آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : ۳۴۵
۱۶:۲۷

۲۰۲۶/۰۷/۰۶

رہبرشہید کی یادگار اور جاودانی میراث 

رزالپراپ
 حضرت امام رضاعلیہ السلام کی ضریح مبارک اور تربت پاک کی غبار روبی کی رسومات میں شرکت ، عید نوروز اور نئے ایرانی سال کے پہلے دن حرم مطہر رضوی میں سالانہ پالیسی ساز  خطاب، وقفے وقفے سے زیارت ، نئے سال کے موقع پر اما م رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری یہ ساری چیزیں  حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام سے رہبرشہید انقلاب کی خاص عقیدت، محبت اور توسل کو ظاہر کرتی ہیں ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے شجاع و بہادر کمانڈرنے خورشید ہشتم حضرت امام رضاعلیہ  السلام کے جوار میں پرورش اور تربیت پائي اور ایک طویل عرصے تک اپنے آقا و مولا سے توسل کرکے اسلامی ایران کے پرافتخار پرچم کو اس کی بلندترین اونچائيوں تک پہنچایا ۔
 آستان نیوز کے مطابق شہید آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای قدس سرہ کی قیادت اور رہبری میں ایران اسلامی اور محاذ حق کو بے شمار کامیابیاں اور ترقی و پیشرفت حاصل ہوئيں ۔ آپ کی رہبری اور قیادت کے دوران اور آ‎ستان قدس رضوی پرآپ کی خصوصی توجہ اور اس آستانہ کے متولیوں کے لئے آپ کی مکرر اور مسلسل نصحیتوں کی بدولت حرم مطہر رضوی کا شکوہ ، آستان قدس کی خدمات اور سیرت رضوی اور رضوی تعلیمات کی ترویج مسلسل تیزی کے ساتھ انجام پاتی رہی  ۔
رہبرشہید نے آستان قدس رضوی کے میوزیم کی توسیع اور قیمتی و قدیمی نوادرات، نفیس و گرانقدر نسخ مکتوب کی حفاظت کو بھی آستان قدس رضوی کے عہدیداروں کا ایک اہم فریضہ قرار دیا اور آپ خود بھی اس راستے میں پیش پیش رہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی رہبری کے برسوں  کے دوران بڑی تعداد میں قیمتی اور گرانقدر ہدیے اور تحائف آستان قدس رضوی کو  اپنی طرف سے نذر یا ہدیہ کئے  ۔
________________________________________
 
 مستقبل پرنگاہ ، یادگار میراث کے بانی و موسس 
 رہبرشہید،  ملک کے اعلی ترین مقام پر فائز رہتے ہوئے اپنی قیادت کے دوران بھی ہمیشہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے بے تاب رہا کرتے تھے اور سال میں کئي بار مشہد کا سفر کرتے اورحضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہوتے ۔
آستان قدس رضوی میں گرانقدر تاریخی کتب و آثار اور خطی نسخ کی حفاظت کے لئے رہبرشہید کی خصوصی توجہ دو اعتبار سے تھی  
 اول یہ کہ ان کی بصیرت اور دوربیں نگاہ مستقبل پر تھی اور یہ چیز ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا کہ گرانقدر اور قیمتی کتابوں اور آثار کی آئںدہ نسلوں کے لئے  حفاظت کی جانی چاہئے۔
دوسرے یہ کہ انہیں آستان قدس رضوی کے میوزیم اور گنجینہ پر بہت زیادہ اعتماد تھا اور اس سلسلے میں وہ اس عظیم مجموعہ کو قیمتی آثار و نوادرات اور ہدیہ کئے گئے گرانقدر تحائف کے لئے سب سے محفوظ ادارہ سمجھتے تھے ۔ 
 رہبرشہید اپنی قیادت کے برسوں کے دوران ہمیشہ ہی بارگاہ منور رضوی کے لئے ہدئے اور تحائف بطورعطیہ دینے پر خاص توجہ دیتے تھے اور اس عرصے میں انہیں جہاں جہاں سے اور جن کے ذریعے بھی قیمتی تحائف ملتے وہ حرم مطہر رضوی اور آستان قدس کو ہدیہ کردیتے تھے ۔
آستان قدس رضوی کے لئے رہبرمعظم انقلاب کی جانب سے ہدیوں اور تحائف کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ان کے لئے حرم مطہر کے گنجینہ میں ایک الگ سے یونٹ قائم کیا گیا ہے جس کا نام ہی رہبرکے ذریعےہدیہ کئے گئے تحائف کا یونٹ رکھا گيا ہے 
 
