آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ21 اکتوبر 2026 بروز بدھ کو حرم امام رضا(ع) کے ولایت ہال میں داخلہ ٹیسٹ کے ٹاپ رینک ہولڈرز،علمی میدان میں لائق افراد اور اولمپیاڈ کے میڈیلز جیتنے والے طلبا سے ہونے والی ملاقات کے دوران آیت اللہ احمد مروی نے ان کامیابیوں پر طلبا، ان کے خاندان اور اساتذہ کی خدمت میں مبارک باد پیش کی اورتاکید کی کہ ان صلاحیتوں اور علمی کامیابیوں کا اصل منبع و ماخذ خداوند متعال کی ذات ہے۔
انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ کامیابی کا حصول درحقیقت کئی عوامل کے فراہم ہونے کا نتیجہ ہے ،کہا کہ ذہانت،صلاحیت،ذاتی محنت،شفقت اور امید سے بھرا خاندان ، مطالعہ کے مناسب ماحول اور قابل اساتذہ،معلمین اور مربیوں کی موجودگی یہ سب انسان کے کامیابی کی چوٹیوں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ہمیں ان نعمتوں کو خداوند متعال کی جانب سے عطا کردہ ہدیہ سمجھنا چاہئے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ بہت سے لوگ ایسی کامیابیوں کے حصول کی آرزو رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس صلاحیت، وسائل، خاندانی ماحول یا موزوں مربی نہیں ہوتا، کامیابی کے عوامل میں سے ایک انسان کی اپنی محنت بھی ہے، لیکن کامیابی کے سفر میں بہت سے دیگر عوامل بھی شامل ہیں؛ اس لیے خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے اور کامیابیوں کو خداوند متعال کا لطف و کرم اور فضل و عنایت جاننا چاہئے۔
آیت اللہ مروی نے علم و ترقی کی راہ میں اللہ کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر گزار رہے گا، تو اس کے لیے مزید نعمتوں کے حصول اور بڑی کامیابیوں کے حصول کے راستے کھلتے جائیں گے۔
امام رضا(ع) کے زائرین کی آمد؛ رضوی کرامت کا مظہر
آستان قدس رضوی کے متولی نے امام رضا(ع) کے علمی و روحانی مقام کا ذکر کرتے ہوئے ’’عالم آل محمد(ص)‘‘ کے لقب پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ لقب حضرت امام جعفر صادق(ع) نے حضرت امام علی رضا(ع) کے لئے استعمال کیا تھا ، جب انہوں نے اپنے بیٹے امام کاظم(ع) سے فرمایا تھا کہ عالم آل محمد(ع) تمہاری نسل سے ہے اور کاش میں انہیں دیکھ پاتا۔
آيت اللہ مروی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ امام رضا (ع) کے کرم کو صرف مریضوں کی شفا اور حاجات کی تکمیل تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، کہا کہ اگرچہ یہ واقعات بھی رونما ہوتے ہیں اور ان کی معتبر اور مستند مثالیں موجود ہیں، لیکن یہ حضرت امام رضا (ع) کے کرم کے سمندر کا ایک قطرہ ہیں۔
آیت اللہ مروی نے حرم امام رضا(ع) میں زائرین کی کثیر تعداد میں آمد کو اس کرم کا ایک عظیم مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں زائرین کی حاضری بذات خود سب سے بڑا کرم ہے ،یہ کہ مختلف شہروں اور ممالک سے مختلف عمر اور مختلف حالات کے حامل انسان ، ایک دوسرے کو پہچانے بغیر شوق سے اس آستانہ پر حاضر ہوتے ہیں یہ ایک حیران کن مظہر ہے ۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ زائرین کی آمد خاص مواقع تک محدود نہیں ہے بلکہ رات دن جاری رہتی ہے ،مادی کشش اور جاذبیت بار بار دیکھنے سے اپنی تازگی کھو دیتی ہے لیکن زیارت ہر بار انسان کے لئے ایک نیا تجربہ رقم کر سکتی ہے اور لاتعداد افراد بار بار امام رضا(ع) کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور ہر بار ایک روحانی اور مختلف تجربہ حاصل کرتے ہیں۔
حضرت امام علی رضا(ع) کی زیارت؛سکون کے حصول اور پریشانیوں کے حل کا ذریعہ
آستان قدس رضوی کے متولی نے زائرین کے تجربات اور تاثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی امام رضا(ع) کی زیارت کے لئے حاضر ہوتا ہے اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اسے فائدہ ضرور حاصل ہوگا۔ ہو سکتا ہے اسے بیماری سے شفا ملے، یا اسے ذہنی سکون، اطمینانِ خاطر اور ایک نیا روحانی تجربہ حاصل ہو۔ بہت سے زائرین نے ان اثرات کو محسوس کیا ہے اور ان کے بارے میں گفتگو بھی کرتے ہیں۔
