ایسی شخصیت جس نے اسلامی انقلاب کی قیادت سے برسوں پہلے مشہد الرضا(ع) میں قرآن کی تعلیم ، تفسیر اور تلاوت کی محافل منعقد کر کے قرآنی ثقافت کو فروغ دینے میں مؤثر کردار ادا کیا،اور اس کے بعد بھی قاریانِ قرآن کے ساتھ ہر سال ملاقات کرتے تاکہ قرآن کی تعلیم، فہم قرآن اور تلاوت قرآن کریم کو فروغ دے سکیں۔
مندرجہ ذیل تحریر میں حرم امام رضا(ع) کے قاری قرآن استاد محمد جواد پناہی کی گفتگو ذکر کی جارہی ہے جنہیں بارہا شہید رہبر(رح) کی خدمت میں تلاوت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
جناب پناہی صاحب پہلی بار آپ کو شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کی خدمت میں کب تلاوت قرآن کریم کرنے کا موقع ملا؟
پہلی بار 1984 میں انیس سال کی عمر میں مجھے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی خدمت میں تلاوت کا شرف ملا ،اس وقت وہ ملک کے صدر تھے ،بسیج اور فوجی دستوں کے قومی سطح کے مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر قاریوں کا ایک گروپ رہبر (اس وقت کے صدر) سے ملنے گیا تو اس وقت مجھے بھی تلاوت کا اعزاز حاصل ہوا۔
آخری بار 2017 میں ماہ رمضان المبارک کے مہینے میں یہ اعزازملا ،ایک قاری کے لئے سب سے بڑا اعزاز یہی ہے کہ وہ رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کی موجودگي میں تلاوت کرے اور تمام قاریوں کی یہی آرزو تھی کہ کم از کم ایک بار انہیں یہ شرف نصیب ہو جائے۔
ان کے سامنے تلاوت کا آپ پر کیا اثر ہوتا تھا؟
یہ احساس، خاص طور پر اس وقت جب میں جوان تھا، ناقابلِ بیان ہے۔ حضرت آقا اس وقت صدر تھے اور امام خمینی (رح) کے بعد ملک میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ میرے لیے ان کی خدمت میں پہنچنا اور تلاوت کرنا ایک ناقابلِ فراموش واقعہ ہے اور میں اسے کبھی نہیں بھلا پاؤں گا۔
تلاوت قرآن کے بعد وہ تلاوت سے متعلق کیا ہدایات دیتے تھے؟
شہید رہبر انقلاب کو عربی ادب اور قرآنی علوم جیسے وقف و ابتدا، تجوید، صوت اور لحن پر مکمل عبور حاصل تھا، اس لیے جب بھی کسی قاری سے کوئی غلطی ہوتی، وہ بغور اور نرمی سے اسے متوجہ کرتے اور رہنمائی فرماتے، وہ قرآنی میدان میں ایک ماہر اور قرآنی نابغہ تھے ۔
مشہد مقدس میں شہید رہبر(رح) کی قرآنی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ بتائیں؟
حضرت آقا قرآنی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ وہ رہبر بننے سے پہلے اور انقلاب سے پہلے، مشہد میں مسجد کرامت (چارراه شهدا پر) اور مسجد امام حسن مجتبیٰ میں وسیع قرآنی سرگرمیاں انجام دیتے تھے، جن میں تلاوت کی محافل کا انعقاد، تعلیم اور تفسیر کے جلسات شامل تھے۔ ان کی یادگار جو مشہد کے قرآنی کارکنوں کے لیے باقی ہے، مسجد کرامت میں ماہانہ تلاوت کی نشست کا انعقاد ہے جہاں آج بھی شہید رہبر انقلاب(رح) کی موجودگی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
شہید رہبر(رح) کی قاریان قرآن کے ساتھ ملاقاتوں سے ملک کی قرآنی حلقے کی ترقی پر کیا اثر ہوا؟
یہ ملاقاتیں قاریوں کے لیے ترغیب کا باعث تھیں۔ ہر کوئی کوشش کرتا تھا کہ تلاوت کے اعلیٰ ترین درجے تک پہنچے تاکہ رہبر انقلاب کی خدمت میں حاضر ہو کر تلاوت کا شرف حاصل کر سکے، اورہر کوئی اسے اپنے لیے اعزاز کا تمغہ سمجھتا تھا۔
کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ شہید رہبر(رح) قرآنی محافل میں فقط سامع نہیں تھے؟