 محققین کے لئے راستہ ہموار کرنا 
 
رہبرشہید انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے 2025 تک  آستان قدس کو ہدیہ کئے گئے تحائف کی تعداد 1700 تک پہنچ چکی تھی جس کا مقصد تاریخی اور علمی آثار کو آئںدہ نسلوں تک پہنچانا اور ان آثارپر تحقیق اور ریسرچ کرنا ہے تاکہ آئںدہ ایرانی نسلیں تاریخی اور علمی میدان میں ان اثار سے استفادہ کرسکیں ۔ اس کے علاوہ رہبرشہید کی جانب سے ان قیمتی تحفائف کو آستان قدس رضوی میں بطور ہدیہ دینے کا عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حضرت امام رضا علیہ السلام سے کس قدر عقیدت اور عشق رکھتے تھے اور ان کا یہ عمل ان کے پیروؤں کے لئے مشعل راہ بھی بن سکتا ہے ۔
متکثر اور متنوع گنجینہ 
 آستان قدس رضوی کے لئے حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے دئے گئے تحائف کی تعداد جہاں بہت زیادہ ہے وہیں تنوع کے لحاظ سے بھی بے مثال اور بے نظیر ہیں ۔ یہ تحائف کئی اقسام میں تقسیم کئے جاسکتے ہيں کچھ تحائف جنگی آلات کی شکل میں ہیں تو کچھ قیمتی فریم کی شکل میں، کچھ قالیچوں کی صورت میں ہيں تو کچھ قیمتی قالین کے طور پر ہيں، جبکہ ڈکوریشن پیسز بھی ان تحائف میں شامل ہيں جن میں گلدان و گلدستے، ٹرافی ، نسخ خطی،  آثار خوشنویسی ، مختلف میدانوں میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل اور انالوگ آلات ، لوح ، مختلف قسم  کے میڈلز ، کتابیں ، لکڑی کے بنے ہوئے قیمتی شو پیس ، قدیمی ظروف ، طرح طرح کی گھڑیاں ، خاص اماکن کے ماکٹ نیز قیمتی طلائي اور نقرہ ای ہدئے شامل ہیں جبکہ آئمہ اطہار علیھم السلام کے روضہ ہائے منورہ کی متبرک قیمتی اور نفیس اشیا بھی ان تحائف میں شامل ہيں جو آپ نے آستان قدس رضوی کو اپنی جانب سے ہدیہ کئے ہیں ۔
رہبرشہید انقلاب اسلامی کی جانب سے آستان قدس رضوی کو جو تحائف بطور ہدیہ دئے گئے ہيں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن کچھ اہم اور انتہائی قابل ذکر ہدایا ایسے ہیں جن کا ذکر یہاں ضروری ہے 
 رہبرشہید انقلاب اسلامی نے 1993 سے2023 کے برسوں کے دوران جو انتہائي قابل ذکر تحائف آستان قدس رضوی کو بطور ہدیہ دئے ہیں ان میں 45 تحائف خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن میں عصرعاشورا کی منظرکشی والا قالیچہ ، امام خمینی (رح) کے تمثال کا تھری ڈی ماکٹ ، منقوش دھار دار شمشیر اور مطلا غلاف ، اسلامی جمہوریہ ایران کے محکمہ ڈاک کے ٹکٹ کا البم ، اوریسٹ کی چوٹیاں سر کرنے والوں کے پرچم ، مشبک اور معرق رحل ، سورہ مبارکہ حمد لکھی ہوئي تانبے کی تختی شامل ہے  ۔
 جبکہ ادیان کی علامتوں سے مزید ٹیبل گھڑی ، کعبہ معظمہ کے دروازہ کا ماکٹ اور واقعہ عاشورا کی منظر کشی والے قالیچے اور فریم بھی ان تحائف میں شامل ہیں اس کے علاوہ افریقی ملک نمیبیا میں شہاب ثاقب کے پتھر کا ٹکڑا بھی جو آپ کو تحفے میں ملا تھا وہ بھی آستان قدس کے میوزیم کے حوالے کردیا اس کے علاوہ بھی بے شمار تحائف ہيں جوآپ نے آستان قدس رضوی کو بطور ہدیہ دئے ہیں۔
 دوسری جانب امام حسین علیہ السلام کے حرم کی سات رنگوں والی ٹائل جس پر یاب الحوائج لکھا ہوا ہے آپ نے اس قیمتی ہدئے کو بھی امام رضا علیہ السلام کے حرم کو ہدیہ کردیا ۔
  رہبرانقلاب اسلامی کی جانب سے آستان قدس رضوی کو تحائف ہدیہ کئے جانے کے پیش نظر ہی حرم مطہر کے عہدیداروں نے آستان قدس کے میوزیم میں ایک الگ یونٹ قائم کیا جس کا نام ہی رہبرانقلاب اسلامی جانب سے ہدیہ کئے جانے والے قیمتی آثار و نوادرات کا یونٹ رکھا گیا ہے یہ یونٹ گنجینہ قرآن و نفائس حرم رضوی کی عمارت میں گراؤنڈ فلورپر 400 مربع میٹر کی مساحت  میں قائم کیا گيا ہے 
 
