آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 452
00:28

2026/09/12

حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب

لذبی
چالیسویں وحدت اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب آستان قدس رضوی کے متولی آیت اللہ احمد مروی اور مختلف ممالک سے آنے والے شیعہ اور اہلسنت علمائے کرام کی موجودگی میں مشہد مقدس میں منعقد کی گئی۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ چالیسویں بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب مشہد مقدس میں قدس ہال میں منعقد ہوئی جس میں آستان قدس رضوی کے متولی آیت اللہ احمد مروی ،عالمی کونسل تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حمید شہریاری،کانفرنس کی صدارتی کمیٹی کے اراکین اور علمائے کرام سمیت متعدد ملکی اور غیرملکی علما اور دانشوروں نے شرکت کی ۔
کانفرنس کے آغاز میں دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی  کے شعبہ بین الاقوامی روابط کے سربراہ  آیت اللہ محسن قمی نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای(حفظہ اللہ) کے پیغام کو شرکاء کے لئے پڑھا۔
امت مسلمہ کی عزت کے لئے قرآنی حکمت عملی وحدت کی صورت میں ہے
رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای(حفظہ اللہ) کے پیغام میں پیغمبر اکرم(ص) اور امام جعفر صادق(ع) کی ولادت کے بابرکت ایّام کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی گئی اور کہا گيا کہ پیغمبر اکرم(ص)اور اہلبیت(ع) کی سیرت؛ ہدایت، معرفت، محبت،جہاد، اخلاق،امانت،صداقت،عدالت،کرامت،علم وعمل ، وحدت اور بھائی چارہ و برادری جیسے اسباق کا ایک مجموعہ ہے۔
 پیغام میں آیا ہے کہ عالم اسلام ایک فیصلہ کن اور تاریخ ساز مرحلے سے گزر رہا ہے اور مسلمان موجودہ حالات میں ایک مؤثر اور تاریخ ساز کردار ادا کر سکتے ہیں؛ اس صلاحیت کے حصول کی پہلی شرط امت مسلمہ کا اتحاد ہے۔
رہبر معظم انقلاب نے اپنے پیغام میں تاکید کی کہ عالمی کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کا اتحاد کوئی سطحی یا عارضی مسئلہ نہیں بلکہ قرآن کریم کی حکمت عملی اور اسلامی تعلیمات میں سے ہے ، اس لئے اسلامی معاشرے میں مشترکہ نکات کو مرکز قرار دینا چاہئے ۔
اس پیغام میں قرآنی اصول «أشداء علی الکفار رحماء بینهم» کو مسلمانوں کی فکر، بیان اور عمل کی بنیادوں میں سے قرار دیا گیا ،اس لئے اگر امت مسلمہ ان اصول سے دوری اختیار کرے گی تو اس کی عزت و اقتدار میں کمی واقع ہو گی۔
تفرقہ اور اختلاف؛ امت مسلمہ کو کمزور کرنے کے لئے دشمن کا ہتھیار
حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے پیغام میں تاکید کی گئی کہ کوئی بھی اقدام جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف کا باعث بنے وہ دشمنان اسلام کے اہداف میں سے ہے اور دشمن ، امت مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنے کے لئے صرف مذہبی اختلافات پر اکتفا نہیں کرتا۔
ان کے پیغام میں کہا گیا کہ اگر امت مسلمہ کو مطلوبہ اتحاد حاصل ہوتا تو فلسطینی قوم اس طرح سے ظلم وجرائم کا نشانہ نہ بنتی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی ممالک کے حکمرانوں خصوصا مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے اطراف میں واقع ممالک کے حکمرانوں سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں اوردشمن کا منصوبہ اچھی طرح سمجھ کر اس سے مقابلہ کریں۔
اس پیغام میں امریکہ اور صیہونی حکومت کو مسلم اقوام کے اتحاد کا اصلی دشمن قرار دیا گیا اور اسلامی حکومتوں اور اقوام میں تفرقہ پھیلانے والی دشمنوں کی چالوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وحدت؛ جدید اسلامی تہذیب کی بنیاد
پیغام کے ایک اور حصے میں اتحاد پر زور تاکید،نزاع و دشمنی سے پرہیز، دشمن کے مقابلے میں استقامت اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کے فروغ  جیسے موضوعات کو بنیادی محور قرار دیا گیا۔
