آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 30 اگست2026 کو ایک سنی انفلوئنسرنے بین الاقوامی کانفرنس ’’وحدت اسلامی‘‘ کے مہمانوں کے ہمراہ حرم امام رضا(ع) میں واقع شہید رہبر(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کے تحائف والے میوزیم اور قالین میوزیم کا وزٹ کیا ،یہ پروگرام حرم امام رضا(ع) کی انتظامیہ اور آستان قدس رضوی کے شعبہ تبلیغات کے توسط سے ترتیب دیا گیا تھا۔
آستان قدس رضوی کے میوزیمز اور نوادارت خزانوں کے سربراہ جناب عبد الحسین ملک جعفریان نے اس دورے کے دوران مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کے تحائف سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایک ہزار مربع میٹر پر محیط رقبے میں شہید رہبر(رح) کی جانب سے عطیہ کی گئی 350 سے زائد نفیس اور نایاب اشیاء نمائش کے لئے رکھی گئی ہیں ،اگرچہ شہید کے عطیہ کردہ آثار کی مجموعی تعداد دو ہزار ہے جو اس وقت آستان قدس رضوی کے خزانے میں محفوظ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ آثار غیرملکی حکام اور شخصیات کے علاوہ ملکی سطح پر شہید رہبر(رح) کے عقیدت مندوں کی طرف سے تحفے کے طور پر دیئے گئے تھے۔
قالین؛ ایرانی شناخت کا عکاس
اس وزٹ دوران قالین کے میوزیم کو بھی متعارف کرایا گیا ،ملک جعفریان نے اس دوران گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ رضوی خزانے میں سات سو سے زائد نفیس اور نایاب قالینیں محفوظ ہیں لیکن میوزیم میں نمائش کی جگہ محدود ہونے کی وجہ سے صرف 105 قالینوں کو عوام کی نظروں کے سامنے رکھا گیا ہے اور باقی ہینڈ میڈ قالینوں کے خزانے میں موجود ہیں جہاں پر درجہ حرارت، نمی اور روشنی کے لحاظ سے مکمل انتظامات کئے گئے ہیں۔ میوزیم میں موجود قالینوں کو اسٹیل کے ڈھانچے میں لٹکایا گیا ہے اور قالین کےپچھلے حصے کو موٹے کپڑے سے محفوظ کیا گیا ہے جو طویل مدت میں قالینوں کے تحفظ میں مدد گار ہے ۔
انہوں نے مزیدکہا کہ دنیا بھر میں ایران قالین بافی کا مرکز اور گہوارہ ہے یہی وجہ ہے کہ پورے ایران میں قالین بافی انجام دی جاتی ہے اور ہر علاقے میں قالین بافی مخصوص انداز میں انجام پائی جاتی ہے ،اور اسی وجہ سے میوزیم میں بھی قالینوں کی ترتیب میں اس فرق کو مدّ نظر رکھا گیا ہے اور میوزیم کے ہر حصے میں ایران کے ایک خطے کو مختص کیا گیا۔
افریقی انفلوئنسر کا اعتراف؛ منفی دقیانوسی تصویر سے لے کر رضوی خوبصورت تصویر تک
اس دورے کا ضمنی موضوع ایک غیرملکی مہمان کے الفاظ تھے ، ڈینی اسکوپیو جو ایک میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں اور افریقہ کے ایک بڑے حصے کے نمائندگی میں اس پروگرام میں شریک تھے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران سفرکے محرکات اور گزشتہ سو سال کی افراتفری والی دنیا میں اسلامی تحریک اور تبدیلی لانے والے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میں افریقی معاشرے کے ایک بڑے حصے کے نمائندے کی حیثیت سے یہاں آیا ہوں ، یقیناً یہاں سے ایک خوبصورت تصویر افریقی معاشرے تک پہنچاؤں گا جس سے یہ ظاہر ہوگا کہ مشہد مقدس صرف سالانہ لاکھوں زائرین والاایک بڑا زیارتی شہر ہی نہیں ہے بلکہ اس میں ایک ایسی تہذیب پوشیدہ ہے جس کا ایک حصہ یہاں پر آج پیش کیا گیا ہے ۔
اس انفلوئنسر نے اپنے ذہنی تصورات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بچپن سے میرے ذہن میں یہ تصویر تھی کہ ایران ایک انتہائی غریب ملک ہے اور یہاں کے سب لوگ دہشت گرد ہیں یا دہشت گردی کے حامی ہیں لیکن اس دورے نے میرے اس ذہنی تاثر کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے ۔