یقینی طور پر ایسا ہی ہے۔ شاید قاریوں کے لیے، حتیٰ کہ اعلیٰ سطح پر، سب سے مشکل محفل رہبر انقلاب کی خدمت میں تلاوت کرنا تھا۔ کیونکہ وہ تجوید، وقف و ابتدا، صوت اور لحن میں مکمل عبور رکھتے تھے اور معمولی ترین نکات کو پوری طرح محسوس کر لیتے تھے۔ اس لیے قاری تلاوت کے دوران پوری کوشش کرتا تھا کہ قرائت کے تمام اصول و ضوابط پر عمل کرے۔
قرآن اور قرآنی برادر کے ساتھ تعلق کے دوران شہید رہبر(رح) کی اہم ترین خصوصیات کیا تھیں؟
وہ ایک قرآنی نابغہ بھی تھے اور قرآن پر عمل کرنے والے بھی۔ وہ صرف تلاوت یا تفسیر تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کی زندگی قرآنی تعلیمات پر مبنی تھی۔ اسی لیے وہ ہمیشہ قرآن کی تعلیم، آیات کے مفاہیم کو سمجھنے اور تلاوت کی محافل کے انعقاد زور دیتے تھے۔
آپ کی نظر میں شہید رہبر انقلاب(رح) کے قرآنی ورثے کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ کیا ہے ؟
قرآن اور قرآنی سرگرمیوں کے سلسلے میں ہمیشہ ان کے تین اہم محور تھے۔ پہلا، قرآنی تعلیم کے جلسوں کا فروغ، دوسرا، قرآن کے مفاہیم کو سمجھنے پر توجہ تاکہ قاری کو پتہ چلے کہ وہ کون سی آیات تلاوت کر رہا ہے اور معنی کو بہتر طور پر منتقل کر سکے۔ اور تیسرا، مساجد، حسینیوں اور ثقافتی و مذہبی مراکز میں تلاوت کی محافل کا فروغ تاکہ لوگ کلامِ وحی کو سن کر قرآن سے زیادہ مانوس ہوں ۔ میرے خیال میں اگر شہید رہبر انقلاب (رح)کی ان تین ہدایات پر عمل کیا جائے تو ہم ان کی قرآنی سرگرمیوں کے ورثے کے اچھے امانت دار ثابت ہوں گے۔
اگر آج شہید رہبر انقلاب ہمارے درمیان ہوتے تو لوگوں کو کیا قرآنی نصیحت کرتے؟
بلا شبہ وہ قرآن سے زیادہ مانوس ہونے، آیات کو سمجھنے اور الٰہی احکام پر عمل کرنے پر زور دیتے۔ وہ بارہا آیت «فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» کا حوالہ دیتے اور نصیحت کرتے کہ ہر مسلمان کم از کم روزانہ ایک صفحہ قرآن تلاوت کرے۔ کیونکہ ان کا اعتقاد تھا کہ قرآن سے مانوس ہونا، قرآن کو سمجھنا اور آخر کار قرآن پر عمل کرنے پر مجبور کرے گا، اور معاشرے کے بہت سے مسائل اسی نقطہ نظر سے حل ہو جائیں گے۔
ایک قرآنی شخصیت کے طور پر، شہید رہبر انقلاب کی تشییع کی رسومات میں شرکت کے بارے میں عوام اور قرآن کے عاشقوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
آج جب قائدِ امت ہمارے درمیان نہیں ہیں، اسلام اور قرآن کی خدمت میں ان کی برسوں کی مجاہدت اور خالصانہ خدمت کے مقابلے میں ہماری کم سے کم ذمہ داری یہ ہے کہ ان کے پاکیزہ پیکر کی تشییع کی رسومات میں وسیع اور شاندار شرکت کریں۔ مجھے امید ہے کہ تمام لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ جوش اور محبت کے ساتھ ان رسومات میں شریک ہوں گے اور قرآن کے اس عظیم خادم کو بہترین طریقے سے رخصت کریں گے۔
اگر آپ کو آخری بار ان کے پیکر مطہر کے پاس قرآن تلاوت کرنے کا موقع ملے تو کون سی آیت منتخب کریں گے؟
سورہ مبارکہ آل عمران کی آخری آیت ’’یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ‘‘
ہاں، قرآن کا پیغام ان مشکل دنوں میں اور اس داغ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے، اس عظیم مصیبت پر صبر و شکیبائی ہے، اور امید ہے کہ اس عظیم مصیبت پر صبر کے ذریعے ہم دنیا کے کامیاب اور سعادتمند لوگوں میں شامل ہو سکیں گے۔