آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ یکم ستمبر2026 کو اس مقدس آستانے کے ریسرچ معاونین کا اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں اجلاس منعقد ہوا جس میں آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے علمی شعبے کے سربراہ جناب محمود ملکی نے تمام شعبہ جات کے مابین زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آستان قدس رضوی کا ہر ادارہ چاہے اس کی سرگرمیاں اندرونی ہی کیوں نہ ہوں، یہ سیکھے کہ اپنے کاموں کو بین الاقوامی افق کے ساتھ کیسے جوڑے، لہذا ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم تمام شعبوں کے لئے ایک ترغیب دہندہ بنیں تاکہ وہ عالمی افق کی طرف بڑھ سکیں۔
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ریسرچ کا ایک بڑا چیلنج منصوبوں کی تخصیص میں ابہام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نشست میں ہم تین سنہری معیارات (بین الاقوامی مخاطب، جغرافیہ، اور ادارہ جاتی اثر انگیزی) کے تعین کے ذریعے اس ابہام کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہذا، جو تحقیق اس سطح پر نافذ ہونی چاہیے، اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی عالمی مخاطب کی مدد کرتی ہے یا آستان قدس رضوی کے عالمی مقام کو بلند کرنے کا باعث بنتی ہے۔
آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے علمی معاون نے مزید برآن RFP یعنی ’’نیاز نامہ‘‘(فہرست ضروریات) پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی نتائج کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کار فرما (امپلائرز) کی ضرورت کو واضح طور پر مشخص کیا جائے اور پھر یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز اس ضرورت نامے کی بنیاد پر اپنے منصوبے پیش کریں۔ اس کا مطلب نظریاتی تحقیق کے دور کا خاتمہ اور ‘اطلاقی و مسئلہ پر مبنی تحقیق’ کے دور کا آغاز ہے۔
قابل توجہ ہے کہ آستان قدس رضوی کی بین الاقوامی علمی اور تحقیقی کونسل کی نشست جو اس نورانی آستانے کے ذیلی اداروں کے تحقیقی معاونین پر مشتمل ہے ؛ بین الاقوامی شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے، تحقیقی شعبوں میں سہولت کاری اور پیش کردہ منصوبوں کی جانچ پڑتال کے مقصد سے تسلسل کے ساتھ ہفتہ وار منعقدہورہی ہے۔