کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حرم امام رضا(ع) میں زیارتی جالیاں کتنی ہیں؟
ان جالیوں کی تعداد کے لئے عدد متعین نہیں کر سکتے کیونکہ حرم امام رضا(ع) میں جالیوں کی مختلف شکلیں اور مقامات ہیں ،اور اس پر بھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہے کہ زیارتی جالی کا عنوان ٹھیک کس کس پر لاگو ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جو تعداد بتائی جاتی ہے وہ مختلف ہے ۔
ان جالیوں میں قدیمی ترین اور معروف ترین کون سی ہے ؟
قدیمی ترین اور معروف ترین جالیوں میں سے ایک صحن انقلاب اسلامی میں واقع فولادی جالی ہے اس صحن کا پہلا نام صحن کہنہ یا عتیق تھا۔ تاریخی مآخذ کے مطابق، اس صحن میں جالی کے موجود ہونے کی تاریخ تقریباً 500 سال پرانی ہے اور ممکن ہے کہ اس کی قدمت اس سے بھی زیادہ ہو۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ تیموری دور سے پہلے بھی مقدس روضے کے شمالی جانب اور حضرت (امام رضا) کے سر مبارک کے پیچھے کی طرف باہر کی طرف ایک جگہ موجود تھی۔
پس جو فولادی جالیاں اس وقت موجود ہیں کیا یہ کئي صدیاں پرانی ساخت والی جالیاں نہیں ہیں؟
اگرچہ ان کا سابقہ طویل تاریخ کا حامل ہے لیکن ان کی گذشتہ صدیوں میں کئی بار مرمت اور تبدیل کیا گیا ہے ،صفوی دور حکومت میں صحن انقلاب(صحن کہنہ) کی تعمیر نو کے ساتھ ہی اس جالی کو بھی مستحکم کیا گیا جو آج بھی موجود ہے ؛ لہذا جس جگہ پر یہ جالی ہے اس کی قدمت اور جالی کی قدمت کو موجودہ تعمیر کی قدمت سے الگ جاننا چاہئے۔
صحن انقلاب کی فولادی جالی کےعلاوہ ،حرم امام رضا(ع) کے کن حصوں میں واقع جالیوں کے ذریعے زیارت کا امکان ہے؟
ان جالیوں میں سے ایک اور جالی صحن جمہوری اسلامی میں واقع ہے جس سے دارالولایہ دکھائی دیتا ہے ،دارالولایہ کے اندر بھی ایک کھڑکی ہے جو حضرت(ع) کے سر کی جانب ہے اور جہاں سے ضریح مطہر کی زیارت بھی کی جا سکتی ہے ۔
واضح رہے کہ کئی جالیوں کی جگہ بھی ان صدیوں میں تبدیل کی گئی ایک جالی جو پہلے ضریح مطہر کے شمال اور شمال مشرق میں واقع تھی ،عصر حاضر میں اس کی جگہ بدل دی گئی ہے ۔
کیوں زیادہ تر جالیوں کو فولادی جالی کہا جاتا ہے ؟
ان کھڑکیوں کا بڑا حصہ دھات (فولاد) کا بنا ہے اور عموماً ان میں کئی دروازے اور محراب نما طاق ہیں۔ دروں میں دھات کی گول اور ماسورہ نما جالیاں ہیں جو حفاظتی کردار کے ساتھ ساتھ کھڑکی کو جالی دار ساخت بھی دیتی ہیں۔ بالائی حصوں میں زیارت کے ماحول کے مطابق کتبے بھی موجود ہیں۔
فنی لحاظ سے ان جالیوں کی کیا خصوصیات ہیں؟
حرم کی زیادہ تر کھڑکیاں فولاد کی ہیں، جبکہ بہت محدود تعداد میں لکڑی کی بنی ہوئی بھی ہیں۔ تعمیرات کے بعض حصوں، خاص طور پر بالائی حصوں میں، فیم اور کتبے میناکاری کی ٹکنیک سے بنے ہیں۔ ان کی خوبصورت مثال صحن جمہوری اسلامی کی فولادی جالی میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ اس لحاظ سے، یہ زیارتی جالیاں حرم مطهر کے فنی اور تعمیراتی ورثے کا قیمتی حصہ شمار ہوتی ہیں۔
