آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 314
21:38

2026/06/26

گاندھی سے لے کر عیسائی پادریوں تک؛دنیا بھر کے حریت پسندوں کا امام حسین(ع) سے محبت کا راز

رزخهر
برسوں سے عاشورا تاریخ کی حدوں سے گزر چکا ہے اور حسین بن علیؑ اب صرف مسلمانوں کے لیے ایک آشنا نام نہیں رہے؛ وہ حریت، کرامت اور ظلم کے خلاف استقامت کی عالمی علامت بن چکے ہیں۔عیسائی پادریوں اور مغربی مفکرین سے لے کر ہندو پنڈتوں اور دانشوروں تک بہت سارے لوگوں نے اس عظیم ہستی کی دائمی یاد کا راز بیان کرنے کی کوشش کی ہے جس نے اپنے خون سے عزت و ذلت کی حد کو ہمیشہ کے لئے واضح کر دیا۔

آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے محقق جناب علی اکبری چناری نے اپنے ایک مضمون میں سید الشہداء کی شخصیت اور تحریک کے حوالے سے غیرمسلم دانشوروں کے نظریات کو منعکس کیا ہے ،یہ نظریات اس بات کے عکاس ہیں کہ عاشورا کا پیغام دنیا بھر کے آزاد منش اور حریت پسند انسانوں کی مشترکہ زبان ہے ۔ 
تفصیلی  مضمون یا یادداشت ذیل میں قارئین کے لئے ذکر کی جارہی ہے :
امام حسین سے عشق و محبت جغرافیائی، مذہبی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہے اور اسی محبت کی وجہ سے دنیا بھر سے ہر مذہب و مسلک سے ماورا ہو کر لوگ اربعین کے ملین مارچ میں شرکت کرتے ہیں ۔ امام حسین علیہ السلام نے اس لئے قیام کیا تاکہ اعلیٰ انسانی اور الہیٰ اقدار کو زندہ کر سکیں اور جب تک انسانیت ہے ان سے محبت روز بڑھتی رہے گی اور کبھی خاموش نہیں ہوگی۔ 
حضرت امام حسینؑ نے وقت کے یزید کے خلاف قیام کیا اور اپنے خون کے نذرانے سے خدا کا دین زندہ کیا اور جب تک اللہ باقی ہے، حسین(ع) اور ان کا مکتب باقی رہے گا اور ان کے پیروکاروں کا زمانے کے یزیدیوں کے خلاف قیام اور ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
 دوسرے ادیان و مذاہب کے آزادمنش انسان بھی حضرت اباعبداللہؑ سے ناقابلِ بیان عشق و محبت رکھتے ہیں اور ان کی تحریک سے متاثر ہیں۔ ہر سال ہم اس عقیدت کا ایک حصہ محرم کی عزاداری اور اربعین کی مشی میں دیکھتے ہیں۔
چند ایک دوسرے ادیان کے دانشوروں نے بھی امام حسینؑ کی عظیم شخصیت اور ان کے قیام کی تعظیم و تکریم میں متعدد تحریریں، مضامین، کتابیں اور تقاریر پیش کی ہیں۔ ان میں سے ایک عیسائی پادری انتون بارا ہیں جنھوں نے "الحسین فی الفکر المسیحی" کے عنوان سے کتاب تصنیف کی ہے۔
یہ تصنیف "حسینؑ در اندیشہ مسیحیت" کے عنوان سے فارسی میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں سیدالشہداء(ع)کے قیام کے اسباب و علل کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد بار ان کی عظیم اور غیرمعمولی شخصیت کا ذکر کیا ہے اور امام حسین(ع)کو الٰہی ادیان کا جاوداں اور حقیقی گوہر قرار دیا ہے۔
کرس ہیور، ایک اور مسیحی دانشور، اپنے بیانات میں کہتے ہیں کہ امام حسینؑ بطور "سیدالشہداء" تمام انسانوں کے لیے مشیتِ الٰہی کے سامنے مکمل تسلیم اور خالص عبودیت کا نمونہ ہیں۔
موریس دوکبری، ایک اور مسیحی سائنسدان ہیں جو امام حسینؑ کو آزادمنش انسانوں کے لیے اپنے زمانے کے طاغوت کے سامنے استقامت اور ظلم کا بوجھ نہ اٹھانے کا نمونہ قرار دیتے ہیں اور حضرت کے اقوال سے الہام لے کر کہتے ہیں کہ "حسین(ع)  سامراج کے آگے نہیں جھکے ، پس آؤ ہم بھی ان کے طریقے کو اپنے لئے نمونہ بنائیں، سامراجی طاقتوں کے چنگل سے نجات پائیں اور ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیں۔"
ہندو دانشور تمداس تندون؛امام حسین(ع) اور ان کے شجاعانہ قیام کی توصیف میں لکھتے ہیں کہ ’’امام حسین(ع) کی شہادت نے مجھ پر بچپن سے ہی گہرا اور غم انگیز اثر ڈالا،میں اس عظیم تاریخی یادگار کی اہمیت کو جانتا ہوں ، امام حسین(ع) کی شہادت جیسی قربانیاں انسانی تہذیب کو بلند کرتی ہیں اور ان کی یاد کو باقی رکھنا اور یاد دلانا قابل قدر ہے ۔ 
