آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 513
20:16

2026/10/31

دشمن ایران اور عراق کے درمیان پائے جانے والے گہرے رشتے کو توڑنے کے درپے ہے؛آیت اللہ احمد مروی

ذب
آستان قدس رضوی کے متولی نے ایرانی و عراقی عوام کے درمیان گہرے دینی، تاریخی اور اعتقادی رشتوں پر زور دیتے ہوئے عراق میں شہید رہبر  انقلاب  کے جنازے کی شاندار تشییع کو دونوں قوموں کے اتحاد اور محبت کا ایک لازوال مظہر قرار دیا اور کہا کہ اسلام کے دشمن بالخصوص امریکہ، ایران اور عراق کے اتحاد کو توڑنے کے درپے ہے اور اس راستے میں دشمن کے ہتھیار زہریلا پروپیگنڈا، افواہیں پھیلانا اور غلط ذہنیتوں کو جنم دینا ہے؛ لہٰذا دشمن کی فرقہ وارانہ سازشوں کے مقابلے میں ہوشیاری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ احمد مروی نے عراقی قبائلی سرداروں اور صوبہ خوزستان کے رؤسا کے ایک وفد سے ملاقات میں جو جمعرات 29اکتوبر2026 کو حرم امام رضا(ع) کے ولایت ہال میں منعقد ہوئی، عراقی مہمانوں اور خوزستان کے قبائلی سرداروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے حضرت امام رضا (ع) کے حضور حاضری اور رہبر معظم انقلاب کی دعوت پر مشهد مقدس کے سفر کی وجہ سے انہیں اس آستانہ کے خصوصی مہمان قرار دیا اور کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم حضرت ثامن الحجج (ع) کے زائرین کے خادم اور نوکر ہیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ حضرت امام رضا (ع) کو اہل بیت عصمت و طہارت (ع) میں ایک خاص مقام حاصل ہے، اور کہاکہ پیغمبر عظیم الشان اسلام (ص) نے اپنے دو بزرگوار فرزندوں کے بارے میں "پارہ تن" کی تعبیر استعمال کی ہے؛ ایک حضرت فاطمہ زہرا (س) کے بارے میں "فاطمہ بضعه منی" کے جملے کے ساتھ اور دوسرے حضرت رضا (ع) کے بارے میں "ستدفن بضعه منی بأرض طوس" کی تعبیر کے ذریعے۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ ایرانی قوم کو فخر ہے کہ رسول خدا (ص) کی ذریت کا پیکر مطہر اس سرزمین میں مدفون ہے اور اس نعمت کو ایک بہت بڑا امتیاز، سعادت، عزت اور ملک کی استقلال کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
انہوں نے عراقی عوام کے شاندار تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام نے صدر اسلام ہی سے اور امیرالمؤمنین علی (ع) کی حکومت کے دوران، حق اور عدالت کے دفاع میں ایک افتخار آمیز تاریخ چھوڑی ہے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ عراقی عوام نے جبر اور مسلط کیے جانے کے بغیر، اپنی صوابدید اور شناخت کے ساتھ اسلام کو قبول کیا، کہا کہ جس دور میں عراق کی سرزمین ساسانی حکومت کی قلمرو کا حصہ تھی، اس خطے کی عوام توحید اور عدالت خواہی کی ندا سننے کے بعد خود اس آئین کی طرف آئے اور اسے منتخب کیا۔ یہ انصاف پسندی کا جذبہ عراقی عوام کی تاریخ کے روشن ترین نقاط میں سے ایک ہے۔
امیرالمومنین (ع) کی حمایت میں عراقی عوام کا تاریخی کردار
آیت اللہ مروی نے خلافت امیرالمؤمنین علی (ع) کے دوران عراقی عوام کے  اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کے باوجود کہ حضرت علی (ع) مکہ میں پیدا ہوئے تھے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ حجاز میں گزارا تھا، خلافت تک پہنچنے کے بعد ان کی سب سے زیادہ حمایت عراقی عوام کی طرف سے کی گئی۔
جنگ جمل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب امیرالمؤمنین (ع) پر پہلی جنگ مسلط کی گئی، تو مہاجرین اور انصار کا ایک گروہ مدینہ سے حضرت کے ساتھ چلا، لیکن جنگ جمل میں ان کے سپاہیوں کی تعداد میں نمایاں اضافے اور محاذ حق کی فتح کا سبب بننے والی چیز عراقی عوام، بالخصوص کوفہ کے لوگوں کی موجودگی تھی۔ جنگ جمل اور صفین میں امیرالمؤمنین (ع) کے سپاہیوں کا بڑا حصہ عراقی عوام پر مشتمل تھا۔