کیا ان جالیوں کی مرمت سے متعلق دستاویزات موجود ہیں؟
یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ہر جالی کو کتنی بارتعمیر یا تبدیل کیا گیا ہے کیونکہ یہ تمام تبدیلیاں مکمل طور پر درج نہیں ہیں، تاہم آستان قدس رضوی کے دستاویزات میں ان کی مرمت کے کچھ ریکارڈ موجود ہیں، جو مرکزی لائبریری کے دستاویزاتی مرکز میں محفوظ ہیں۔
ان جالیوں کے بارے میں قدیمی ترین تاریخی شواہد کس زمانے سے متعلق ہیں؟
ان کے آغاز کی قطعی تاریخ معلوم نہیں، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ کم از کم 500 سے 600 سال قبل، تیموری دور سے، ایسی جالیاں موجود تھیں۔ بعض مآخذ میں، تیموری دور کے آخر اور صفوی دور کے آغاز میں، حرم مطهر میں مشہور شخصیات کی تدفین کی جگہ کی نشان دہی کے لیے بھی ان جالیوں کو بطور حوالہ استعمال کیا گیا ہے۔
ایک تعمیری عنصر کس طرح سے زیارت کا حصہ بن گیا؟
ان جالیوں کی موجودگی کی قدمت اور استمرار اس کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے ،ان جالیوں کے پاس زیارت عام طور پرگڑگڑانے، حاجت روائی اور شفا کی درخواست کے ساتھ ہوتی ہے اور کچھ عوامی روایات جیسے دخیل باندھنا بھی انہیں مقامات پر وجود میں آئیں ، اس لئے یہ جالیاں زیارت کے مقامات کا حصہ بن گئیں۔
کیا کہہ سکتے ہیں کہ فولادی جالی کی شہرت کا ایک حصہ زائرین کی یادوں کا نتیجہ ہے؟
جی ہاں؛ یہ جالیاں بہت یادگار ہیں۔ نسل در نسل، ان کے پاس بے شمار واقعات رونما ہوئے ہیں اور انہی یادوں نے زائرین کے ذہنوں میں ان کے مقام کو مستحکم کر دیا ہے۔ رفتہ رفتہ، ان جالیوں کے گرد زیارت معمول بن گئی ہے اور یہ محض ایک تعمیراتی عنصر سے کہیں آگے بڑھ کر، حرم امام رضا (ع) کے زائرین کی اجتماعی یادوں کا حصہ بن چکی ہیں۔
کیا حرم امام رضا(ع) کی موجودہ تعمیرات میں بھی زیارتی جالیوں پر توجہ دی جاتی ہے ؟
جی ہاں! قدیم اور جدید دونوں طرز کی تعمیرات میں ان جالیوں پر توجہ دی گئی ہے ،جہاں کہیں بھی روضہ منورہ کے صحن کے ساتھ بصری رابطہ قائم کرنے کا امکان موجود رہا ہے وہاں کوشش کی گی ہے کہ زیارتی مقامات کے ڈیزائن میں ان جالیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے ، یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیارتی جالی محض ماضی سے متعلق کوئی خاص نمونہ نہیں ہے بلکہ یہ آج بھی حرم امام رضا(ع) کے زیارتی مقامات کے ڈیزائن کا حصہ ہے ۔
ایک جملے میں حرم امام رضا(ع) کی زیارتی جالیوں کے مقام کو کیسے بیان کریں گے؟
زیارتی جالیاں ؛تعمیرات اور زیارت کی ثقافت کے مابین رابطہ کا مرکز ہیں، ایسے عناصر جنہوں نے صدیوں کے دوران فن اور تعمیرات کو گڑگڑانے ، حاجت روائی،زائرین کی یادوں اور امام رضا(ع) سے ان کے بصری تعلق کو جوڑا ہے ۔