آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 270
21:25

2026/05/25

شہید  رئيسی  کا علمی ورثہ؛مدرسہ مروی میں تدریس سے لے کر تخصصی فقہی مباحث تک

07
بہت سے افراد شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کو انتظامی عہدوں کے منصب دار، عدلیہ میں اہم کردار اور صدارتی عہدے پر انتھک محنت کی وجہ سے جانتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کا وہ پہلو جسے میڈیا پر کم بیان کیا گیا ہے وہ فقہ و اصول میں ان کی علمی جامعیت ہے ،شہید رئیسی نہ صرف نظام میں مؤثر تھے بلکہ وہ ایک مجتہد تھے جو قانونی اور فقہی اصولوں پر مکمل عبور رکھتے تھے ،ان کے مکتوب آثار ان کی دقتِ نظر کے گواہ ہیں۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ شہدائے خدمت کی سالانہ برسی کی مناسبت سے ہم نے آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے شعبہ فقہ و اصول کے محقق اور فاؤنڈیشن کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر حجت الاسلام والمسلمین شریعتی تبارسے گفتگو کی تاکہ پہلی بار شہید رئیسی(رح) کی علمی تصانیف  اور ان کی اشاعت کا تفصیلات سے جائزہ لے سکیں،اس گفتگو میں ایک ایسے عالم دین کا علمی پہلو واضح ہوا جس نے سیاست کو فقہی بنیادوں سے جوڑا تھا۔ 
جناب شریعتی تبار، بہت سے لوگ شہید رئیسی کو انتظامی حوالے سے جانتے ہیں ،آپ ان کی علمی تصانیف اور دروس سے قریب سے واقف ہیں فقہ و اصول کے میدان میں ان کی علمی شخصیت کا کس طرح سے جائزہ لیتے ہیں؟
جی ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ ان کا انتظامی اور مدیریتی چہرہ اتنا نمایاں تھا کہ شاید ان کے علمی پہلوؤں پر بہت کم توجہ دی گئی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ حوزوی علوم میں ایک خاص صلاحیت کے حامل تھے۔ مثال کے طور پر، جس دور میں وہ عدلیہ میں نائب سربراہ یا پراسیکیوٹر جنرل جیسی اہم اور سنگين ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، وہ کبھی علمی فضا سے دور نہیں ہوئے۔ وہ تہران میں دیوانِ عالیٰ یا اعلی عدلیہ کے اعلیٰ رتبہ ججوں کو پیچیدہ قانونی اور عدالتی مباحث پڑھاتے تھے۔
ان تخصصی نشستوں کا حاصل آج «قواعدِ فقہ» کے عنوان سے تین جلدوں پر مشتمل کتاب کی صورت میں شائع ہوا ہے، جس میں تین شعبے یعنی «قواعد فقہِ قضائی»، «قواعد فقہِ عبادی» اور «قواعد فقہِ اقتصادی» شامل ہیں۔ کسی شخص کا ملک کی اعلیٰ عدالتی سطح کے لیے قواعدِ فقہ کو واضح کرنا، ان کی قانونی اور فقہی بنیادوں پر حیران کن گرفت کا ثبوت ہے۔
طلاب اورعلماء میں ’’کفایۃ الاصول‘‘ جیسی کتاب کی تدریس کسی بھی استاد کےعلمی درجے کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے ، تہران کے مدرسہ مروی میں ان کی تدریس اور اصول کے اس مکمل دورے کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
 یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ انہوں نے نوے کی دہائی کے آغاز میں، تہران کے تاریخی مروی مدرسے میں، مرحوم آخوند خراسانی کی کتاب "کفایۃ الاصول" کا ایک مکمل اور دقیق دورہ پڑھایا۔ کفایہ ایک بہت بھاری اور نکات سے بھرپور کتاب ہے جسے ہر کوئی نہیں پڑھا سکتا۔ انہوں نے اس کتاب کو شروع سے آخر تک اعلی سطح پراور دقت نظر کے ساتھ طلاب کو پڑھایا۔ میرا ماننا ہے کہ جو شخص اس استدلالی اور مشکل متن کو مکمل طور پر پڑھا اور سکھا سکتا ہے، وہ یقیناً اجتہاد کے رتبے اور درجے کا حامل ہے۔ اصول فقہ پر یہ ان کی مہارت دراصل وہی قانونی بنیادیں تھیں جنہیں وہ بڑے انتظامی عہدوں پر استعمال کرتے تھے۔ 
آستان قدس رضوی کے متولی مقرر ہونے کے بعد یہ علمی سرگرمیاں مشہد مقدس میں بھی جاری رہیں؟
جی ہاں، انہوں نے مشہد مقدس میں بھی فقہ کا درسِ خارج شروع کیا، یہ نشستیں مشہد کے علماء اور فاضل طلباء کی جانب سے بے حد پسند کی گئیں۔ مشہد میں ان کے درس کا محور’’فقہِ وقف‘‘ تھا، جسے امام خمینی (رح) کی کتاب ’’تحریر الوسیلہ‘‘ کی بنیاد پر زیرِ بحث لایا جاتا تھا۔ آستان قدس رضوی کے متولی کے عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے، جو کہ ایران کا سب سے بڑا اوقافی ادارہ ہے، وہ وقف کے جدید مسائل اور عملی چیلنجوں سے براہِ راست نبردآزما تھے، اور یہی وجہ تھی کہ ان کا درسِ خارج ایک مکمل طور پر عملی اور مسائل کو حل کرنے والا درس تھا؛ نہ کہ محض کوئی نظریاتی بحث و گفتگو۔
