آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات 29اکتوبر2026 کی شام حرم مطهر رضوی کے ولایت ہال میں عراقی قبائل کے متعدد سرداروں ، عمائدین اور رؤسا نے آستان قدس رضوی کے متولی آیتالله احمد مروی سے ملاقات میں مشهد مقدس میں حاضری اور حضرت رضا (ع) کے روضہ منورہ کی زیارت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی اور عراقی عوام کے دیرینہ رشتوں پر گفتگو کی۔
اس ملاقات میں عراقی مہمانوں نے انقلاب کے شہید رہنما کے پیکر مطہر کے جنازے میں عراقی عوام، عمائدین اور قبائل کی وسیع شرکت کو دونوں قوموں کی وفاداری اور بھائی چارے کا مظہر قرار دیا اور اس یکجہتی کے تسلسل پر زور دیا۔
شیخ محمد عباس العریبی: ہم اسلامی جمہوریہ ایران کی میزبانی اور استقبال کے شکر گزار ہیں
اس ملاقات کے ایک اور حصے میں، عراقی وزیر اعظم کے قبائلی امور میں نائب اور مشیر شیخ محمد عباس العریبی نے عراقی قبائل کے سرداروں اور عمائدین کی نمائندگی کرتے ہوئے، عراقی قبائلی وفد کے استقبال اور میزبانی پر جمہوری اسلامی ایران کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اظہار کیا کہ میں عراقی قبائل کے ان بھائیوں، سادات اور عمائدین کی نمائندگی کرتے ہوئے جو اس مجمع میں موجود ہیں، عراقی وفد کے شایان شان اورلائقِ تحسین استقبال اور میزبانی پر جمہوری اسلامی ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
شیخ العریبی نے ان حکام، عمائدین اور سادات کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے جمہوری اسلامی ایران میں عراقی وفد کے استقبال اور ساتھ دینے میں کردار ادا کیا، اور بارگاہِ الہی میں دعا کی کہ وہ عراق اور ایران کی دونوں قوموں کو ہر طرح کے شر اور گزند سے محفوظ رکھے۔
شیخ ریسان مطشر فهد: ایران کی حمایت میں عراقی قبائل کا موقف ان کے تاریخی کردار اور طرزِ عمل کا نتیجہ ہے
اس کے بعد، عراقی قبائل کے ایک شیخ، شیخ ریسان مطشر فهد نے اس ملک کی تاریخ اور تہذیب کی تشکیل میں قبائل کے تاریخی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی عراق کی قدیم اور معاصر تاریخ کا مطالعہ کرے گا، وہ جان لے گا کہ اس سرزمین کی تاریخ اور تہذیب کا ایک اہم حصہ عراقی قبائل کے کردار اور شرافت مندانہ مؤقف کی بنیاد پر تعمیر ہوا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی قبائل تاریخ میں ہمیشہ سخاوتمند، غیرت مند اور اقدار کے پابند رہے ہیں، اور مزید کہا کہ عراقی قبائل کبھی کسی بادشاہ کے غلام یا طاغوت کے خادم نہیں رہے، بلکہ ہمیشہ اپنی شرافت، کرامت اور بڑے اور قیمتی مؤقف کے لیے جانے جاتے ہیں۔
اس عراقی شیخ نے حضرت رضا (ع) کے جوار میں عراقی وفد کی موجودگی اور آیتالله خامنهای (ره) کی شہادت پر ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوری اسلامی ایران کے شانہ بشانہ عراقی قبائل کا موقف حق کے راستے پر چلنے والے عراقی عوام کا ہمیشہ کا رویہ، طرز اور طریقہ رہا ہے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کی حمایت میں جمہوری اسلامی ایران کی پشت پناہی کا ذکر کرتے ہوئے شیخ ریسان مطشر فهد نےواضح کیا کہ جمہوری اسلامی ایران نے مسلمانوں کی حمایت میں شناخت اور مذاہب کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا اور مشکل دنوں میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ عراقی اور ایرانی عوام ایک قوم ہیں اور یہ رشتہ اور ساتھ دنیا کے آخر تک جاری رہے گا۔
شیخ فارس البدیری: ایران اور عراق کا رشتہ دین، عقیدے اور دیرینہ تعلقات پر مبنی ہے
عراقی قبائل کے ایک اور شیخ، شیخ فارس البدیری نے بھی اس ملاقات میں مشهد مقدس میں حاضری اور امام رضا (ع) کے روضے کی زیارت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی اور عراقی عوام کے رشتے کو جغرافیائی ہمسایگی سے بالاتر قرار دیا۔