آیت اللہ مروی نے اس بات پر زور دیا کہ عراق کی معاصر اور تہذیبی تاریخ بھی افتخار اور عزت سے بھری ہوئی ہے، اور کہا کہ عراقی عوام، خواہ شیعہ ہوں یا اہل سنت، ہمیشہ ظلم اور استکبارکے مقابلے میں ڈٹے رہے ہیں اور انہوں نے اغیار کو اس عظیم اور تہذیب ساز قوم کی سرنوشت پر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دی۔
عراق میں شہید رہبر معظم انقلاب کی تشییع جنازہ ؛ دونوں قوموں کے رشتے کا بے مثال مظہر
آستان قدس رضوی کے متولی نے عراق میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شاندار تشییع جنازے کو ایرانی اور عراقی عوام کے گہرے رشتے کی ایک کم نظیر مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کسی ملک کے رہنما کا جنازہ کسی دوسرے ملک میں اس عظمت اور شان کے ساتھ نکالا جائے۔
عراق میں شہید رہبر معظم انقلاب(رح) میں مختلف مذاهب اور ادیان کے پیروکاروں کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے ، جن میں شیعہ، اہل سنت، ایزیدی، صابئی اور مسیحی شامل تھے، کہا کہ کون سی حقیقت اتنی متنوع آبادی کو ایسی محبت اور انس کے ساتھ ایک دوسرے سے جوڑتی ہے؟ عراقی عوام نے اس عظیم اقدام کے ساتھ اپنی افتخار آمیز تاریخ میں ایک زریں اور ہمیشہ رہنے والا باب رقم کیا ہے۔
آیت اللہ مروی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ یکجہتی اسلام دشمنوں کے لیے قابل برداشت نہیں ہے، اور واضح کیا کہ وہ رہنما جسے جرائم پیشہ امریکی حکومت  اور قاتل صیہونی حکومت نے شہید کیا ہے، کسی دوسرے ملک میں اور مختلف مذاهب کے لوگوں کی وسیع شرکت کے ساتھ اس طرح شاندار طریقے سے تشییع جنازہ کی جاتی ہے ؛ یہ واقعہ امریکہ کے لیے قابل برداشت نہیں ہے، اور عراقی عوام نے اس اقدام کے ساتھ دشمن کے حساب کتاب کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ دشمن عراقی عوام کے اس عظیم اقدام کے سامنے لاپرواہ رہے گا۔ امریکہ اپنے مختلف ہتھیاروں، اختیار میں موجود فورسز اور پروپیگنڈا اور میڈیا وسائل کا استعمال کرے گا تاکہ ایران اور عراق کے عوام کے درمیان اتحاد، محبت اور عقیدت کو ختم کر کے اسے کینے، اختلاف اور تنازع میں بدل دے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ  دشمن دونوں ممالک کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لیے فوجی جنگ کا سہارا نہیں لیتا ہے؛ بلکہ زہریلے پروپیگنڈے، افواہ سازی اور غلط ذہنیتیں پیدا کرنے کے ذریعے کوشش کرتا ہے کہ عرقی عوام، نوجوانوں اور قبائل کو ہر مذہب اور رجحان سے قطع نظر ایران سے بدظن کرے۔ ان سازشوں سے خبردار رہنا چاہئے اور دشمن کو اس طاقت کو چھیننے کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو دونوں قوموں کے اتحاد سے ظاہر ہوئی ہے۔
انہوں نے ایران اور عراق کی مشترکہ صلاحیتوں اور توانائيوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو بڑے اور تہذیب یافتہ ممالک کثیر آبادی، تاریخی تہذیب اور خداداد دولت کے وسائل کے ساتھ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور یہ باہمی تعلقات امریکہ اور اسلام کے دشمنوں کے لیے قابل برداشت نہیں ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا الہیٰ فریضہ ،حکم «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» پر عمل کرنا اور تفرقہ کو روکنے کے لیے دشمن کے حربوں کو پہچاننا ہے۔
دشمن کی فرقہ وارانہ سازشیں اور عراق کے عوام کی ہوشیاری