ایسا کیا ہوا کہ آپ نے ان دروس کو اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں زیور طبع سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا؟
اس کام کا آغاز اس وقت ہوا جب میں فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔ خود شہید رئیسی نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ایسے آثار موجود ہیں اور دروس کا ایک حصہ ان کے شاگردوں نے نقل کیا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا یہ مباحث ایک منظم تحقیقی کام کی شکل دے سکتے ہیں یا نہیں۔ دراصل اشاعت کا اصل مقصد اس علم کو ثبت کرنا اور اسے علمی حلقوں تک پہنچانا تھا۔ انہوں نے اپنی انکساری اورتواضع  کے ساتھ اپنے نوٹ ہمیں فراہم کر دیے تاکہ ضروری جائزہ لیا جا سکے۔
ان دروس کو فاؤنڈیشن میں معیاری اور علمی کتب میں تبدیل کرنے کا عمل کیسے طے پایا؟
جی ہاں، یہ بہت دقیق کام تھا۔ پہلے ان باتوں کو تحریری شکل اور علمی زبان میں ڈھالا  گیا، ہم نے فاؤنڈیشن کے فقہی گروپ میں چند ماہر ساتھیوں کے تعاون سے کام شروع کیا۔ ادبی اصلاحات کی گئیں اور اس سے بھی اہم کام “تخریجِ مصادر” (حوالہ جات کی جانچ) تھا۔ تمام فقہی منابع، روایات اور احادیث جن کا انہوں نے درس میں حوالہ دیا تھا، ان کو احتیاط کے ساتھ نکال کر ماخذ درج کیے گئے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ خود شہید (رح) بھی اس تحقیق کی نگرانی کرتے تھے۔ جن مقامات پر انہیں محسوس ہوتا کہ دروس کی منتقلی میں بحث کی وضاحت میں کوئی نقص ہے یا کوئی بات دہرائی گئی ہے، تو وہ خود میدان میں آتے اور اصلاح کرتے تھے۔ اس سفر میں انہوں نے مجھے مکمل اختیار دے رکھا تھا تاکہ کام اعلیٰ ترین علمی معیار کے ساتھ آگے بڑھے۔
اگر ہم تنقیدی اور علمی نگاہ سے ان دروس کو دیکھیں تو حوزہ علمیہ کے بڑے مراجع کے دروس کے مقابلےمیں کس سطح پر ہیں؟
شہید رئیسی خود اس معاملے میں بہت حقیقت پسند اور متواضع تھے۔ ہم ان سے کہتے تھے اور وہ خود بھی تسلیم کرتے تھے کہ مثلاً ان مباحث کا موازنہ آیت اللہ وحید خراسانی جیسے مراجع کے انتہائی سنگین اور اعلیٰ سطحی دروس سے نہیں کیا جا سکتا۔ ان مباحث کی سطح شاید تھوڑی “نرم” تھی اور مخاطبین کے لیے زیادہ  آسان اور علمی انداز میں ترتیب دی گئی تھی۔ لیکن وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ پیش کردہ مطالب علمی اتقان (پختگی) کے اعتبار سے درست اور صحیح ہیں۔ درحقیقت، ان آثار نے فقہ کو تجریدی (نظریاتی) حالت سے نکال کر عدلیہ کی  اور انتظامی ضروریات کی سطح پر لا کھڑا کیا تھا۔
سوال: آپ کی نظر میں یہ کتابیں کن قارئین کے لیے زیادہ مفید ہیں؟ کیا حوزہ کے طلباء یا یونیورسٹی کے طلباء بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں؟
یہ تخصصی کام ہیں ان کے بنیادی قارئین فقہ و اصول کے طلباء اور محققین ہیں ، لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں فقہ و حقوق کے شعبے میں بیچلر اور اس سے اعلیٰ سطح پر “قواعدِ فقہ” کے نام سے ایک مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ بات یہ چل رہی تھی کہ ان آثار کو یونیورسٹیوں میں نصابی کتاب کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ نیز ججوں، عدلیہ کے کارکنوں اور اوقاف کے ماہرین کے لیے یہ کتابیں ایک بہترین تحقیقی ذریعہ ہیں جو تحقیق کے نئے راستے کھولتی ہیں۔
قواعدِ فقہ کے شعبے میں اتنی زیادہ عربی اور فارسی کتابوں کے درمیان، شہید رئیسی کے آثار کی کیا امتیازی خصوصیت ہے؟
