آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : ۳۳۶
۱۵:۴۹

۲۰۲۶/۰۷/۰۶

حکومت داری ایک جامع پالیسی کے آئینہ میں، 

رفهغ
رہبر شہید انقلاب اسلامی کے نوروز کے پیغامات کا تجزیہ 

تمدن سازحکومت داری کی جامع پالیسی کے آئینہ میں گزشتہ 35 برسوں کے نوروز کے پیغامات پراسٹریٹیجک نظرثانی کے عنوان سے آستان قدس رضوی کی اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے شیخ طوسی ہال میں ایک علمی نشست منعقد ہوئي    
 آستان نیوز کے مطابق اس نشست میں اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے محقق ڈاکٹرامیرحسین مرادی نے رہبرانقلاب اسلامی کے نوروز کے پیغامات کا  نظام مند اور منظم تجزیہ کرتے ہوئے ان پیغامات کو وسیع تر تناظر میں پالیسی سازی ، اسلامی حکومت سازی ، جہادی پیمانے پر انتظامات چلانے اور جدید اسلامی تمدن کو مجسم کرنے کے تعلق سے ایک اسٹریٹیجک منظومہ اور مرتب لائحہ عمل قراردیا اور طرز حکمرانی کے میدان میں اس عظیم فکری میراث سے استفادہ کی ضرورت پر زور دیا ۔
نوروز کے پیغامات اخلاقی پیغام سے لے کر اسٹریٹیجک حکمرانی کی دستاویزات تک 
 ڈآکٹر مرادی نے اپنی گفتگو کے آغاز میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ گزشتہ تین عشروں سے زائد عرصے کے دوران رہبرانقلاب اسلامی کے پیغامات صرف اخلاقی اور مناسبتی نصیحتوں پر مشتمل نہيں تھے کہا کہ یہ پیغامات درحقیقت ایک جدید و ترقی یافتہ اعلی منشور ، حکومت داری کا روڈ میپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی تمدنی کارکردگي کی سالانہ تفصیلات ہیں جو مختلف میدانوں میں ملک کے راستے کو متعین کرتے ہیں 
ان کا کہنا تھا کہ اس تحقیق کا اصل مقصد ان پیغامات کے متن سے ملک کا نظم و نسق چلانے کے لئے ایک عملی ڈکٹرائن یا حکمت علمی حاصل کرنا ہے    
   نوروز کے 35 سال کے پیغامات کا نظام مند طریقے سے تجزیہ   
ڈاکٹر امیر حسین مرادی نے کتاب کی ہیئت و ماہیت کی وضآحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب آٹھ فصل میں مرتب کی گئي ہے جس میں رہبرانقلاب اسلامی کی رہبری کے آغاز سے لے کران کی حیات کے آخری پیغام نوروزتک  کے سبھی پیغامات کا معانی و مفاہیم کے ساتھ تجزیہ کیا گيا ہے 
ان کا کہنا تھا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے نوروز کے پیغامات کی تدوین میں چار مرحلوں پر مشتمل ایک نمونہ سے استفادہ کیا جس میں حکومت کی کارکردگي ، گزرے ہوئے سال میں پائي گئي کمیاں اور خامیاں، خطرات کا تجزیہ اور دشمن کی تیاریوں کی شناخت پر تاکید اور نئےسال کے سلوگن کے قالب میں ملک کی اسٹریٹیجک اولویت کا تعین نیز ان ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کا طریقہ کار شامل ہے   
 نئے سال کے سلوگن ایک واحد منظومہ  
اس نشست کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا  کہ پیغامات کا تجزیہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے ہر نئے سال کے سلوگن میں تبدیلی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نئے سال کا الگ الگ سلوگن درحقیقت ایک جامع تمدنی منظومہ اور منشور ہے  ان کا کہنا تھا کہ 1370 ہجری شمسی کے عشرے میں سماجی نظم وضبط ، وجدان کاری ، کفایت شعاری پر تاکید کی  گئي یہ وہ دور تھا جب ملک میں جنگ کے بعد تعمیر نو کا عمل جاری تھا ۔ 
 1380 ہجری شمسی کے عشرے میں خلاقیت ، ترقی ، علمی و سائنسی ترقی و پیشرفت کی تحریک  پر زور دیا گيا جس میں یہ بھی تاکید کی گئي کہ مصرف کے طور و طریقے میں اصلاح سے علمی ترقی اور سائنسی پیداوار کے راستے فراہم ہوتے ہیں 
 1390 ہجری شمسی کے عشرے میں غیرملکی دباؤ کی شدت کے پیش نظر مقاومتی معیشت ، ایرانی مصنوعات کی حمایت ، پیداواری صنعت میں رونق اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے جیسے سلوگن دئے گئے جن کا مقصد ملکی معیشت اور پیداوارکو مستحکم بنانا  ہے  
اسی طرح پندرہویں صدی ہجری شمسی کے آغاز میں پیداوار ، نالج بیس ، روزگار کی فراہمی ، افراط زر کی شرح پر کنٹرول اور عوام کی مشارکت سے پیداواری صنعت کو مہمیز دینا جیسے نعرے شامل تھے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک  اقتصادی رقابت اور ملکی پیدوار کے میدان میں  ایک نئے مرحلے مین داخل ہوا چاہتا ہے