آیت اللہ مروی نے سامرا میں امامین عسکریین (ع) کے حرم مطهر کے دہشت گردانہ دھماکے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جرم اور اہل بیت (ع) کے حرم کی بے حرمتی سے دشمنوں کا اصل مقصد شیعوں اور اہل سنت کے درمیان اختلاف اور جنگ پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر عراق کی اعلیٰ مرجعیت حضرت آیت اللہ سیستانی کی ہوشیاری اور بصیرت، اور عراقی عوام میں بصیرت اور دشمن شناسی نہ ہوتی، تو دشمن اس ملک میں خونریز جنگ اور برادر کشی اور مسلمان کشی شروع کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے واضح کیا کہ عراقی عوام نے اپنی ہوشیاری سے دشمن کو اس کے مذموم ہدف تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی اور اس سازش کو ناکام بنا دیا جو امامین عسکریین (ع) کے حرم مطهر کے دھماکے سے آگے بڑھایا جا رہا تھا ،لیکن امریکہ نے دشمنی اور سازشیں کرنے سے ہاتھ نہیں کھینچا۔
انہوں نے داعش کے فتنہ کا ذکر کیا اور کہا کہ سامرا کے دھماکے کی سازش میں ناکامی کے بعد دشمن نے مجرم گروہ داعش کو میدان میں اتارا؛ ایسا گروہ جو امریکہ اور صیہونی حکومت کا پروردہ تھا اور کسی مسلمان پر، خواہ وہ شیعہ ہو یا سنی، رحم نہیں کرتا تھا۔ عراق کچھ عرصے تک اس فتنہ کی لپیٹ میں رہا، لیکن عراقی عوام کی مزاحمت اور ایرانی عوام کی مدد نے دشمن کے نقشے کو ایک بار پھر ناکام بنا دیا۔
دو شہید کمانڈروں، حاج قاسم سلیمانی اور ابومهدی المهندس کے کردار کو داعش کے مقابلے میں یاد کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان دو بڑے، بہادر اور شجاع کمانڈروں کا خون عراق میں زمین پر گرا؛ لیکن دشمن اس واقعے سے دونوں قوموں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کا فائدہ نہیں اٹھا سکا، بلکہ ایرانی اورعراقی قوموں کا خون ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گیا۔
داعش کے مقابلے میں عراقی عوام کی مزاحمت اور اس ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی ان کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ داعش کی شکست اور ماضی کی سازشوں میں ناکامی کے بعد بھی دشمنی سے باز نہیں آتا اور اب بھی تسلط اور اختلاف پیدا کرنے کے درپے ہے۔
شہید رہبر انقلاب(رح) کا عراق سے امریکی انخلا کی ضرورت پر زور
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ صدام کی حکومت کے زوال کے بعد مرحوم آیت اللہ شہید سید محمد باقر حکیم کی، شہید رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی یاد تازہ کی اور کہاکہ شہید آیت اللہ حکیم اس ملاقات میں ایرانی قوم کی کئی سالہ میزبانی پر شکریہ ادا کرنے اور الوداع کہنے اور رہبر انقلاب کی ہدایات سے مستفید ہونے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر معظم انقلاب (رح) نے اس ملاقات میں عراقی عوام، قبائل، مرجعیت، علمائے کرام، حوزات علمیہ اور نوجوانوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت کے بارے میں کچھ تجاویز پیش کیں؛ لیکن ان کی اصل تاکید عراق سے امریکہ کے انخلا کی ضرورت پر تھی۔
آیت اللہ مروی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس وقت صدام کے زوال کو دو سال سے کم وقت گزرا تھا، کہا کہ شہید رہبر انقلاب نے آیت اللہ حکیم سے فرمایا کہ امریکہ عراق کے تمام گوشوں اور ستونوں پر مسلط ہے اور اس ملک کا انتظام امریکیوں کے ہاتھ میں ہے؛ اس لیے ان مسائل میں سے ایک جسے سنجیدگی اورپختگي کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے، عراق سے امریکہ کا انخلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں کے گندے قدموں کو عراق کی پاک اور مقدس سرزمین پر موجود ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ شہیدآیت اللہ حکیم نے اس ملاقات میں شہید رہبر کے بیانات کے بعد کہا کہ اس وقت عراق امریکہ کے تسلط میں ہے اور عملی طور پر آپ امریکہ کے ساتھ ہمسایہ ہیں؛ امریکہ کے سامنے بغیر کسی خوف کے کھڑے ہونے میں آپ کا یہ شجاعانہ جذبہ کیسا ہے؟ رہبر شهید انقلاب نے جواب میں فرمایا "آقای حکیم ہم نصرت الہی پر یقین رکھتے ہیں، إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ یَنْصُرْکُمْ"۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایرانی قوم نے حالیہ واقعات میں بھی اس حقیقت کا تجربہ کیا ہے، کہا کہ دشمن یہ سوچتا تھا کہ پوری فورس کے چیف ، ولی فقیه اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی شہادت کے ساتھ، ایران بالآخر تین دن سے تین ہفتے میں گر جائے گا اور پھر تقسیم ہو جائے گا؛ جیسا کہ امریکہ کے صدر نے بھی اس توہم کا اظہار کیا تھا۔
دشمن کی جارحیت کی صورت میں ایرانی قوم کے ردعمل کے بارے میں رہبر شهید انقلاب کی پیشینگوئی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر دشمن اس ملک پر حملہ کرے اورجارحیت کرے، تو خدا اس قوم کو مبعوث کرے گا۔ لفظ "مبعوث" ایک خاص تعبیر تھی جو انہوں نے بہت کم استعمال کی تھی۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ  دشمن کا حساب و کتاب یہ تھا کہ رہبر انقلاب اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی شہادت کے ساتھ لوگ مایوسی، ناامیدی، خوف اور الجھن کا شکار ہو جائیں گے، اپنے گھروں میں پناہ لیں گے، اور مخالف گروہ اور دشمن کے وابستہ افراد کو موقع ملے گا کہ وہ فوجی کارروائیوں اور غلاظت کے ساتھ سڑکوں پرآ جائیں۔ دشمن نے یہاں تک کہ اپنے کرائے کے کارندوں کو جنوب مغربی اور مشرقی سرحدوں پر تیار کر رکھا تھا تاکہ وہ سرحدوں کو عبور کر کے ایران پر حملہ کریں اور ملک کی فورسز کو سرحدی علاقوں میں الجھا دیں؛ لیکن ان کے حساب کتاب کے برعکس، رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کے اعلان کے پہلے گھنٹوں سے ہی لوگ سڑکوں پر آ گئے اور خوف اور ہراس کا شکار ہونے کے بجائے، انہوں نے اپنی موجودگی اور استقامت کو جاری رکھا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس عوامی موجودگی کے تسلسل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بعثت اور مسلسل موجودگی کے 250 سے زیادہ دن گزر چکے ہیں اور نہ ہی دشمن کے کرائے کے کارندے سرحدوں سے کوئی مؤثر حرکت کرنے میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی امریکہ کا پروپیگنڈا فریب خوردہ افراد کو اندرونی حوادث کا اسٹیج سنبھالنے والا بنا سکا۔
انہوں نے اس استقامت کو نصرت الہی کا ایک مظہر قرار دیا اور آیات «إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ» اور «إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ» کا ذکر کرتے ہوئے اظہار کیا کہ نصرت الہی کا مطلب صرف آسمان سے فرشتے بھیجنا یا زمین سے غیبی فورسز نہیں ہے؛ بلکہ اس کا ایک مظہر انسانوں کو ثابت قدمی عطا کرنا ہے تاکہ وہ حق کے راستے پر استقامت اور حرکت کر سکیں۔
آیت اللہ مروی نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں نصرت الہی پر یقین رکھنا چاہیے اور خدا کے لیے حرکت کرنی چاہیے؛ کیونکہ خدا اپنے بندوں کو ثابت قدمی بخشتا ہے اور اسی استقامت کے ساتھ بڑی طاقتوں کے مقابلے میں کھڑے ہوا جا سکتا ہے۔
امریکہ کی اپنے اہداف کے حصول میں ناکامی، جنگ کے نتیجے کی جانچ کا معیار