انہوں نے اسلامی ممالک کے آپس میں مال و دولت،سلامتی،علم اور توسیع و ترقی جیسے شعبوں میں تعاون کو جدید اسلامی تہذیب کی جانب قدم بڑھانے کا راستہ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے اتحاد کو ایک اسلامی طاقتور تہذیب کے حصول کی اہم بنیاد قرار دیا ۔
وحدت کو نظریہ سے آگے بڑھ کر عملی میدان میں پہنچنا چاہئے
عالمی کونسل تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حمید شہریاری نے چالیسویں بین الاقوامی کانفرنس وحدت اسلامی میں خطاب کرتے ہوئے تقریباً چالیس ممالک سے تشریف لانے والے مہمانوں،ملکی اور غیرملکی علمائے کرام کی شرکت اور آستان قدس رضوی کی میزبانی کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں ںے کہا کہ کسی بھی فکر یا نظریہ کو عملی میدان میں لانے کے لئے مخصوص راستہ طے کرنا پڑتا ہے اور جس کو شہید رہبر(رح) نے وحدت اسلامی میں اپنایا وہ اس عمل کی ایک کامیاب مثال ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ پانچ مراحل پر مشتمل ہے ،تصور سازی اور پیغام کی تیاری،تنظیم اور ٹیم کی تشکیل،بیانیہ کی تدوین  ،نیٹ ورک سازی اور میدان عمل میں سماجی تحریک۔
انہوں نے پہلے مرحلے یعنی تصور اور مفہوم سازی اور پیغام کی تیاری کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وحدت اسلامی کے مفہوم کی صحیح تعریف ،اس کے اجزاء کی وضاحت اوراس کا پیغام معاشرے میں واضح طور پر پیش کیا جانا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا مرحلہ تنظیم اور ٹیم سازی کا مرحلہ ہے کیونکہ کوئی بھی نظریہ صرف انفرادی بیان کے ذریعے ایک وسیع سماجی تحریک نہیں بن سکتا بلکہ اس کے لئے ایک مخصوص ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے تسلسل اور ترقی کا باعث بنتا ہے ۔
جناب شہریاری نے بیانیہ کی تدوین کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی فکر کا فرد یا مجموعے سے بڑھ کر مختلف دانشور اور قابل افراد از سر نو مطالعہ کریں اوراس کی دوبارہ سے وضاحت کریں تو بیانیہ کی تدوین کی بات کی جاتی ہے ۔
انہوں نے  کہا کہ بیانیہ کی کامیابی کی علامت یہ ہے کہ تیار کردہ پیغام ایسے لوگوں کی زبان سے سنا جائے جن کا اس سے پہلے کوئی براہ راست تعلق نہ ہو۔
جناب شہریاری نے نیٹ ورک کی تشکیل کو چوتھا مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف علما اور دانشوروں کا آپس میں وحدت کی بات کرنا کافی نہیں ، بلکہ یہ فکر سماج تک منتقل ہونی چاہئے اور عوام کو بھی اسی فکر کا عکاس ہونا چاہئے ۔
شہریاری نے کانفرنس میں مختلف ممالک کے متعدد میڈیا کارکنوں اور مؤثر شخصیات کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صلاحیت اور توانائي کا استعمال وحدت سے متعلق دانشوروں کی گفتگو کو ایک وسیع سماجی نیٹ ورک میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
وحدت ؛ میدان عمل میں معنی پیدا کرتی ہے
انہوں نے پانچویں مرحلے کو سماجی تحریک اور میدان عمل میں موجود رہنا قرار دیتے ہوئے کہاکہ  صرف وحدت کے بارے میں بات کرنا کافی نہیں بلکہ اس فکر کے اثرات مسلمانوں کے کردار اور تعلقات میں دیکھنے چاہئیں  ۔
انہوں نے کہا کہ وحدت کے سلبی پہلو میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین، نزاع، دہشت گردی اور تکفیر سے پرہیز کرنا چاہیے۔
جناب شہریاری نے شہید رہبر(رح) کے اسلامی مذاہب کے مقدسات کی توہین کی حرمت کے بارے میں فتویٰ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان وہ ہے جو شہادتین جاری کرتا ہے اور اس کی جان ، مال اور عزت و آبرو کا تحفظ؛ اس کے مذہب سے قطع نظر مدّ نظر رکھنا چاہئے۔
فلسطین کی حمایت عملی وحدت کا مظہر ہے
حجت الاسلام  شہریاری نے فلسطینی قوم اور دباؤ کا شکار دیگر مسلم اقوام کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب فلسطینی عوام خوراک، پانی اور وسائل کی کمی کا شکار ہیں، تو وحدت تقاضا کرتی ہے کہ دوسرے مسلمان میدان عمل میں ان کی مدد کو پہنچیں۔