 تمدن سازی کا عمل 
 اس نشست میں جن موضوعات کا احاطہ کیا گيا ان میں سے ایک تمدن سازی کی پانچوں کڑیوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا عمل ہے ،  ایسا ماڈل جو رہبرانقلاب اسلامی کے افکار کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران کی پیشرفت کے پانچ مرحلوں (( اسلامی انقلاب)) ((اسلامی نظام )) ((اسلامی حکومت )) (( اسلامی معاشرہ )) اور سرانجام (( جدید اسلامی تمدن )) کو بیان کرتا ہے ۔
مقاومتی معیشت اقتصادی دفاع کی حکمت عملی 
 اس نشست کے ایک اور حصے میں مقاومتی معیشت کو اقتصادی جنگ کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ قرار دیا گيا۔ پیغامات نوروز کے تجزیہ کی کتاب کےمطالب کی تشریح کرنے والے کے بقول مقاومتی معیشت صرف ایک معاشی پالیسی نہیں ہے بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی اقتصادی ڈکٹرائن ہے جو ملکی پیدوار، نالج بیسڈ اقتصاد اور ایرانی مصنوعات کی حمایت اور ملک کی اندرونی صلاحیتوں سے استفادہ کرکے پابندیوں کو ناکارہ بنانے کا راستہ ہموار کرتی ہے 
 عوام کی مشارکت قومی اقتدار و طاقت کا سرمایہ 
کتاب کی آخری فصل میں تمدن ساز حکمرانی کے میدان میں عوام کے کردار پر خاص توجہ دی گئي ہے 
 ڈآکٹر امیر حسین مرادی کے بقول رہبرانقلاب اسلامی کے افکار کی روشنی میں عوام صرف اس لئے نہيں ہیں کہ انہيں پالیسیوں سے اگاہ کردیا جائے   بلکہ وہ نظام حکومت کے اصل مالک اور وارث ہیں اور حکومت کو چاہئے کہ ان کی اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرے ۔
اس نشست کے اختتامی دور میں، نشست میں شریک اساتذہ اور دانشوروں نے اپنے اپنے خیالات اور نظریات کا اظہا ر کیا جن میں علوم اسلامی تحقیقاتی سینٹر کے سربراہ ڈآکٹر شفائی نے اس کتاب کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ کتاب کی بعد والی اشاعت میں ایران میں اسلامی نظام کے طرزحکومت اور دنیا میں رائج حکمرانی کے انداز کا موازنہ بھی پیش کیا جائے جبکہ دیگر دانشوروں اور محققین نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
روضہ منورہ امام رضا(ع) کے خدام ، سوگوار زائرین کو کھانے اور رہائش کی خدمات فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں جارجیا کے 130 رکنی مذہبی و ثقافتی وفد کا حرم امام رضا(ع) کے خدام کی جانب سےخصوصی استقبال شہید رہبر(رح) کی تشیع جنازہ کے موقع پر حرم امام رضا(ع) میں 2100 سے زائد طبی عملے کی تعیناتی امام رضا علیہ السلام کے حرم کو جانے والے راستوں میں پانی اور شربت کی سبیلوں اور سقاخانوں کا انتظام  آستان قدس رضوی کے موکبوں کی تیاری کے تصویری مناظر شہید رہبر(رح) کی ضریح امام رضا(ع) کی صفائی کے دوران لی گئی تصاویر رہبرشہید کی یادگار اور جاودانی میراث  مشہد مقدس میں مقیم افغان مذہبی انجمنوں کی جانب سے حرم امام رضا(ع) میں روایتی انداز میں عزاداری کا انعقاد شہید رہبر (رح) کے سوگوارں کی میزبانی کے لئے مشہد مقدس مکمل طور پر تیار شاہراؤں پرواقع امام رضا(ع) کمپلیکس میں شہید رہبرامت(رح) کے سوگواروں کی میزبانی کے لئے وسیع تیاریاں حرم امام رضا(ع) شہید رہبر(رح) کو وداع کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار آٹھویں خورشید امامت کےسائے میں آخری طواف؛مہربان ترین باپ کی آغوش علمدار کا وداع  الغدیر کیوں آج بھی عالم اسلام کے معتبر ترین تحقیقی آثار میں سے ایک ہے؟ شہید رہبر کے چچازاد بھائی نے رہبر کےساتھ برسوں کی رفاقت اور جدوجہد کے واقعات بیان کئے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کو الوداع کرنے اور تشیع و تدفین سے متعلق آستان قدس رضوی کا دوسرا خصوصی اطلاعیہ حکومت داری ایک جامع پالیسی کے آئینہ میں،  آستان قدس رضوی کی علمی سفارت کاری کی توسیع و ترقی کے لئے لائق اور قابل افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ  کرنے پر زور رضوی لائبریری کی جانب سے 20 مراکز کو 33 ہزار392 کتب ارسال  عشق حسینی کی سیکڑوں روایتی رسومات کے ساتھ ایران ایک متحد حسینی انجمن سید الشہداء(ع) کے سوگ میں امام رضا(ع) کی وصیت «فَابْکِ لِلْحُسَیْن» پر لبیک عالم اسلام کی خواتین نے قرآنی محفل کا انعقاد کر کے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا