آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 290
17:43

2026/06/06

رضوی لائبریری میں حضرت امام علی(ع) سے منسوب دعا و مناجات کے 508 سالہ قدیمی قلمی نسخے سے نقاب کشائی

حهپکخت
آستان قدس رضوی کے 292 ویں علمی و ثقافتی منگل وار پروگرام کے دوران حضرت امام علی علیہ السلام سے منسوب دعا و مناجات کے پانچ سو آٹھ سالہ قدیمی نسخے سے نقاب کشائی کی گئی۔ 

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ تقریب عشرہ امامت و ولایت کے دوران مؤرخہ 2 جون 2026 کو آستان قدس رضوی کی مرکزی لائبریری کے اندیشہ ہال میں منعقد کی گئی جس میں آرگنائزیشن آف لائبریریز،میوزیمزاورآستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز کے سربراہ،محققین اور ماہرین نے شرکت کی۔ 
آستان قدس رضوی کے شعبہ مخطوطات کے سربراہ سید رضا صداقت نے اس تقریب کے دوران متعلقہ قلمی نسخے کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ قلمی نسخہ جس میں حضرت امیرالمؤمنین سے منسوب منظوم مناجات ہیں جسے’’میر علی ھروی‘‘ نے دسویں ہجری قمری 939 میں کتابت کیا۔ 
واضح رہے کہ یہ قلمی نسخہ جو کہ عربی اور فارسی زبان میں ہے خط نستعلیق کے ساتھ بارہ سطروالے چھ اوراق پر جن کا سائز18*5/27 سینٹی میٹر ہے کتابت کیا گیا ہے اور اس قلمی نسخے کو 10241 نمبر کے ساتھ آستان قدس رضوی کی لائبریری میں رکھا گیا ہے ۔ 
رضوی لائبریری میں امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے بارے میں پائے جانے والی کتب
تقریب کے دوسرے حصے میں جس کا محور "کتابخانہ رضوی میں علوی جلوے" تھا،قلمی نسخوں کے ماہر اور محقق پروفیسر محمد وفادار مرادی ر نے، تاریخ تمدن و ثقافت میں ایک طرف علما و دانشوروں اور دوسری طرف وقف کنندگان و آثار پیش کرنے والوں کی حضرت علی (ع) کی با برکت ذات سے خصوصی عقیدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں، آستان قدس رضوی کے کتابخانہ میں حضرت امیرالمؤمنین علی (ع) کے محور سے متعلق متنوع مخطوطات اور قلمی نسخے موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان آثار میں سے وہ قلمی نسخے جنہیں علما نے حضرت علی(ع) کے فرامین اور بیانات سے تالیف و تحریر کیا ہے جس میں جامع اور مشہور کتاب نہج البلاغہ شامل ہے ۔ 
جناب وفادار مرادی نے بتایا کہ محمد نقیب کے خط میں سنہ 544 ہجری قمری سے متعلق نہج البلاغہ کا نسخہ اور یاقوت مستعصمی کے خط میں سنہ 701 ہجری قمری سے متعلق نہج البلاغہ کا نسخہ، حرم رضوی کے کتابخانہ میں موجود منتخب نسخوں میں سے ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ نہج البلاغہ پر بہت سی شرحیں اور تراجم لکھے گئے ہیں، مزید کہاکہ رضوی لائبریری میں انہی نسخوں میں سے "شرح ابن ابی الحدید" کا نسخہ جو ساتویں صدی ہجری قمری سے تعلق رکھتا ہے، اور "شرح کمال الدین" کا نسخہ جو عبدالقادر قرشی مکی کے خط میں سن 1038 ہجری قمری میں لکھا گیاہے ، قابل ذکر ہیں۔
اس ممتاز محقق نے اسی طرح اس کتابخانہ میں موجود حکمت کے موضوع پر مشہور کتاب "غررالحکم و درر الکلم" جس میں حضرت علی (ع) کے اقوال زریں کا مجموعہ ہے، اور حضرت کے اشعار کا دیوان جو محمد بن حسین نیشابوری کیدری (چھٹی صدی ہجری قمری) نے جمع کیا ہے، جیسی کتابوں کے مخطوطات متعارف کروائے۔
انہوں نے  بتایا کہ آستان قدس رضوی کے کتابخانہ میں، حضرت علی (ع) کے اقوال زریں پر مشتمل نسخے جو "صد کلمہ" کے نام سے مشہور ہیں، اور وہ دعائیں جو اس امام ہمام سے ہم تک پہنچی ہیں، جیسا کہ "الصحیفہ العلویہ و التحفہ المرتضویہ" جو بارہویں صدی ہجری قمری سے تعلق رکھتی ہیں، موجود ہیں۔
علما کی تالیف کردہ کتب سے لے کر مصاحف شریفہ تک
استاد وفاداری مراد نے کہا کہ اس کتابخانہ میں علما، حکماء اور متکلمین کی تالیف کردہ کتب کے وہ مخطوطات بھی موجود ہیں جن میں حضرت علی (ع) کی مقدس ہستی کی زندگی، سوانح، فضائل، مناقب اور امامت کے اثبات پر بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے اس سلسلے میں "منہاج الکرامہ فی معرفۃ الامامہ"، "کشف الیقین فی فضائل امیرالمؤمنین (ع)" اور "تفضیل امیرالمؤمنین (ع)" جیسی کتابوں کے نسخے بھی متعارف کروائے۔
قلمی نسخوں کے محقق نے بتایا کہ آستان قدس رضوی کے کتابخانہ کے آثار میں وہ قلمی نسخے بھی موجود ہیں جو خصوصی طور پر واقعہ غدیر خم کے بارے میں لکھے گئے ہیں۔ ان آثار میں شیخ طبرسی کی"الاحتجاج" ،"بخش حجت کتاب کافی"، "الامامہ و السیاسہ"، "عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار"، "ترجمہ خطبہ غدیریہ" وغیرہ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) سے منسوب کوفی خط کے قرآنی نسخے بھی موجود ہیں۔
پروفیسر وفادار مرادی نے بتایا کہ یہ لائبریری امام علی (ع) کے املاء اور تعلیمی مفردات جیسے کہ دعائے صباح، خطبہ البیان، دعائے کمیل، دعائے سیفی یا حرز یمانی، حدیث حقیقت وغیرہ کے نسخوں کا بھی حامل ہے۔
قابل توجہ ہے کہ یہ آثارخطاطوں اور شارحین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں،مثال کے طور پردسویں صدی ہجری قمری کے مشہور خوشنویس علاء الدین تبریزی نے سنہ 981 ہجری قمری میں دعائے صباح کی کتابت کی ہے جس کا نفیس نسخہ گنجینہ رضوی میں موجود ہے۔ ان شارحین میں محمد دہدار شیرازی، حاج ملا ہادی سبزواری، قاضی نور اللہ شوشتری وغیرہ شامل ہیں-


