آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ نمائش کی افتتاحی تقریب 5ستمبر2026 کی شام تہران میں منعقد ہوئی جس میں حرم حضرت شاہ عبد العظیم حسنی(ع) کے متولی حجت الاسلام والمسلمین سید علی قاضی عسکر،ملک نیشنل میوزیم اینڈ لائبریری کے ڈائریکٹر جناب امیر خوراکیان اور ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم کے ڈائریکٹر نے اس افتتاحی تقریب کے آغاز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس مجموعے میں اپنی سرگرمیوں کو صارفین کے جسمانی دورے تک محدود نہیں رکھا ،بلکہ اس خزانے مین موجود آثار و نوادرات کی بنیاد پر مواد تیار کرنے کے رجحان کو مضبوط کیا تاکہ ہم ان نفیس اور قیمتی تاریخی آثار میں پوشیدہ داستانوں کو جو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ اور شناخت کا ایک حصہ بیان کرتی ہیں عوام الناس تک پہنچا سکیں۔
جناب امیر خوراکیان نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ رواں سال میں اب تک ورچوئل اسپیس میں مجموعے کے صارفین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، انہوں نے ملک بھر سے ان صارفین کے دائرہ کار میں توسیع پر تاکید کی۔
انہوں نے نمائش’’جہان؛ یک پردہ روشن تر‘‘ کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش رسول گرامی اسلام(ص) کی شخصیت کی عظمت کو اجاگر کرنے اور ہفتہ وقف کی مناسبت سے منعقد کی گئی ہے ،جیسے کہ ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم ملک میں وقف کی ایک زندہ مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیغمبر گرامی اسلام(ص) کی ولادت با سعادت کے موقع پرہر سال کے مطابق وقف نامے کی روایتی رسم بھی اس مجموعے کے واقف اور بانی جناب حاج حسین آقا ملک کے وقف نامے کی بنیاد پر ادا کی گئی ہے ۔ اور اس نمائش کا افتتاح بھی اسی وقف نامے کے نفاذ کی ایک کڑی ہے ۔
ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ ایک شرعی فریضہ ہے
اس افتتاحی تقریب کے دوران حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کے مقدس آستانہ کے متولی نے ملک لائبریری اینڈ میوزیم میں ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دین اسلام خصوصاً مکتب تشیع ؛ ہمیشہ سے ثقافتی، فنی اور علمی آثار کے تحفظ کے حوالے سے دنیا میں سرفہرست رہا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین سید علی قاضی عسکر نے کہا کہ اسلام کے آغاز سے ہی رسول اکرم(ص) اور آئمہ معصومین (ع) کی طرف سے قرآن اور احادیث کی کتابت پر خاص توجہ دی گئی ہے ، در حقیقت وہ لوگوں سے چاہتے تھے کہ علوم کو مکتوب اور پائیدار بنائیں اور آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں اس شعبے میں سرگرمیوں کا دائرہ وسیع تر ہوا اور علمائے شیعہ نے ہمیشہ تہذیبی آثار اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی۔
انہوں ںے کہا کہ قم میں مرحوم آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی(رح) کی لائبریری میں قیمتی اور نایاب مخطوطات کا بیش بہا ذخیرہ، نیز آستان قدس رضوی کے مجموعے اور ملک کی دیگر لائبریریوں میں پائے جانے والے مکتوب آثار اس موضوع کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکتوب ورثے کا تحفظ اور ملک کی تاریخی عمارتوں کی حفاظت نہ صرف ہمارا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے بلکہ اس سے بھی اہم یہ ہم ایرانیوں کا شرعی فریضہ ہے اور اگر ہم نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو دشمن ان مخطوطات کو خرید لیں گے ۔
حجت الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے علمائے کرام اور اداروں کی مخطوطات کی نشر و اشاعت اور احیاء کے حوالے سے انجام پانے والی کاوشوں کو سراہا اور ان آثار کو عوام الناس اور محققین کے تعاون سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
نمائش ’’جہان؛ یک پردہ روشن تر‘‘ کا تعارف
اس نمائش کا انعقاد ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم کے قیمتی اور وقفی خزانے میں موجود آثار پر کیا گیا جس کا مقصد رسول گرامی اسلام(ص) کے نام،یاد اور سیرت کو مسلمانوں کے لئے پیش کیا جائے ،ایسے آثار جو پیغمبر گرامی اسلام(ص) کی عظمت کی عکاسی کرتے ہیں اور مختلف تاریخی ادوار میں مسلمانوں کی جانب سے آپ(ص) کے ساتھ محبت و عقیدت کے اظہار کا منظر پیش کرتے ہیں۔
گراؤنڈ فلور پر واقع ہال میں اس نمائش کے نمایاں آثار رکھے گئے جن میں ’’خانہ کعبہ کے پردے کا ایک ٹکڑا‘‘، قرآن کریم کے متعدد نفیس نسخے،خطاطی کے آثار، اسلامی سکے اور دیگر تاریخی آثار شامل ہیں۔
واضح رہے کہ خانہ کعبہ کے اس پردے کا ٹکڑا سورہ مبارکہ آل عمران کی چند آیات سے مزیّن ہے ۔
واضح رہے کہ ہفتہ وقف میں اس نمائش کا انعقاد ،وقف جیسی نیک سنت کے ذریعے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کی یاد دہانی کراتا ہے جس کی وجہ سے آج ملک کا قیمتی ذخیرہ ؛ محققین اور دلچسپی رکھنے والے افراد کے لئے قابل رسائی ہے اور وقف کے ذریعے یہ آج بھی نسلوں تک پہنچ رہا ہے ۔
واضح رہے کہ ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم کو 1316 ہجری شمسی میں حرم امام رضا(ع) کے لئے وقف کیا گیا تھا اور اس وقت سرکاری چھٹیوں کے علاوہ ہفتے سے جمعرات تک صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شام ساڑھے چار بجے تک تاریخ و ثقافت سے محبت کرنے والوں کے لئے کھلا رہتا ہے ۔
ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم تہران کے امام خمینی(رح) روڈ، خیابان سی تیر،خیابان یارجانی کے آخر میں واقع ہے ۔