اس موقع پر تنزانیا کے مسلم دانشور اور مذہبی رہنما موسی احمد نے جو مالکی مذہب کے پیرو ہیں آستان نیوز سے گفتگو کے دوران ایران میں اپنی موجودگی کے واقعات اور تجربات بیان کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کو اسلامی مذاہب کے پیروؤں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کا بے مثال نمونہ قرار دیا۔
ایران؛ اتحاد و فداکاری کی زندہ علامت
تنزانیا کے مسلم دانشور موسی احمد نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انہوں نے ایران میں اتحاد اور پرامن بقائے باہمی کے ایسے ایسے نمونے دیکھے ہیں جن کی دنیا میں کہیں اور مثال نہيں ملتی کہا کہ ایرانی عوام کی سخاوت و بخشش و عطا وہ بھی غیر ملکی دباؤ اور جنگ کے حالات میں انتہائي حیرت انگیز ہے
ان کا کہنا تھا کہ آپ جب ایران میں ہوں تو پھر بیرونی دباؤ اور خطرات کا ذرہ برابر بھی احساس نہيں ہوتا کیونکہ ایرانی عوام اسی سخاوت و فداکاری کے جذبے کے ساتھ اپنی معمول کی زندگي بسر کررہے ہيں اور یہ جذبہ و حوصلہ سبھی اقوام کے لئے ایک بہترین درس ہے ۔
امام رضاعلیہ السلام ؛ عالمی اتحاد و مذاکرات کا محور
تنزانیا کے مسلم دانشور موسی احمد نے امام رضا علیہ السلام کو امام گفتگو اور وحدت قرار دیا اور اس سوال کے جواب میں کہ سیرت رضوی آج کی دنیا میں اتحاد و یکجہتی کی تقویت میں کتنا موثر کردار ادا کرسکتی ہے کہا کہ امام رضا علیہ السلام امت اسلامیہ کے لئے ایک آفاقی نمونہ بن سکتے ہیں اور مختلف ادیان و مذاہب کے پیروؤں کے ساتھ امام رضا علیہ السلام کا سلوک اور رویّہ پورے عالم اسلام کے لئے چراغ راہ ہے تاکہ اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد کی جانب قدم آگے بڑھایا جاسکے ۔
تنزانیا کے مسلمانوں کے حالات
موسی احمد نے اپنے ملک میں مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ تنزانیا میں شیعہ مسلمان کم تعداد ہونے کے بعد بھی کامیاب ہیں ان کی اکثریت تجارت اور بزنس کرتی ہے ۔
انہوں نے سنی مسلمانوں کے بارے میں بھی کہا کہ تنزانیا میں تاریخ اسلام ایرانیوں کی آمد اور اس کے بعد عمانیوں کی آمد سے معرض وجود میں آئی ہے اور ان دونوں اقوام سے تنزانیا میں اسلام کا گہرا رشتہ ہے اس تاریخی موجودگي نے نہ صرف مسلم معاشرے پر اپنا اثرمرتب کیا بلکہ اس علاقے میں مالکی مذہب کی ترویج اور فروغ پر بھی منتج ہوئی ۔
عمانی تاجروں کی تنزانیا میں ہجرت اس بات کا باعث بنی کہ سنی مسلمان بھی اقتصادی اور سماجی اعتبار سے مضبوط ہوں اور اسی سلسلے نے تنزانیا کے مسلمانوں کے موجودہ ڈھانچے کو تشکیل دیا ہے ۔