ہندوستان کے عظیم رہنما مہاتما گاندھی ، امام حسین (ع) کے قیام اور شخصیت سے متعلق فرماتےہیں  کہ’’ میں نے اسلام کے عظیم شہید امام حسین(ع)۔  کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا ہے اور کربلا کے صفحات پر پوری توجہ دی ہے اور مجھ پر یہ بات روشن ہو گئی ہے کہ اگر ہندوستان کو کامیاب ملک بننا ہے تو اسے امام حسین(ع)  کے کردار کو اپنے لئے نمونہ عمل بنانا ہوگا ۔ 
تھامس ماساریک نے امام حسینؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی مصیبتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان دونوں عظیم شخصیات کی مصیبتوں کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ"عیسیٰؑ پر جو مصائب آئے، وہ حسینؑ پر آنے والی مصیبتوں کے مقابلے میں ایک بڑے پہاڑ کے سامنے ایک تنکے کی مانند ہیں۔"
اسکاٹش سائنسدان تھامس کارلائل کہتے ہیں کہ ’’حسین(ع) اور ان کے ساتھیوں کو خدا پر پختہ ایمان تھا ،انہوں نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ تعداد کی برتری کی اس وقت کوئی اہمیت نہیں ہوتی جب حق کا سامنا باطل سے ہوتا ہے ،تعداد کی قلت کے باوجود حسین(ع) کی فتح میرے لئے باعث حیرت ہے ۔ 
مالخار سانگولاشویلی عیسائی  بشپ نے غیرمسلم ادیان سے تعلق رکھنے والے مختلف طبقوں کے لوگوں کی اربعین میں شرکت کو امام حسین(ع) کی فتح کی علامت قرار دیا ہے ، انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ امام حسین ہمارے لیے عدل و انصاف، فتح اور محبت کی علامت ہیں۔ امام حسین ہی ہیں جو ہم سب کو یکجا کرتے ہیں تاکہ ہم ایک دوسرے کو پہنچائے گئے زخموں اور دکھوں کا علاج کریں۔ ایک دوسرے سے محبت اور توجہ اربعین کی علامت ہے اور یہ ہماری روزمرہ زندگی کے ہر لمحے میں جاری رہنا چاہیے۔"
ان کے خیال میں، جتنا زیادہ لوگ اربعین کا تجربہ کریں گے، یہ دنیا اتنی ہی زیادہ محفوظ، خوشگوار اور پرامن ہوگی۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح رضوی یونیورسٹی  اور جامعہ المصطفی مشہد برانچ کے درمیان مشترکہ تعاون کا آغاز نقل و حمل، رہائش اور پارکینگ کی توسیع کے لئےحکومت،پارلیمنٹ اورصوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہیں؛صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ کا بیان ایران اور ہندوستان کے مابین باضابطہ فارسی زبان کی تعلیم کے لئے باہمی تعاون کا آغاز حرم امام رضا(ع) میں نصب جالیوں کی زیارت اور فن تعمیر سے متعلق تفصیلات آستان قدس رضوی کے ریسرچ معاونین کا بین الاقوامی امور کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافے پر زور صفوی دور کے وقف  حمام دروازہ کا تعارف ایران سے متعلق میرے ذہن میں پائے جانے والے منفی تاثرات مکمل  طور پرتبدیل ہو گئے؛سنی انفلوئنسر کا بیان تنزانیا سے امام رضا علیہ السلام کے حرم تک عشق و محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ   حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب ہندوستان کے ممتاز عالم دین کی جانب سے اسلامی وحدت کی ضرورت پر تاکید/ برصغیر اوردنیا میں اسلامی بیداری کی ایک جھلک   عالم اسلام کی وحدت میں حضرت امام علی رضا(ع) کی شخصیت کا لافانی عنصر      قائد شہید امت کی دانشمندانہ اسٹریٹیجی نےدشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن کا انعقاد حرم رضوی میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن "میلاد صادقین" کا انعقاد لبنانی رکن  پارلیمنٹ کی آستان قدس کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ سے ملاقات علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی اور امام رضا(ع) یونیورسٹی باہمی تعاون کی توسیع کے راستے پر گامزن افغان شہری کی جانب سے نایاب ڈاک ٹیکٹس آ‎ستان قدس رضوی کو ہدیہ حرم امام رضا(ع)میں عرب زبان زائرین  کے لئے’’امین الامہ، امام المقاومہ‘‘ کے عنوان سے ادبی محفل کا انعقاد