آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یمنی محقق اور تہران یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے اسٹوڈنٹ سید طہ عادل محمد مجاہد نے امام رضا علیہ السلام بین الاقوامی کانگریس کے موقع پر اس ایونٹ کو ایک علمی نشست سے بالاتر اور عالمِ اسلام کے لئے ایک اسٹریٹجک پیغام کا حامل قرار دیا۔
انہوں نے اسلامی شناخت کے خلاف میڈیا وار کی پیچیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ بحرانوں کا جواب دینے کے لئے شہید رہبر(رح) کی قیادت میں مقاومتی مکتبِ فکر اور اہلبیت(ع) کی سیاسی فکر کے کے باہمی ملاپ کی ضرورت پر زور دیا۔
رضوی سیرت میں سافٹ وار
سیاسیات کے اس محقق نے حکمرانی سے متعلق امام رضا(ع) کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلامی حکومت کی ماہیت کو وسائل کی مینجمنٹ سے بالاتر بلکہ الہیٰ فرائض اور عوامی مفادات کی تکمیل میں خدمت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امام رضا(ع) نے تاریخ کے انتہائی مشکل دور میں حکیمانہ سیاسی فریم ورک کے ساتھ منحرف طاقتوں کے مقابلے میں اپنی فکری اور بنیادی حدود کا تحفظ کیا،یہ رویہ اس سافٹ وار اور فکری مزاحمت کی علامت ہے جس کی آج دنیا کو اشد ضرورت ہے ۔
فکری مزاحمت اور ناقابل شکست ہونے کا راز
سید طہ عادل محمد مجاہد نے تاکید کی کہ اگر مزاحمت ، معرفت پر مبنی ہو تو وہ ناقابل شکست ہو گی۔
انہوں نے شہید رہبر(رح) کے جہاد تبیین کے حوالے سے تصور کو ایک دانشمندانہ اور حکیمانہ تحریک قرار دیا جو استکباری طاقتوں کے مقابلے میں دانشوروں ، یونیورسٹیوں اور میڈیا کی ذمہ داریوں کو واضح کرتی ہے۔
عالم اسلام میں مشترکات پر گفتگو
انہوں نے مسلمانوں کے درمیان مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کے لئے انصاف پسندی اور ظلم کے خلاف جدوجہد جیسے مشترک نکات پر توجہ مرکوز کرنے کو راہگشا قرار دیا۔
اس یمنی محقق کے خیال میں، مسلمانوں کو فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات میں الجھنے سے پرہیز کرنا چاہیے جو سامراج نے مصنوعی طور پر ڈیزائن کیے ہیں اور ظلم کے مقابلے کی اس مشترک زبان پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو سیرتِ علوی اور رضوی میں جڑی ہوئی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی پرعبور حاصل کرنے کی ضرورت
آخر میں اس نے نوجوانوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے انہیں علم کو حقیقت کی خدمت میں استعمال کرنےکی دعوت دی۔
انہوں نے تاکید کی کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان ذرائع کو رضوی معارف کی ترویج اور مکتبِ مقاومت کی وضاحت کی خدمت میں استعمال کرنا چاہیے تاکہ مسلمان دانشور جدید علم پر عبور حاصل کرکے عالمی شکوک و شبہات کے علمی اور مدلل جوابات فراہم کر سکیں۔