آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛دختر پیغمبر گرامی اسلامی حضرت فاطمہ زہراء(س) کے ایّام شہادت کی مناسبت سے اردو زبان زائر اور مجاور خواتین کے لئے مجلس عزاء کا انعقاد کیا گیا جس میں حضرت فاطمہ(س) کی سیرت میں بندگی ، خیر خواہی اور ولایت کے دفاع کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔
اسلامک اسکالر محترمہ عزیز فاطمہ رضوی نے اہلبیت(ع) کی نظر میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت پر گفتگو کرتے ہوئے خدا کی معرفت اور بندگی کو حضرت فاطمہ(س) کی سیرت کی نمایاں خصوصیات قرار دیا اور حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی ذاتی اور سماجی زندگی کو اپنے لئے نمونہ عمل بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے حدیث کساء میں حضرت زہراء(س) کی منزلت اور اہلبیت(ع) کے تعارف میں پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہلبیت(ع)کی معرفت انسان کے کردار سے ظاہر ہونی چاہئے کیونکہ ان کی تعلیمات پر عمل کرنے سے روحانی ترقی ملتی ہے اور خداوند متعال سے قربت کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
حضرت فضہ(س)، مکتبِ اہلبیت(ع) کی تربیت یافتہ خاتون کی ایک مثال
محترمہ رضوی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں حضرت زہرا (س) کی خادمہ حضرت فضہ (س)کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے انہیں انسان کی بلندی پر اہلِ بیت (ع) کی تربیت اور ان کی ہم نشینی کے اثر کی ایک مثال قرار دیا، اور ایمان، اخلاص اور دینی اقدار سے وابستگی کو روحانی ترقی کے عوامل میں شمار کیا۔
انہوں نے حضرت فاطمہ زہراء(س) کی عبادت اور ان کی طولانی نمازوں سے متعلق روایات بیان کرتے ہوئے عبادت میں معرفت اور حضور قلب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ(س) اپنے لئے دعا مانگنے سے پہلے ہمسائیوں کے لئے دعا کرتی تھیں ، اس روایت سے حضرت زہرا (س) کی دوسروں کے لئے خیرخواہی اور دوسروں کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھنے کا سبق ملتا ہے ۔
حضرت فاطمہ زہراء(س) کی زندگی کا ایک اہم پہلو؛ ولایت کا دفاع
محترمہ رضوی نے نبی مکرم اسلام(ص) کی رحلت کے بعد کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئےکہا کہ حضرت فاطمہ زہراء(س) نے امیرالمؤمنین حضرت علی(ع)کی ولایت کا دفاع کیا اور آپ(س) جناب امیر کی ولایت پر پایبند رہیں۔
اپنے خطاب میں محترمہ رضوی نے حضرت فاطمہ زہراء(س) کی مظلومیت اور مصائب بیان کئے اور حضرت زہراء(س) کی تشییع و تدفیین سے متعلق وصیت کا ذکر کرتے ہوئے اہلبیت(ع) کی سیرت پر عمل پیرا ہونے اور ان کی معرفت حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
مجلس عزاء کے اختتام پر ’’خورشید ہشتم‘‘ گروپ نے مصائب کے اشعار پڑھے اور محترمہ جمیلہ جعفری نے نوحہ خوانی کی، مجلس عزاء کا اختتام حضرت فاطمہ زہراء(س) کے سوگ میں ماتم داری سے ہوا۔