حالیہ جنگ اور امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ ایران کے آمنے سامنے آنے کا ذکر کرتے ہوئے آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ دو ایٹمی حکومتوں، امریکہ اور صیہونی حکومت نے ایک غیر ایٹمی ملک پر حملہ کیا، لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد تک نہیں پہنچ سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جنگ کے نتیجے کی تشخیص میں صرف نقصانات کی مقدار پر توجہ نہیں دینی چاہیے، کہا: فتح اور شکست کا معیار پہنچائے گئے نقصانات کی مقدار نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ حملہ آور فریق نے حملے کے لیے جو اہداف مقرر کیے تھے، ان تک کس حد تک پہنچا۔
آیت اللہ مروی نے ملک کو پہنچنے والے نقصانات اور انسانی جانوں کے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ دشمن نے ایران کی قوم کو بہت نقصان پہنچایا، ہمارے عظیم رہبر اور ہماری عزیز قوم کے کئی لوگوں کو شہید کیا اور میناب کے اسکول میں بچوں کا قتل عام کیا ۔ یہ نقصانات اور جرائم ناقابل انکار ہیں؛ لیکن حتمی تشخیص کا معیار حملہ آور کے اہداف کی تکمیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے سے امریکہ کا مقصد اسلامی جمہوریہ کی حکومت کو ختم کرنا، ایران کو تقسیم کرنا اورایسے حالات پیدا کرنا تھا کہ ایرانی قوم    امریکہ اور صیہونی رژیم کے سامنے گھٹنے ٹیک دے ؛ لیکن ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا۔ لہٰذا، اعلانیہ مقاصد تک پہنچنے یا نہ پہنچنے کے معیار کی بنیاد پر، امریکہ اس جنگ میں شکست کھا گیا۔
جنگی حالات میں مجلس خبرگان رہبری کے اجلاس کے انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ جب ملک کے حساس مراکز دشمن کے حملوں کی زد میں تھے، مجلس خبرگان نے اجلاس منعقد کیا اور اسلامی انقلاب کے نئے رہبر، ایک جوان، فقیہ، عالم، عادل اور شہید رہنما کے مکتب میں تربیت یافتہ رہنما کو قوم کے سامنے متعارف کرایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ رہبری کا خلا پیدا کر کے وہ ملک کو تباہی سے دوچار سکتا ہے، لیکن مجلس خبرگان نے دس دن سے بھی کم عرصے میں نیا رہبر انتخاب کر لیا۔ یہ واقعہ بھی ثابت قدمی اور نصرت الہی کا ایک اور جلوہ تھا۔
شہید رہبر انقلاب(رح) کی حضرت امام رضا (ع) سے عقیدت
آیت اللہ مروی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں شہید رہبر کی حضرت امام علی رضا (ع) سے خاص عشق اور عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے، مشہد مقدس کے زیارتی سفر میں ان کے رویے اور حالات کی یادیں بیان کیں۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر نے اپنی رہبری کے دوران ملک کے تمام صوبوں کے سرکاری دورے کیے اور ہر صوبے میں کچھ دن لوگوں کے درمیان رہے؛ لیکن حضرت امام رضا (ع) کی زیارت کے لیے مشهد کے بار بار سفر کے باوجود، اس شہر کا کوئی سرکاری دورہ نہیں کیا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ جب ان سے درخواست کی گئی کہ دوسرے صوبوں کی طرح مشهد کا بھی سرکاری دورہ کیا جائے اور اس شہر کے لوگ بھی ان کی ملاقات اور استقبال سے مستفیض ہوں، تو انہوں نے جواب دیا "یہ حضرت امام رضا(ع) کا شہر ہے؛ میں یہاں آؤں اور لوگوں کو اپنے استقبال کی دعوت دوں؟ یہاں تمام دلوں اور نگاہوں کا رخ حضرت امام رضا (ع) کی طرف ہونا چاہیے۔ ادب کا تقاضا ہے کہ میرا مشهد میں کوئی سرکاری دورہ نہ ہو؛ یہاں امام رضا (ع) موجود ہیں۔"
آیت اللہ مروی نے مشہد کے فضائی سفر میں شہید رہبر انقلاب کے حالات کے بارے میں اپنے مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے سفر میں مجھے ان کے ساتھ ہونے کی توفیق ملی۔ جب ہوائی جہاز مشہد کی طرف روانہ ہوتا، تو ان کے حالات میرے لیے بہت قابل غور تھے؛ گویا کوئی عاشق اپنے محبوب کی طرف جا رہا ہو۔ ان کے چہرے پر ایک خاص نشاط، شادابی اور بے قراری دکھائی دیتی تھی۔