انہوں نے  کہا کہ فلسطین،لبنان اور دیگر مسلم اقوام کی حمایت وحدت کی نظری گفتگو کو عملی اقدام میں تبدیل کرنے کا مظہر ہے اور یہی چیز ان اہم ترین حصوں میں سے ایک ہے جسے شہید رہبر(رح) نے اپنایا۔
گفتگو کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو مفہوم سازی کرنے کی ضرورت ہے ،اور تنظیم سازی کے بعد بیانیہ کی صورت دیں اور اسے ایک سماجی نیٹ ورک میں تبدیل کریں اور آخر میں یہ نیٹ ورک عملی میدان میں آئے کیونکہ اسلامی وحدت اس وقت نتیجہ خیز ہوتی ہے جب اس کے اثرات عالم اسلام کے حقیقی میدان میں دیکھے جائیں۔
وحدت کا مطلب یکسانیت نہیں ہے
ٹیکنالوجی،ریسرچ اینڈ ایجوکیشن کے وزیر ڈاکٹر حسین سیمایی صراف نے کانفرنس کے دوران یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ مختلف مذاہب، ادیان اور افکار کے باوجود وحدت تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے کہا کہ بنیادی مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وحدت کو مشابہت اور یکسانیت سے غلط سمجھا جائے۔
ایران کے اعلی تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر نے آیت «وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا» کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کا اختلافات کا جواب حذف اور یکسانیت نہیں، بلکہ باہمی شناخت اور اختلافات سے نپٹنے کے اخلاق کو سیکھنا ہے۔
سیمایی صراف نے کہا: جو معاشرہ اختلاف سے ڈرتا ہے، وہ جبر کا سہارا لیتا ہے؛ جبکہ رواداری کی ثقافت سے آراستہ معاشرہ سیکھتا ہے کہ نظریاتی اختلافات کے ساتھ کیسے زندگی گزارے اور انہیں نزاع اور دشمنی کا میدان نہ بنائے۔
 بین المذاہب گفتگو میں مشہد مقدس عالمی سطح پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے
صوبہ خراسان رضوی کے گورنر ڈاکٹر غلامحسین مظفری نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا مشہد مقدس صرف ایک زیارتی شہر نہیں ہے اور یہ زیارت، علم ، روحانیت، اخلاق اور گفتگو کا شہر اور عالم اسلام میں ادیان و مذاہب کی گفتگو کا اہم مرکز بن سکتا ہے ۔
جناب مظفری نے تجویز پیش کی کہ پیامبر اکرم (ص) کی سیرت، امام جعفر صادق (ع) کے علمی مکتب اور امام رضا (ع) کی گفتگو کی سیرت سے متاثر ہو کر مشہد میں ایک علمی اور بین الاقوامی مرکز قائم کیا جائے تاکہ شیعہ و اہل سنت علماء، عالم اسلام کے دانشور اور الہی ادیان کے پیروکار بشریت کے مشترکہ مسائل پر گفتگو کریں۔
صدارتی کمیٹی کے اراکین کا عالم اسلام کے اتحاد پر زور
اختتامی تقریب کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنےو الے کانفرنس کی صدارتی کمیٹی کے اراکین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
لبنانی شیعوں کی سپریم کونسل کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے کہا کہ شہید رہبر انقلاب اسلامی (قدس اللہ نفسه الزکیه) کے افکار صرف امت اسلامی کی مشکلات کے بیان تک محدود نہیں تھے بلکہ انہوں نے ان مشکلات سے نکلنے کے راستے بھی عالم اسلام کے سامنے بیان کئے۔
کابل کی جامعہ شہید برہان الدین ربانی کے پروفیسر اورافغانستان کی اخوت اسلامی کونسل کے معاون جناب مولوی لطف اللہ حق پرست نے کہا کہ قرآن کریم مسلمانوں کو وحدت، بھائی چارہ اور اخوت و برادری کی دعوت دیتا ہے اور انہیں تفرقہ اور انتشار سے خبردار کرتا ہے ۔
انہوں نے مسجد ضرار کے واقعے کا حوالہ دیتےہوئے کہا کہ اگر کوئی مقدس عنوان یا ظاہری شکل بھی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے تو یہ قرآن کی منطق سے قابل قبول نہیں ہے۔
کانفرنس کی صدارتی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر محمد العاصی نے عالم اسلام میں وحدت کے حصول میں رکاوٹوں میں سے ایک  تعصب کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعصب انسان کو اللہ کی اطاعت اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کی راہ سے دور کرسکتا ہے۔
انہوں نے  کہا کہ وحدت کا مطلب مذہبی عقائد سے دستبردار ہونا نہیں ہے بلکہ مسلمان اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے دوسرے مسلمان کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے۔
اسلامی اخوت اور بھائی چارہ ، نسل اور قومیت سے بالاتر ہے
ترکیہ کے دینی امور کی سپریم کونسل کے سابقصدر اور ترکیہ کی دیانت آرگنائزیشن کے سابق نائب صدر ڈاکٹر اکرم کلش نے بھی اسلام کا قومی اور نسلی تعصبات سے مقابلہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظام میں انسان کی قدر اور کرامت اس  کے رنگ ونسل یا سماجی حیثیت سے وابستہ نہیں ہے۔
قرآن کریم؛ تفرقے سے بچنے کا مرکز ہے
صدارتی کمیٹی کے رکن اور زامبیا کے مفتی شیخ اسد اللہ موالہ نے قرآن کریم کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان قرآن کی تعلیمات کی صحیح شناخت کے ذریعے انحراف اور تفرقہ سے بچ سکتے ہیں۔
انہوں نے تکفیری نظریات پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے افکار کو مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اور صدارتی کمیٹی کے رکن جناب ظفر نجار نے بھی مسلمانوں کے مابین تفرقہ روکنے اور امت مسلمہ کے مابین اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہوئے اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دباؤ اور خطرات کے مقابلے میں اپنی طاقت و توانائی کو مستحکم کریں۔
قابل ذکر ہے کہ کانفرنس کے دوران حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کا تصویری پیغام بھی حاضرین کے لئے نشر کیا گیا۔
اس کےعلاوہ آستان قدس رضوی کے متولی آیت اللہ احمد مروی نے بھی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب فرمایا۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
آستان قدس رضوی کے ریسرچ معاونین کا بین الاقوامی امور کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافے پر زور صفوی دور کے وقف  حمام دروازہ کا تعارف ایران سے متعلق میرے ذہن میں پائے جانے والے منفی تاثرات مکمل  طور پرتبدیل ہو گئے؛سنی انفلوئنسر کا بیان تنزانیا سے امام رضا علیہ السلام کے حرم تک عشق و محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ   حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب ہندوستان کے ممتاز عالم دین کی جانب سے اسلامی وحدت کی ضرورت پر تاکید/ برصغیر اوردنیا میں اسلامی بیداری کی ایک جھلک   عالم اسلام کی وحدت میں حضرت امام علی رضا(ع) کی شخصیت کا لافانی عنصر      قائد شہید امت کی دانشمندانہ اسٹریٹیجی نےدشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن کا انعقاد حرم رضوی میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن "میلاد صادقین" کا انعقاد لبنانی رکن  پارلیمنٹ کی آستان قدس کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ سے ملاقات علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی اور امام رضا(ع) یونیورسٹی باہمی تعاون کی توسیع کے راستے پر گامزن افغان شہری کی جانب سے نایاب ڈاک ٹیکٹس آ‎ستان قدس رضوی کو ہدیہ حرم امام رضا(ع)میں عرب زبان زائرین  کے لئے’’امین الامہ، امام المقاومہ‘‘ کے عنوان سے ادبی محفل کا انعقاد رہبر کے گھرانے سے متعلق شہداء سے آستان قدس رضوی کے متولی کی ملاقات آستان قدس رضوی کے متولی کی شہید علی اور شہید مرتضیٰ لاریجانی کے معزز گھرانے سے ملاقات میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے گلزارشہد کے مناظر اور ماحول کی تصویرکشی کے عالمی مقابلہ سےمتعلق پریس کانفرنس امام زمانہ (عج) کی امامت کے آغاز کے موقع پر ضریح مطہر امام رضا(ع) کی غبار روبی کی رسومات حرم امام رضا(ع) کی ضریح مطہر کی صفائی کے مراسم رضوی ہسپتال اور افغانستان کے شفاخانہ حبیب یار کے درمیان تعاون کا سمجھوتہ رہبرشہید کی یاد میں 20 ہزار متبرک کھانے تقسیم