آستان نیوز کے مطابق آيت اللہ احمد مروی نے امام رضآ علیہ السلام کے حرم کے خدام سے ملاقات کے دوران رہبرمعظم انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کے دو پیغامات کا ذکرکرتے ہوئے جامعیت ، اقتدار اور روشنی کو ان پیغامات کی خصوصیت قرار دیا اور کہا کہ رہبرانقلاب کا پیغام نوروز انتہائی جامع اور مناسب تھا اور ان کے پیغامات ایک قوم کے رہبرکے طور پر معاشرے کے مسائل پرگہری نظر اور بھرپور توجہ نیز روحی اور ذہنی طور پر ان کی وسعت نظر کی نشاندہی کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ان کے پیغام نوروز میں تمام مسائل کا احاطہ کیا گيا ہے اور میں نے جتنا بھی غور کیا کہ اس پیغام میں کوئی مسئلہ رہ تو نہيں گيا ہے، میرے ذہن میں نہیں آيا اور یہ پیغام اسلامی معاشرے کے رہبرکے طور پران کے واضح موقف، استعداد، ہوشمندی اور وسعت نظر کی بھرپور نشاندہی کرتا ہے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ رہبرمعظم انقلاب امام شہید انقلاب کے خلف صالح اور صحیح معنوں میں صالح بعد صالح ہیں
ان کا کہنا تھا کہ امام خمینی( رح) کی رحلت کے بعد لوگ کہتے تھے خداوندعالم نے مجلس خبرگان پر پرعنایت کی اور آیت اللہ خامنہ ای کا نام ان کے ذہن و زبان پر جاری کیا اور 1989 میں رہبرشہید کا انتخاب اس دور کے حالات اور واقعات میں خداوندعالم کی خاص عنایت تھی ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نئے رہبرانقلاب حضرت آيت اللہ حاج آقا مجتبی خامنہ ای کا انتخاب بھی ان حالات میں جو 1989 کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہیں خداوندعالم اور امام زمانہ (عج) کی خاص عنایات ہیں۔
انہوں نے نئے رہبرانقلاب اسلامی کے انتخاب کوایک انتہائي بجا اور بہترین انتخاب قرار دیا اور کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی ایک اور بڑی خصوصیت عوام میں ان کی غیر معمولی مقبولیت اور لوگوں کے دلوں میں ان کی بے پناہ محبت ہے اور یہ بھی ملک اور نظام کے سلسلے میں الہی عنایت اور امام زمانہ (عج) کی خاص توجہ ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے اس ملک اور نظام پر حضرت ولیعصر (عج) مسلسل نظر اور توجہ رکھے ہوئے ہیں ۔
آيت االلہ مروی نے کہا کہ آيت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کو ایک ممتازعالم دین ، اسلام شناس ، عالمی سیاسی مسائل سے مکمل طور پر آگاہ، صاحب تدبیر و درایت اور رہبرشہیدانقلاب کے مکتب کا تربیت یافتہ قرار دیا اور کہا کہ مجلس خبرگان کے ذریعے یہ انتخاب، پوری ایرانی قوم ، مسلمانوں اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کے زخمی دلوں کا مرہم ،قوت قلب اور امید کا باعث بنا اور اس عمل نے دشمنوں کو مایوس اور بے بس کردیا اور ساتھ ہی اس انتخاب نے امام خمینی ( رح) اور امام شہید (رح) کے نورانی راستے کو جاری رکھنے کی ضمانت بھی فراہم کردیا ۔
آیت اللہ مروی نے اسی طرح امام شہید انقلاب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایمان، صبر، حکمت، شجاعت اور مہربانی امام شہید انقلاب کے وجود میں بیک وقت موجزن تھی اور اسی الہی روح نے پوری دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دلوں کوان کا گرویدہ اور مجذوب بنادیا تھا ۔