آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ایرانی طلبا کی 2026 کے بین الاقوامی سائنسی مقابلوں میں قابل ذکر کامیابیوں پر تقریب کا انعقاد کیا گیا،نوجوانوں کے ریسرچ کلب کے سربراہ نے بتایا کہ اس سال عالمی اور بین الاقوامی سائنسی اولمپیاڈ میں ایران کے گولڈ میڈلز کی کل تعداد18 تک پہنچ گئی ہے جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد گیارہ تھی۔
ایرانی طلبا کی کامیابیوں میں سے ایک، عالمی ایسٹرو فزکس (ستارہ شناسی) اور فلکی طبیعیات کے اولمپیاڈ میں ایران کی قومی ٹیم کے چیمپئن بننے کی کامیابی ہے، جس نے پانچ سونے کے میڈلز حاصل کیے۔ ایران نے مسلسل تیسرے سال اس مقابلے میں چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، عالمی جغرافیہ اولمپیاڈ میں ہلیا خدابنده لو نے کانسی کا میڈل جیتا، جبکہ عالمی پوسٹر مقابلے میں ایران کی ٹیم نے ’’دریاچہ ارومیہ‘‘ کے موضوع پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
اپنی کامیابیوں کو خدا کی عنایت سمجھیں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں
آستان قدس رضوی کےمتولی نے آیت اللہ احمد مروی نے طلبا کی سائنسی کامیابیوں پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ خدا کی ان نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہئے اور امام رضا(ع) کی روحانی عظمت کے احترام اور ملک کی سربلندی کے لئے علمی و سائنسی صلاحیتوں کے استعمال پر زوردیتے ہوئے کہا کہ انسانی کامیابیوں میں بہت سے عوامل شامل ہوتے ہیں، جیسے: ذہانت، صلاحیت، ذاتی محنت، والدین کی شفقت، پڑھائی کے لیے مناسب ماحول، اور بہترین اساتذہ و مربیان۔ یہ تمام عوامل مل کر کامیابی کا راستہ بناتے ہیں، لہٰذا ان کامیابیوں کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھنا چاہیے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ علمی کامیابی کے خواہاں ہوتے ہیں لیکن ان کے پاس وہ صلاحیت یا مناسب ماحول نہیں ہوتا۔ اگرچہ انسانی محنت اہم ہے، لیکن دیگر عوامل بھی ضروری ہیں، اس لیے کامیابیوں کو اللہ کا عطیہ سمجھنا چاہیے۔
علم کو ایمان اور ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہئے
ایران کے علمی و سائنسی اولمپیاڈ کے بانی ڈاکٹر غلام علی حداد عادل نے بھی تقریب کے دوران تمام منتخب افراد اور ان کے اہل خانہ کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہوئے ایران میں سائنسی اولمپیاڈ تشکیل پانے کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی طلبا کا ان مقابلوں میں شرکت کے لئے پہلا قدم 1986 میں اٹھایا گیا اور بتدریج مختلف سائنسی شعبوں کو اس سے جوڑا گیا ، ان کے مطابق، بین الاقوامی مقابلوں میں ایرانی طلبا کی کامیابیاں ملک کی سائنسی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں اور ان صلاحیتوں کی شناخت اور پروان چڑھانے کے لیے مزید زمین ہموار کرنی چاہیے۔
انہوں نے تاکید کی کہ علم اگر اخلاق اور ایمان سے عاری ہو جائے تو وہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے لائق اور قابل طلبا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی علمی ترقی کو ذمہ داری، دینداری اور عوامی خدمت کے ساتھ جوڑیں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ اولمپیاڈ جیتنے والے طلبا کے لیے ایک خصوصی یونیورسٹی قائم کی جائے تاکہ وہ ایک مخصوص علمی ماحول میں اپنی تحقیق اور تعلیم جاری رکھ سکیں۔
تقریب کے دوران آستان قدس رضوی کے علمی و ثقافتی امور کے سربراہ، ڈاکٹر عبدالحمید طالبی نے کہا کہ زائرین کی خدمت کے ساتھ ساتھ علمی اور ثقافتی سرگرمیوں پر توجہ دینا آستان قدس رضوی کی نتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے والدین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بچوں کی کامیابیوں میں ان کی محنت کے ساتھ ساتھ والدین کی دعاؤں اور کاوشوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی و سائنسی مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد یہ نوجوان جب واپس آتے ہیں، تو وہ امام رضا (ع) کے ساتھ اپنے روحانی تعلق کا اظہار کرتے ہوئے حرم مطہر کے ساتھ اپنا مضبوط رشتہ قائم کرتے ہیں۔