دیکھیے، کلاسیکی یا روایتی مصادر جیسے کہ آیت اللہ بجنوردی،  ايت اللہ مکارم شیرازی، آیت اللہ سبحانی یا آيت اللہ فاضل لنکرانی کے قواعد زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ شہید رئیسی نے ان اصیل مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے بحثوں کو فارسی زبان اور اس انداز میں پیش کیا ہے جو آج کے مخاطب کے لیے زیادہ قابل فہم ہے۔ اگرچہ فارسی مصادر بھی موجود ہیں، لیکن یہ مجموعہ ایک ایسے فقیہ کی نظر کردہ منقح متن کے طور پر جس کا عدلیہ کے شعبے میں عملی کردار رہا ہو، ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
کیا ان کی کوئی اور تحریری کتاب بھی تدوین کے مراحل میں تھی جو شہادت کی وجہ سے ادھوری رہ گئی ہو؟
جی، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  ایک کتاب "اخلاق" کے موضوع پر بھی زیر بحث تھی، جس کے مضامین تو نقل کرلئے گئے تھے لیکن اسے کچھ تلقیح اور حتمی تدوین کی ضرورت تھی، لیکن ان کی شہادت کے باعث یہ کام ادھورا رہ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی علمی شخصیت انہی آثار سے بخوبی ثابت ہوتی ہے جو انہوں نے اعلیٰ سطح کے طلاب کے لیے "کفایہ" کی تدریس اور اعلی عدلیہ کے ججوں کے لیے "قواعد فقہ" کی صورت میں بطور میراث چھوڑے ہیں۔
آخر میں، بحیثیت ایک شخص جو گھنٹوں ان کی کتب اور فکر سے مأنوس رہا ہے، آپ کے ذہن میں شہید رئیسی کی اخلاقی اور عملی خصوصیات کی کیا تصویر ہے؟
شہید رئیسی انصافاً ایک مخلص، انتھک، محنتی اور انتہائی منکسر المزاج انسان تھے۔ اتنے مصروف ہونے کے باوجود درس و بحث اور تدریس کا شوق رکھنا ان کے علمی مزاج کی علامت ہے۔ وہ رفاقت کے آداب اچھی طرح جانتے تھے۔ میں کبھی نہیں بھولوں گا جب انہوں نے فرمایا: "جب میں کتاب وقف کا مطالعہ کرتا ہوں، تو میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں کہ تم نے اسے منقح کیا۔" وہ قدر دان تھے اور آخر کار بہترین انجام یعنی شہادت کے ساتھ انہیں اس اخلاص اور عوام دوستی کا صلہ ملا۔ ہمیں امید ہے کہ یہ علمی کتب ان کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوں گی۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
ایرانی اور عراقی عوام، اسلام اور مقدسات کے دفاع میں ہم عہد اور ہم سفرہیں دشمن ایران اور عراق کے درمیان پائے جانے والے گہرے رشتے کو توڑنے کے درپے ہے؛آیت اللہ احمد مروی عراقی قبائل کے سرداروں کی حرم امام رضا (ع) میں حاضری مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال - ۱ مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال 2 حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان خواتین کےلئے مجلس عزاء کا انعقاد حرم امام رضا(ع) کے بست شیخ بہائی کا افتتاح آستان قدس رضوی اور علمی وثقافتی تعاون کی توسیع میں شہید صدر عالمی ایوارڈ کی کمیٹیوں کی سرگرمیاں اردو زبان خواتین کے لئے حرم امام رضا(ع) میں مجلس عزاء کا انعقاد مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال ہیلتھ پر مبنی خدمات کے بہترین قومی ایکسپورٹر کے عنوان سے رضوی اسپیشلٹی ہاسپٹل کا انتخاب عالمی سائنسی اولمپیاڈکے 60 میڈلز جیتنے والے طلبا اور قومی داخلہ ٹیسٹ کے ٹاپ رینک ہولڈرز کو حرم امام رضا(ع) میں خراج تحسین علم و ترقی کی راہ میں خدا سے رابطہ برقرار رکھیں؛ آیت اللہ احمد مروی اہلبیت(ع) کی محبت ، ایرانی اور عراقی عوام کے مابین نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے؛آیت اللہ احمد مروی ایران اور عراق کا محاذ ایک ہی ہے؛ شیخ حسن السعدی شعبہ بین الاقوامی امور میں دارالعلم کا سلسلہ علمی مرکز تک قم یونیورسٹی میں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کے اجلاس کے انعقاد کے تقاضوں کا جائزہ لیا گیا عراق کے موکب داروں نے حرم امام رضا(ع) کے رواق دارالذکر میں بھائی چارگی کا نعرہ بلند کیا ایرانی قوم کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے صلے میں عراقی موکب داروں کی تجلیل و تکریم کے لئے تقریب کا انعقاد جب دنیا کے معمار کسی صدمے کو تسکین دینے کے لئے ہم آواز بن جاتے ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کی پچیسویں پری کانفرنس کا قم میں انعقاد