انہوں نے دونوں قوموں کے مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کو جوڑنے والا سب سے اہم عنصر عقیدہ، دینِ اسلام اور وہ اصیل اور ریشے دار تعلقات ہیں جو صدیوں سے دونوں قوموں کے درمیان موجود ہیں۔
اسلام دشمنوں کی طرف سے جمہوری اسلامی ایران اور دینِ اسلام کے خلاف وسیع حملوں کا ذکر کرتے ہوئے اس عراقی شیخ نے عنوان کیا کہ جمہوری اسلامی ایران دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام اور مستضعف مسلمانوں کے دفاع میں ایک مضبوط سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کے شہید رہنما، ان کے اہل خانہ اور ایرانی کمانڈروں اور عوام کے ایک گروہ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے شیخ البدیری نے اس واقعے پر عراقی عوام کے رنج و غم کا تذکرہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عراقی عوام نے اپنے تمام طبقات اور رجحانات کے ساتھ، اس حادثے کو بڑے دکھ کے ساتھ فالو کیا اور انتہائی شرافت مندانہ مؤقف اختیار کیا۔ ہم بحیثیت قبائلی شیوخ اس ساتھ پر فخر کرتے ہیں؛ کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ انقلاب کے شہید رہنما تمام عراقی عوام اور ایرانی قوم کے لیے ایک رہنما تھے۔
شیخ علی الغانمی: عراقی عوام نے پہلے لمحے سے ہی جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ کھڑے رہے
اس ملاقات کے ایک اور مقرر شیخ علی الغانمی نے ائیرپورٹ میں داخلے کے ابتدائی لمحات سےلے کر حرم امام رضا(ع) اور ولایت ہال میں حاضری تک عراقی وفد کے استقبال اور میزبانی کا ذکر کرتے ہوئے اظہار کیا کہ اس ملاقات میں ہماری موجودگی صرف میزبانی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نہیں ہے؛ بلکہ اس کا مقصد جمہوری اسلامی ایران اور اس ملک میں موجود ہمارے بھائیوں کے ساتھ تعلق اور یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔
یہ بیان کرتے ہوئے کہ جمہوری اسلامی ایران پر حملے کے آغاز کے پہلے لمحے سے ہی عراقی عوام اس ملک کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے تھے، شیخ الغانمی نے کہا کہ عراقی عوام نے تمام طبقات اور گروہوں میں، قبائلی سرداروں اور سرکاری ملازمین سے لے کر یونیورسٹی کے اساتذہ، ڈاکٹروں اور معاشرے کے مختلف طبقات تک، جمہوری اسلامی ایران کا بھرپور ساتھ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر(رح) کی شہادت کے دوسرے دن سے ہی جنوب سے لے کر شمالِ عراق تک مساجد اور حسینیوں میں سوگوار مجالس کا انعقاد کیا گیا اور لوگوں نے جنازے کی تقریبات میں بھی شرکت کی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کے ساتھ عراقی قوم کی ہمنوائی اور یکجہتی کا اعلان کرنا تھا، اس عراقی شیخ نے واضح کیا کہ عراقی عوام دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ ایک محاذ پر اور جمہوری اسلامی ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
پیش آنے والے حالات کو جنگِ احزاب اور جنگِ بدر سے تشبیہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس محاذ آرائی کے ایک طرف شر اور عالمی استکبار کی طاقتیں تھیں، اور دوسری طرف جمہوری اسلامی ایران کھڑا تھا۔ ہم پہلے لمحے سے ہی فتح پر یقین رکھتے تھے اور اس جنگ کے نتیجے کو صرف عام حساب کتاب اور دونوں فریقوں کی فوجی طاقت کے موازنے سے نہیں پرکھا جا سکتا۔
مسلمانوں کی کم تعداد کے باوجود جنگِ بدر میں ان کی فتح کا ذکر کرتے ہوئے شیخ الغانمی نے کہا کہ جس طرح خدا نے بدر میں مسلمانوں کی مدد کی تھی، ہم بھی نصرتِ الہی پر یقین رکھتے تھے۔ ہمارے نزدیک یہ جنگ بدر، جنگِ احزاب اور روزِ عاشورا امام حسین (ع) کی استقامت کی یادگار تھی۔