آخر میں آیت اللہ مروی نے امام رضا(ع) کو امام رؤف اوراللہ کے لطف و کرم کا مظہر ہونے کے عنوان کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام زائرین اور عقیدت مند، امام کی زیارت کے روحانی اثرات و برکات سے بہرہ مند ہوں گے۔
ایران کا فیوچر؛علمی طور پر باصلاحیت نسل کی تربیت میں ہے
اس ملاقات کے دوران فرھنگستان فارسی زبان و ادب یا قومی فارسی اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی حداد عادل نے ملک کے انسانی سرمائے کے تحفظ اورقابل اور باصلاحیت افراد کی پرورش کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکام سے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ملک کے نوجوانوں کی علم اور کھیل کے میدانوں میں کامیابوں پر عوام کی خوشیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل دنوں میں جب عوام جنگ کی پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، علمی اور کھیلوں کی فتوحات کی خبر زیادہ قیمتی ہو جاتی ہے اور قوم کی خوشی اور امید کا باعث بنتی ہے۔
حداد عادل نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ اولمپیاڈ کے تمغے جیتنے والوں کی علمی محنت کھلاڑیوں کی گولڈ میڈل حاصل کرنے کی محنت سے کم نہیں، کھلاڑیوں کی محنت مقابلہ کے میدانِ میں نظر آتی ہے، لیکن علمی نوجوانوں کی ذہنی اور فکری محنت آسانی سے نظر نہیں آتی؛ اس لیے شاید عام لوگ کھیلوں کی کامیابیوں کی طرح اولمپیاڈ والوں کی کامیابیوں کی دشواری ، سختی اور اہمیت سے آشنا نہیں، جبکہ سائنسدان، یونیورسٹی کے اساتذہ اور ماہرین ان محنتوں کی قدر بخوبی جانتے ہیں۔
عالمی اولمپیاڈذ میں ایرانیوں کی شرکت کا آغاز
ڈاکٹر حداد عادل نے کہا کہ تقریباً چالیس سال پہلے یعنی 1986 میں جب میں نائب وزیر تعلیم اور تحقیق و منصوبہ بندی ادارے کا سربراہ تھا بین الاقوامی ریاضی کے مقابلوں سے واقفیت کے بعد میں نے ایرانی طلبا کی ان مقابلوں میں شرکت کی زمین ہموار کرنے کا فیصلہ کیا۔
حداد عادل نے کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں عالمی ریاضی اولمپیاڈ میں ایران کی پہلی ٹیم کی روانگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی طلبا نے ان مقابلوں میں اپنی پہلی شرکت میں، ماضی کا کوئي تجربہ نہ ہونے کے باوجود، کانسی کا تمغہ حاصل کیا اور ایران نے 42 ممالک میں چھبیسواں مقام حاصل کیا۔
حداد عادل نے ایرانی نوجوانوں کی علمی صلاحیتوں اور بیرون ملک علمی مراکز کی جانب سے انہیں اپنی طرف راغب کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ، ملک کے انسانی وسائل و سرمائے کے تحفظ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نےکہا کہ ایران کو اپنے مسائل کے حل اور ترقی کے لیے اپنے لائق وباصلاحیت افراد کی علمی قوت کی ضرورت ہے، کوئی بھی انقلاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ ملک کے انتظام و انصرام کے لیے باصلاحیت اور کارآمد انسانی قوت تربیت نہ کی جائے، اور فتح کے بعد بھی تعلیمی و علمی تحریک کا تسلسل برقرار نہ رہے۔
انہوں نے عام سہولیات اور قومی اثاثے کے نوجوانوں کی تعلیم اور کامیابی کی زمین ہموار کرنے میں اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے کہا کہ ان نوجوانوں کی کامیابی کا کچھ حصہ ان کی اپنی محنت اور ان کے خاندانوں کی توجہ کا نتیجہ ہے، لیکن وہ وسائل جو عوام، بشمول کم آمدنی والے طبقات، ٹیکس اور دیگر عام ذرائع کی صورت میں فراہم کرتے ہیں، ان مواقع کی فراہمی میں بھی حصہ رکھتے ہیں؛ اس لیے نوجوانوں کو اپنے ملک کے حوالے سے اس ذمہ داری کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں لائق اور قابل افراد کی زندگی کے روحانی پہلوؤں کو تقویت دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہیں دینداری اور اخلاق کو علمی ترقی کے ساتھ برقرار رکھنے کی تلقین کی اور کہا کہ ایسا علم جو اخلاق اور روحانیت سے جدا ہو جائے، وہ انسانی خدمت کے بجائے انسانیت کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