حرم امام رضا(ع) کے علمی و ثقافتی ادارے کے سربراہ نے عالمی مقابلوں میں تمغے جیتنے والے طلبا کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں نے بین الاقوامی میدانوں میں اعزاز حاصل کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کا پرچم بلند کیا اور ملک واپس آنے کے بعد بھی، حضرت امام رضا (ع) سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے، حرم مطہر رضوی سے اپنا روحانی تعلق ظاہر کیا۔
جناب طالبی نے حرم امام رضا(ع) کی علمی و سائنسی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مختلف علمی و تحقیقی شعبوں میں سرگرم ہے ، اعلیٰ تعلیم کے کورسز، علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی، امام رضا (ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی اور تحقیقی سرگرمیوں جیسی صلاحیتیں نوجوانوں کے اس ادارے سے زیادہ تعلق کی زمین ہموار کر سکتی ہیں۔
آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹاپ رینک ہولڈرز کا روضہ منورہ امام رضا(ع) کے ساتھ علمی و روحانی تعلق مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
علمی و سائنسی سرگرمیوں کو امام رضا(ع) سے جوڑنے پر تاکید
ڈاکٹر محمد حسین متالہی نے اپنی گفتگو میں زیارت کے روحانی تجربے کو علمی طبقے کی روزمرہ زندگی میں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایسا نظام فراہم کیا جائے تاکہ اساتذہ، محققین اور علمی سرگرمیوں سے وابستہ افراد امام رضا (ع) کی خدمت کی نیت سے تحقیقی سرگرمیاں اور نوجوان صلاحیتوں کی تربیت جاری رکھ سکیں۔ نیز انہوں نے تعلیم کی حمایت، سائنسی ٹیموں کی تیاری اور ملکی صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے حرم مطہر رضوی اور نوجوان محققین کے ریسرچ کلب کے تعاون کی صلاحیت کی طرف اشارہ کیا۔
جغرافیہ میں عالمی میڈل جیتنے والی ہلیا خدا بندہ لو، کی طرف سے تعلیمی انصاف میں توسیع کا مطالبہ
ہلیا خدابندہ لو، عالمی جغرافیہ اولمپیاڈ کے کانسی کے تمغے جیتنے والی طالبہ نے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مقابلوں میں شرکت صرف تمغہ حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایران کی صلاحیتوں اور حقائق کو دیگر ممالک کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے طلبا کے تعلیمی وسائل و ذرائع اور اولمپیاڈکی تیاری کے مواقع تک رسائی کی توسیع کی ضرورت پر زور دیا اور تجویز پیش کی کہ تعلیمی کورسز اور حمایت کے ذریعے سائنسی صلاحیتوں کی نشوونما کا امکان بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔
انسانی علوم کے داخلہ ٹیسٹ میں ساتویں پوزیشن حاصل کرنے والی زہرا قلی زادہ نے کامیابی کو خدمت میں بدلنے پر زور دیا
زہرا قلی زادہ، قومی داخلہ ٹیسٹ کے علوم انسانی گروپ میں ساتویں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ نے اپنی گفتگو میں اپنے علمی سفر میں توسل اور امام رضا (ع) کی یاد کو اہم قراردیا اورتعلیمی کامیابی کو عوام اور دین کی خدمت کا موقع بتایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رینک حاصل کرنا اور علمی مقام تک پہنچنا بذات خود حتمی ہدف نہیں اور ان کامیابیوں کی قدر اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب انہیں ذمہ داری اور معاشرے کی خدمت کے راستے پر ڈالا جائے۔
عالمی فلکیات اور فلکی طبیعیات اولمپیاڈ کے دوگولڈ میڈلز جیتنے والے طالب علم حسین معصومی نے علمی و سائنسی صلاحیتوں کی حمایت کا مطالبہ کیا
جناب حسین معصومی نے عالمی مقابلوں میں شرکت کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلبا کی تیاری اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی راہ میں ان کی روحانی حمایت ضروری ہے،انہوں نے قومی مقابلوں کے تمغے جیتنے والوں پر زیادہ توجہ دینے کی درخواست کی ان کا کہناتھا کہ اس سے ملک بھر میں مزید صلاحیتیں اجاگر ہوں گی۔
واضح رہے کہ تقریب کے اختتام پر آستان قدس رضوی کے متولی آیت اللہ احمد مروی اور ڈاکٹر غلام علی عادل کی موجودگی میں 28 قومی داخلہ ٹیسٹ میں ٹاپ رینک ہولڈرز اور 32عالمی سائنسی اولمپیاڈکے تمغے جیتنے والوں کو اعزاز اور انعام سے نوازا گيا ۔