کینے فراموش کر دیے گئے۔
انہوں نے اس ہمدردی کی تشکیل میں اہل بیت (ع) کی محبت کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہل بیت (ع) کی برکت ہے؛ اس معاملے کا حیرت انگیز پہلو بھی یہی ہے۔ ہمارے پاس ایسا اثاثہ ہے؛ ایک بے نظیر اور بے بدیل اثاثہ جس کی جگہ کوئی چیز نہیں لے سکتی۔ اہل بیت (ع) کی محبت نے ہمیں اس طرح ایک دوسرے کے قریب کیا اور ہمیں ایک قوم بنا دیا۔
آیت اللہ احمد مروی نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے جنازے میں عراقی عوام کی شاندار شرکت کا ذکر کرتے ہوئے اس شرکت کو دنیا والوں کے لئے حیرت انگیز قرار دیا اور کہا کہ عراقی عوام نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے جنازے میں ایسا شاندار حماسہ خلق کیا ، جو دنیا کے لئے حیرت انگیز تھا،اب تک ایسا نہیں ہوا کہ ایک ملک کے رہبر کی دوسرے ملک میں اس عظمت، شان و شوکت اور عوامی جوش و جذبے کے ساتھ تشییع جنازہ ہو، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوا کہ ایک رہبر کی تشییع جنازہ دوسرے ملک میں اس قدر شاندار اور عوامی سطح پر منعقد ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اٹوٹ رشتہ دونوں اقوام کی اہلبیت(ع) سے مشترکہ محبت کا نتیجہ ہے ، اہل بیت عصمت و طہارت (ع) نے ہمارے درمیان جغرافیائی سرحدیں ختم کر دی ہیں۔ ہمارے درمیان جغرافیائی سرحد نہیں ہے، ہمارے درمیان سیاسی سرحد نہیں ہے؛ ہمارے پاس اہل بیت (ع) ہیں، ہمارے پاس اہل بیت (ع) کی محبت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراقی عوام کی جانب سے ایران کے شہید اور عظیم رہبر(رح) کے جنازے کا شاندار استقبال جو کہ لاکھوں افراد پر مشتمل تھا دشمنوں کے لئے ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے اور وہ اس وحدت کو توڑنے کے لئے بھرپور سازشیں کر رہے ہیں۔
دونوں اقوام کے مابین اختلاف پیدا کرنے کی دشمن کی سازشوں کے بارے میں انتباہ
آستان قدس رضوی کے متولی نے عراقی عوام، اس ملک کی عالی مرجعیت بالخصوص آیت اللہ سیستانی، بزرگوں، علماء، قبائل اور قبائلی سرداروں کی قدردانی کرتے ہوئے، ایران اور عراق کی دو قوموں کے تعلقات کو کمزور کرنے کی دشمنوں کی کوششوں سے خبردار کیا۔
آیت اللہ احمد مروی نے عراقی عوام کو اس ملک سے امریکی دہشت گردوں کے انخلا اور ان کاصفایا ہوجانے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ عراق، یہ پاک اور بہادر سرزمین اور اہل بیت عصمت و طہارت (ع) کی محبت کی سرزمین، امریکی دہشت گردوں کے وجود کی آلودگی سے پاک ہو گئی ہے اور یہ مبارک باد کی مستحق ہے۔
تاہم انہوں نے تاکید کی کہ ممکن ہے کہ امریکی اب فوجی موجودگی کے لحاظ سے عراق میں موجود نہ ہوں، لیکن وہ اپنے عزائم سے باز نہیں آئیں گے۔ وہ ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور ایران، عراق اور دوسرے مقامات پر موجود اپنے خودفروختہ عناصر اور ایجنٹوں کے ذریعے اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ خطے کی دو عظیم اور مؤثر قوموں کا اتحاد امریکہ کو قبول نہیں؛ امریکہ اس اتحاد کو برداشت نہیں کر سکتا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے منصوبے اور سازشیں تیار کرتا ہے۔ وہ پروپیگنڈے، ذرائع ابلاغ کی مدد اور اپنے داخلی عناصر اور کارندوں کے ذریعے ایران اور عراق کی اقوام کے درمیان جدائی اور دوری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دونوں اقوام کے مابین بدگمانی پیدا کرنے والی ہر بات ،امریکی بات ہے
آستان قدس رضوی کے متولی نے تفرقہ انگیز رجحانات کے مقابلے میں ہوشیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ عزیزو، یقین رکھئیے کہ جو بھی آواز، صدا، بات، پیغام یا تحریر ان دونوں قوموں کے درمیان بدگمانی، دوری اور اختلاف پیدا کرے، اس میں امریکہ کا ہاتھ ہے؛ یہ قلم امریکی قلم ہے، یہ زبان امریکی زبان ہے، یہ حرف امریکہ کا حرف ہے۔
انہوں نے ایران اور عراق کے عوام کے درمیان موجود ہم دلی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنا چاہیے، جو آج بحمداللہ عروج پر ہے۔ ایرانی اور عراقی موکبوں کا یہ اتحاد، یکجہتی اور ہم رنگی اسی اتحاد کی علامت اور مظہر ہے۔
آیت اللہ احمد مروی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر ایران میں مختلف مواقع پر عراقی موکبوں کی شرکت اور عراق میں مذہبی تقریبات اور مناسبتوں میں ایرانی موکبوں کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے خادموں اور موکب داروں کی خدمات اور کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اربعین اور مختلف مناسبتوں، بشمول امام جواد (ع) اور امام حسن عسکری (ع) کی شہادت کے موقع پر سامرا، کاظمین، کربلا اور نجف میں ایرانی موکبوں کی موجودگی بہت قابلِ قدر ہے۔ ان شاء اللہ خداوندِ متعال دونوں ملکوں کے درمیان موجود اس اتحاد، یکجہتی، ہم دلی اور محبت کو روز بروز مزید مستحکم، گہرا اور مضبوط فرمائے۔