انہوں نے  کہا کہ، مشهد سے واپسی پر، ان کے حالات بالکل مختلف ہوتے تھے۔ ایک بار ہوائی جہاز میں ان کے سامنے بیٹھا تھا اور مشاہدہ کر رہا تھا کہ پچھلے دن کے برعکس جب وہ ہنسی خوشی اور نشاط کے ساتھ ساتھیوں سے گفتگو کر رہے تھے، اب وہ ایک کونے میں بیٹھے ہیں اور خاموش ہیں۔ جب میں نے مزید غور کیا، تو دیکھا کہ ان کے چشمے کے نیچے سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ حضرت امام رضا (ع) کے ساتھ اس درجے کی محبت اورعشق ان کے وجود میں موجزن تھا۔
مشهد میں شہید رہبرکے قیام کی مدت کا ذکر کرتے ہوئے آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ وہ کبھی پانچ، دس اور یہاں تک کہ بیس دن تک مشهد میں قیام کرتے تھے اور ہر روز حضرت  امام رضا (ع) کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے تھے؛ البتہ ان کی حاضری کے لیے ایک ایسا راستہ مقرر کیا گیا تھا جو زائرین کے لیے کسی قسم کی زحمت، پابندی یا پریشانی کا باعث نہ بنے؛ کیونکہ ان کا اصرار تھا کہ زیارت میں زائرین کے لیے کسی بھی طرح کی کوئی بندش نہیں لگنی چاہیے۔
آیت اللہ مروی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شہید رہبرکا پیکر مطہر بالآخر حضرت رضا (ع) کے جوار میں آرام پذیر ہوا، کہا کہ وہ جس طرح امام رئوف (ع) کے قریب رہنے کی آرزو رکھتے تھے، اب اسی بزرگوار کے جوار میں دفن ہو چکے ہیں۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
ایرانی اور عراقی عوام، اسلام اور مقدسات کے دفاع میں ہم عہد اور ہم سفرہیں دشمن ایران اور عراق کے درمیان پائے جانے والے گہرے رشتے کو توڑنے کے درپے ہے؛آیت اللہ احمد مروی عراقی قبائل کے سرداروں کی حرم امام رضا (ع) میں حاضری مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال - ۱ مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال 2 حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان خواتین کےلئے مجلس عزاء کا انعقاد حرم امام رضا(ع) کے بست شیخ بہائی کا افتتاح آستان قدس رضوی اور علمی وثقافتی تعاون کی توسیع میں شہید صدر عالمی ایوارڈ کی کمیٹیوں کی سرگرمیاں اردو زبان خواتین کے لئے حرم امام رضا(ع) میں مجلس عزاء کا انعقاد مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال ہیلتھ پر مبنی خدمات کے بہترین قومی ایکسپورٹر کے عنوان سے رضوی اسپیشلٹی ہاسپٹل کا انتخاب عالمی سائنسی اولمپیاڈکے 60 میڈلز جیتنے والے طلبا اور قومی داخلہ ٹیسٹ کے ٹاپ رینک ہولڈرز کو حرم امام رضا(ع) میں خراج تحسین علم و ترقی کی راہ میں خدا سے رابطہ برقرار رکھیں؛ آیت اللہ احمد مروی اہلبیت(ع) کی محبت ، ایرانی اور عراقی عوام کے مابین نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے؛آیت اللہ احمد مروی ایران اور عراق کا محاذ ایک ہی ہے؛ شیخ حسن السعدی شعبہ بین الاقوامی امور میں دارالعلم کا سلسلہ علمی مرکز تک قم یونیورسٹی میں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کے اجلاس کے انعقاد کے تقاضوں کا جائزہ لیا گیا عراق کے موکب داروں نے حرم امام رضا(ع) کے رواق دارالذکر میں بھائی چارگی کا نعرہ بلند کیا ایرانی قوم کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے صلے میں عراقی موکب داروں کی تجلیل و تکریم کے لئے تقریب کا انعقاد جب دنیا کے معمار کسی صدمے کو تسکین دینے کے لئے ہم آواز بن جاتے ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کی پچیسویں پری کانفرنس کا قم میں انعقاد