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
رضوی سیرت میں حکیمانہ مینجمنٹ اور استقامت؛دینی طرز حکمرانی کا مکمل نمونہ مزاحمتی محاذ کا ناقابل شکست ہونے کا دارومدار’’جہاد تبیین‘‘ اور رضوی تعلیمات پر ہے رضوی سیرت؛ انسانی کرامت کی بنیاد پر انسانی حقوق کی نئی تعریف کے لئے ایک عملی نمونہ امام رضا(ع) آج بھی اقوام اور ادیان کے مابین یکجہتی کا مرکز ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع)؛امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے طالبات کا ہاسٹل ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ علم و روحانیت کے امتزاج کی علامت ہے آستان قدس رضوی کے متولی کی موجودگی میں ملک کے جدید ترین ہاسٹل کا افتتاح عبدالعظیم حسنی (ع) دینی معرفت سے سماجی اتحاد تک آستان قدس رضوی؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح رضوی یونیورسٹی  اور جامعہ المصطفی مشہد برانچ کے درمیان مشترکہ تعاون کا آغاز نقل و حمل، رہائش اور پارکینگ کی توسیع کے لئےحکومت،پارلیمنٹ اورصوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہیں؛صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ کا بیان ایران اور ہندوستان کے مابین باضابطہ فارسی زبان کی تعلیم کے لئے باہمی تعاون کا آغاز حرم امام رضا(ع) میں نصب جالیوں کی زیارت اور فن تعمیر سے متعلق تفصیلات آستان قدس رضوی کے ریسرچ معاونین کا بین الاقوامی امور کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافے پر زور صفوی دور کے وقف  حمام دروازہ کا تعارف ایران سے متعلق میرے ذہن میں پائے جانے والے منفی تاثرات مکمل  طور پرتبدیل ہو گئے؛سنی انفلوئنسر کا بیان تنزانیا سے امام رضا علیہ السلام کے حرم تک عشق و محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ   حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب