آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 365
15:24

2026/07/18

شہید خامنہ ای تمام ادیان اورمکاتب کے لئے زندہ ہيں

۳۲۲۳
ان دنوں مشہدالرضا (ع) نہ فقط ایک شہر بلکہ رہبرشہید انقلاب کے شیدائيوں کے لئے ایک مامن و پناہ گاہ بنا ہوا ہے کہ ان کے عاشق و شیدائي آئيں اور انہيں آخری بار الوداع کہيں اور امام رضاعلیہ السلام سے صبر وتسلّی حاصل کريں ۔

آستان نیوز کے مطابق اس وقت ایران کے گوشہ و کنار سے غمزدہ اور سوگوار لوگ مشہد مقدس پہنچے ہيں تاکہ وہ رہبرشہید کی تشییع جنازہ میں شریک ہوسکيں 
اس درمیان قدس ثقافتی ادارہ ان عاشقوں کا میزبان ہے جو ایران کی سرحدوں سے باہر سے بلکہ پوری دنیا سے اس پرشکوہ تشییع جنازہ میں شرکت کے لئے مشہد آئے ہوئے ہیں ۔
مشہد میں تشییع جنازہ سے ایک روز قبل بدھ کو دوپہر کے وقت یہ قافلہ جن میں مختلف ممالک منجملہ افریقی ملکوں یوگينڈا اور نائیجیریا کے لوگ ہيں اور ساتھ ہی ہندوستان پاکستان اور افغانستان کے بھی زائرین و سوگوار موجود ہيں قدس ثقافتی ادارے کا مہمان بنا اس قافلے کے پہنچنے پر ادارے کے کارکنوں نے قافلہ والوں کا پرجوش استقبال کیا 
 ایران دنیا کے حریت پسندوں کا پہلا وطن 
اس بین الاقوامی قافلے کے انچارج رنجبر نے جو تہران اور قم میں اس قافلہ کے ہمراہ تھے رہبرشہید انقلاب کی آخری تشییع جنازہ میں اس قافلے کے لوگوں کی شرکت سے متعلق ان کے جذبات کے بارے میں کہتے ہيں: ان محترم اور عزیز مہمانوں نے تہران اور قم میں بھی رہبرشہید کی تشییع جنازہ میں شرکت کی تھی اور ان کا اصرار تھا کہ وہ مشہد میں بھی تشییع جنازہ میں شریک ہوں گے  اور ان تاریخی لمحات  سے محروم نہیں رہنا چاہتے ۔ ان مہمانوں کا کہنا ہے کہ ایران ان کے لئے ایک وطن کی طرح ہے لیکن وطن دوم نہيں بلکہ ایران ان عزیزوں کے لئے پہلا وطن ہے اور ایران کی جغرافیائي حدود سے الگ ان کی نگاہ میں رہبرشہید انقلاب پوری دنیا کے حریت پسندوں کے لیڈر اور قائد تھے حتی وہ تمام ادیان و مکاتب کے حریت پسندوں کے قائد تھے اور اس قافلے میں بھی مختلف ادیان و مذاہب کے لوگ شامل ہیں اور یہ سبھی لوگ مذہب، مکتب دین و اعتقاد اور ملک و جغرافیا سے بالاتر ہوکر رہبرشہید کو ایک عالمی رہنما اور قائد کے طور پر دیکھتے ہيں 
  آيت اللہ سید علی خامنہ ای ، انسانیت کے حامیوں کے رہبر
 
جی ہاں دنیا کے سبھی حریت پسند ان دنوں عزادار ہیں ۔
نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے شہری محمد صغیر تکور اس سلسلہ میں کہتے ہيں : میں نے رہبر شہید کو چار مرتبہ دیکھا تھا ۔ جب میں اپنے ملک میں تھا اسی وقت سے میری آرزو تھی کہ انہيں قریب سے اپنی آنکھوں سے دیکھوں ۔
آمنے سامنے کی ان سے ملاقات کا لمحمہ بہت ہی  سحر انگیز ، اثر گزار اور دل کو چھو لینے والا لمحہ تھا۔ آیت اللہ  خامنہ ای ایک مہربان ، توانا اور ثابت قدم رہبر تھے۔ انہوں نے حقیقت میں یہ ثابت کردیا کہ معاشرے کی کس طرح رہنمائي اور قیادت کی جاسکتی ہے اور انہوں نے بہت ہی اچھے طریقے سے امام خمینی ( رح) کی یاد اور میراث کو زندہ رکھا ۔
وہ ایک عوامی قائد تھے اور لوگ بھی دل کی گہرائيوں سے ان سے عشق و محبت کرتے ہيں ، رہبرشہید نے امت اسلامیہ کو ایک متحد امت واحدہ کی شکل میں جوڑے رکھا اور ان کی کوشش ہمیشہ معاشرے کی مدد اور اللہ کے راستے کی جانب رہنمائي پر مرکوز رہی ۔ حتی غیر مسلم لوگ بھی کسی طرح کی تفریق کے قائل نہ ہونے کے ان کے مضبوط نظرئے کی بنیاد پر ان کو ایک عادل اور منصف رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں ۔
 
 تمام ادیان و مذاہب کے لئے بہترین آئيڈیل 
 ڈینیل کوتوسی ایک عیسائي ہیں جن کا تعلق افریقی ملک یوگينڈا سے ہے وہ رہبرشہید کی تشییع جنازہ میں شرکت کے لئے آئے ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ رہبرمعظم انقلاب آيت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے مجھے بہت زیادہ غمزدہ اور سوگوار بنادیا ؛ کیونکہ ایک ایسے لیڈر اور قائد کو کھو دینا جو بہت ہی عظیم رہنما تھے ہمارے محاذ کے لئۓ ایک بڑا دھچکا تھا ۔ وہ باوجود اس کے کہ ایک سیاستداں تھے ان کے اندر دو شخصیت تھی ایک مذہبی رہبر کی شخصیت تھی  اور ساتھ ہی وہ ایک بہت بڑے سیاستداں بھی تھے اور ایسی شخصیت کو کھو دینا وہ بھی غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں ، امت اسلامیہ اور پوری دنیا کے لئے بہت ہی دردناک تھا ۔
اس وقت ایران میرے لئے خود میرے ملک کی طرح ہے اور ایسا محسوس کررہا ہوں کہ جو بھی راستہ ایران کے عوام اور ایران انتخاب کررہا ہے وہ وہی راستہ ہے جس کا مجھے بھی انتخاب کرنا چاہئے ۔ یہ اس لئے ہے کہ میں ایران کے عوام اور ان کی ثقافت سے محبت کرتاہوں ۔ میں دوسال سے ایران میں ہوں ۔ جب جنگ شروع ہوئي تو بھی میں یہیں پر تھا اور اپنے ملک واپس نہيں گیا جبکہ ہمارے کلاس کے ساتھی واپس افریقا اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ گئے۔
یوگينڈا کا یہ عیسائي طالب علم کہتا ہے کہ آپ عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے جدا نہيں کرسکتے یہ غیر ممکن ہے ۔ ایرانی عوام اور رہبرمعظم سے میرا عشق اور خاص طور پر ظالموں کے خلاف رہبرشہید کی استقامت و جد وجہد سب سے بڑا سبب تھا کہ جس نے ہمیں یہاں رکنے اور ٹھہرنے پر مجبور کیا ۔ میں رہبرشہید کی تشییع جنازہ میں نہ رہوں یہ میرے لئے بہت ہی سخت تھا ۔ 
 رہبرشہید انقلاب ؛ ظالموں کے مقابلے میں استقامت کی علامت 
 
 افریقی ملک نائیجیریا سے تعلق رکھنے سول انجینیئرنگ کے طالب علم باقر عثمان، رہبرشہید انقلاب کے بارے میں اپنے دلی جذبات کا آنسوؤں کے ساتھ اظہار کرتے ہوئے کہتے ہيں : دینی اور مذہبی بحث و مطالب سے ہٹ کر رہبرشہید کی انسانیت سے سبق اور درس لینا چاہئے ۔ ایران پوری دنیا کے ملکوں کے لئے ظالموں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کے تعلق سے ایک بہترین نمونہ اور آئيڈیل ہے ، جس کو بھی آزاد اور خود مختار رہنا ہے اسے چاہئے کہ وہ ایران کو اپنا آئيڈیل قرار دے ۔ رہبرشہید انقلاب کی شہادت سے قبل تک ، امریکا کا ظلم اور اس کی سامراجی سرشت دنیا کے بہت سے لوگوں کے لئے ناشناختہ تھی لیکن اب پوری دنیا کو معلوم ہوچکا ہے کہ امریکا ظالم ہے اور اسی طرح پوری دنیا کے لئے ایران کی انسانیت بھی آشکارہ اور واضح ہوچکی ہے ۔
 میں نے انسانیت کی بنیاد پر اور یہ بتانے کے لئے رہبرشہید کا مشن جاری رہے گا تشییع جنازہ میں شرکت کا فیصلہ کیا ۔ اس وقت میں آيت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی اقتدا کررہا ہوں اور انشاء اللہ جلد ہی عالمی سامراج کی نابودی کا مشاہدہ کريں گے اور ایرانی عوام کامیاب ہوں گے 
 ایسا داغ جو کبھی بھی ٹھنڈا نہيں ہوگا 
 پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایم بی اے کے طالب علم سید مطہر علی شاہی ایران میں اپنا اقامہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ بڑی مشکلوں سے ایران پہنچے ہیں تاکہ وہ رہبرشہید کی تشییع جنازہ میں شریک ہوسکيں ۔ وہ اس دن کے بارے میں جب انہوں نے رہبرکی شہادت کی خبر سنی تھی اپنی دلی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہيں : جس دن رہبر کی شہادت ہوئي میں تہران میں تھا ، جنگ چھڑ جانے کے باوجود میں اور دیگر ملکوں کے طلبا آپس میں یہی باتیں کرتے تھے کہ ہم سب لوگ ایران میں ہی رہيں گے اپنے ملکوں کو نہيں جائيں گے، سحر کا وقت تھا ۔
 میں سحر کے وقت اٹھا اچانک دیکھا کہ میرے دوست گریہ و زاری کررہے ہيں ۔ تب مجھے رہبر کی شہادت کی خبر ملی اور اس وقت میری کیفیت اور احساس ایسا تھا کہ گویا میرا باپ اس دنیا سے چلا گیا ہو ۔
اسی دن ہمارے ملک کے شہریوں نے پاکستان میں امریکی سفارتخانے اور قونصل خانوں کے سامنے مظاہرے کئے اور آج بھی ہمارے ملک کے لوگ رہبرشہید کے لئے عزادار و سوگوار ہیں۔ جب میں پاکستان پہنچا تو وہاں کے لوگ مجھ سے کہہ رہے تھے اب پھر جب واپس ایران جانا تو ایرانیوں سے کہنا کہ ہم جان و مال ہر طرح سے ایرانیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ایرانی بھائي تنہا نہيں ہيں ۔   
رہبرشہید کی تشییع جنازہ کے دن جمعرات کی صبح قافلہ قدس ثقافتی ادارے سے اس راستے کی جانب چل پڑا جہاں سے تشییع کی رسومات شروع ہونے والی تھیں ۔ اس قافلے کے لوگوں کی اشک بار آنکھیں یہ گواہی دے رہی تھیں کہ رہبرشہید سے ان کا قلبی لگاؤ اور ان  سے عقیدت کبھی ختم ہونے والی نہيں ہے ۔
داغدار اور عزادار عوام کے ساتھ سورج بھی مشہد الرضا (ع) کی سرزمین پر اپنی تابانیاں بکھیر رہا تھا ، ایران اور پوری دنیا کے لوگ سرخ پرچم اپنے ہاتھ میں لئے خیابان امام رضا (ع) کی جانب سیلاب کی مانند بڑھ رہے تھے اور لوگوں کا جم غفیر انسانی سمندر میں تبدیل ہوتا جارہا تھا ۔
  غبارغم مشہد کی فضا میں اسپند اور گلاب کی خوشبو کے ساتھ پھیل رہا تھا اور امام رئوف (ع) کا طلائي گنبد ہمیشہ سے کہیں زیادہ پرشکوہ انداز میں شہر کے بازؤں پر کھڑا تھا تاکہ لوگ اس آخری وداع کو تحمل کرسکیں ۔ اور رہبرشہید کی پرشکوہ تشییع کرکے ان کے پیکر مطہر کو حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم تک رخصت کرسکیں ۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
شہید خامنہ ای تمام ادیان اورمکاتب کے لئے زندہ ہيں مشہد مقدس میں شہید رہبر انقلاب(رح) کی تشییع جنازہ ،عصر حاضر کا سب سے بڑا تاریخی واقعہ ہے   شہید رہبر(رح) کی تشیع جنازہ اور تدفین کے لئے آستان قدس رضوی کا چوتھا اعلامیہ حرم امام رضا(ع) میں واقع شہید رہبر(رح) کے تحائف کا میوزیم اور قرآنی میوزیم کھول دیا گیا ہے شہید رہبر کے تشیع جنازہ میں شرکت کے لئے آستان قدس رضوی کے متولی کا پیغام  بین الاقوامی سطح پر ’’قومو للہ‘‘ نعرے کی تشریح کے لئے نشست کا انعقاد ’’قائد الامۃ‘‘ کے عنوان سے لائیو ٹی وی پروگرام رہبرشہید کے سوگواروں کے لئے کرامت رضوی فاؤنڈیشن کی جانب سے پذیرائي کا وسیع انتظام (( آقای شہید ایران )) نامی چار جلدوں پر مشتمل کتاب منظرعام پر آگئی  شہید رہبر(رح) ایک قرآنی نابغہ اور قرآنی احکامات پرعمل کرنے والی شخصیت تھے؛ استاد پناہی رہبرشہید کے وداع کے ا یام میں حرم مطہر رضوی بند نہيں ہوگا  رہبرشہید ( رحمت اللہ علیہ ) کی یاد میں رضوی کتابخانہ اور میوزیمز میں تعزیتی جلسوں اور خصوصی پروگراموں کا انعقاد  روضہ منورہ امام رضا(ع) کے خدام ، سوگوار زائرین کو کھانے اور رہائش کی خدمات فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں جارجیا کے 130 رکنی مذہبی و ثقافتی وفد کا حرم امام رضا(ع) کے خدام کی جانب سےخصوصی استقبال شہید رہبر(رح) کی تشیع جنازہ کے موقع پر حرم امام رضا(ع) میں 2100 سے زائد طبی عملے کی تعیناتی امام رضا علیہ السلام کے حرم کو جانے والے راستوں میں پانی اور شربت کی سبیلوں اور سقاخانوں کا انتظام  آستان قدس رضوی کے موکبوں کی تیاری کے تصویری مناظر شہید رہبر(رح) کی ضریح امام رضا(ع) کی صفائی کے دوران لی گئی تصاویر رہبرشہید کی یادگار اور جاودانی میراث  مشہد مقدس میں مقیم افغان مذہبی انجمنوں کی جانب سے حرم امام رضا(ع) میں روایتی انداز میں عزاداری کا انعقاد شہید رہبر (رح) کے سوگوارں کی میزبانی کے لئے مشہد مقدس مکمل طور پر تیار