آستان نیوز کے مطابق سیاہ پرچم اور یاعلی (ع) کے بیرق نے ماحول کو سوگوار بنارکھا تھا ، اشک و نالہ اور حیدر حیدر کی آواز بھی حرم کی فضا چ گونج رہی تھی
اس معنوی اجتماع میں محمود کریمی نے روایتی رسم چھار پایہ خوانی کو انجام دیتے ہوئے جانسوز مرثیے پڑھے اوریوں حرم امام رضا علیہ السلام کے صحن و سرا میں عاشورائي ماحول پیدا ہوگيا ۔
چھارپایہ خوانی ایک روایتی رسم ہے جو 70 سال سے زائد پرانی رسم ہے اور اس سال اکیس ماہ رمضان کو ایک بار پھر امام رضا علیہ السلام کے حرم میں اس کو انجام دیا گيا اور سوگواروں نے انتہائی سادگي اور عشق ومحبت سے سرشار ہو کر اپنے مولا کو آواز دی ۔
جوش وجذبے سے سرشار عزاداروں کے اجتماع نے یا علی مدد ، لبیک یا حیدر ، اور ولایت سے دوبارہ بیعت کے نعرے لگاکر امامت اور رہبری کے راست کو جاری رکھنے کے سلسلے میں اپنے عزم اورعشق کا اظہار کیا ۔
اس درمیان نئے رہبرانقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبی خامنہ ای سے تجدید بیعت کی صدائيں بھی گونجتی رہیں ایسی بیعت جو عشق و آگہی اور پوری عقیدت کے ساتھ تھی جس سے یہ ثابت ہورہا تھا کہ مومنین کے قلوب راہ ولایت کو جاری رکھنے کے لئے بیتاب اور دھڑک رہے ہیں
چھارپایہ خوانی کی اس رسم میں حجت الاسلام والمسلمین حسین ذاکر نے امام رضا علیہ السلام کے حرم کے زائرین اور مجاورین کے اجتماع سے خطاب کے دوران اہلبیت اطہارعلیھم السلام کی پیروی میں صبر و ابتلا کی اہمیت پرتاکید کرتے ہوئے کہا کہ روایتوں کے مطابق جس شخص کے دل میں خاندان رسالت کی محبت ہوگی اس کو مصیبت، پریشانی اور شہادت کے لئے آمادہ رہنا چاہئے کیوںکہ یہ مشکلات محبت اہل بیت (ع) کی محبت میں صدافت اور اخلاص کی علامت ہے
انہوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ شیعہ اپنی تاریخ کے آغاز سے ہی طرح طرح کے امتحانات اور مشکلات سے گذرتے رہے ہیں کہا کہ اگر کوئي محب اہل بیت ہے تو اس کو یہ جان لینا چاہئے اس راستے کا اختتام راہ حق میں شہادت و فداکاری ہے
حجت الاسلام ذاکر نے واقعات عاشورا کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے آخری لمحات تک ظلم کا مقابلہ کیا
انہوں نے سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کے راستے کو جاری رکھنے کے تعلق سے ایرانی عوام کے کردار کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور شہادت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں وہ کبھی بھی ذلت کو قبول نہیں کرتے
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے عوام نے ثابت کردیا کہ دشمن کا جدید ترین اسلحہ اور ہتھیار بھی ان کے ایمان اور جذبہ استقامت کو ختم نہيں کرسکتا
انہوں نے اپنے خطاب میں امیرالمومنین علیہ السلام کے صبر و جہاد کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ امیرالمومنین علیہ السلام کی پوری حیات، باطل کے خلاف جنگ میں گزری اور اس راستے میں وہ ایک لمحے کے لئے سکون سے نہیں بیٹھے
عزاداری کے اجتماع سے خطاب کا اختتام غروب آفتاب پر ہوا اور رات کی تاریکی فضا میں چھاگئی سوگواروں کی آنکھوں سے اشک جاری تھے لبوں پر دعائے امیرالمومنین تھی اور لوگ اپنے مولا سے تجدید عہد کررہے تھے ۔