نسخ خطی سے رہبرشہید انقلاب اسلامی کی خاص دلچسپی 
حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں رہبرشہید نے جو تحائف پیش کئے ہیں وہ اپنی جگہ،  اس کے ساتھ ہی وہ نسخ خطی کی جستجو اور انہيں حرم مطہر رضوی کے کتابخانے میں بطور ہدیہ دینے میں ہمیشہ پیش قدم رہے اور یہ ان کا شوق بن چکا تھا ۔ 
رہبرشہید کا یہ جذبہ جہاں امام رضا علیہ السلام سے ان کی گہری عقیدت اور والہانہ محبت کو ظاہر کرتا ہے وہیں اس بات  کو بھی ثابت کرتا ہے کہ آپ کو ادبیات اور ثقافت سے کتنی زیادہ دلچسپی تھی 
رہبرشہید انقلاب اسلامی نے مجموعی طور پر گیارہ ہزار سے زائد خطی نسخے حرم مطہر رضوی کو وقف کئے ہیں ۔
ان خطی نسخوں میں جہاں بہت سے  قیمتی قرآنی نسخے اور دیگر کتب شامل ہیں وہیں دیگر اسلامی زبانوں منجملہ ترکی اور اردو میں بھی خطی کتابوں کے نسخوں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جو رہبرشہید نے حرم مطہر کو ہدیہ کئے ہیں ۔ 


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
روضہ منورہ امام رضا(ع) کے خدام ، سوگوار زائرین کو کھانے اور رہائش کی خدمات فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں جارجیا کے 130 رکنی مذہبی و ثقافتی وفد کا حرم امام رضا(ع) کے خدام کی جانب سےخصوصی استقبال شہید رہبر(رح) کی تشیع جنازہ کے موقع پر حرم امام رضا(ع) میں 2100 سے زائد طبی عملے کی تعیناتی امام رضا علیہ السلام کے حرم کو جانے والے راستوں میں پانی اور شربت کی سبیلوں اور سقاخانوں کا انتظام  آستان قدس رضوی کے موکبوں کی تیاری کے تصویری مناظر شہید رہبر(رح) کی ضریح امام رضا(ع) کی صفائی کے دوران لی گئی تصاویر رہبرشہید کی یادگار اور جاودانی میراث  مشہد مقدس میں مقیم افغان مذہبی انجمنوں کی جانب سے حرم امام رضا(ع) میں روایتی انداز میں عزاداری کا انعقاد شہید رہبر (رح) کے سوگوارں کی میزبانی کے لئے مشہد مقدس مکمل طور پر تیار شاہراؤں پرواقع امام رضا(ع) کمپلیکس میں شہید رہبرامت(رح) کے سوگواروں کی میزبانی کے لئے وسیع تیاریاں حرم امام رضا(ع) شہید رہبر(رح) کو وداع کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار آٹھویں خورشید امامت کےسائے میں آخری طواف؛مہربان ترین باپ کی آغوش علمدار کا وداع  الغدیر کیوں آج بھی عالم اسلام کے معتبر ترین تحقیقی آثار میں سے ایک ہے؟ شہید رہبر کے چچازاد بھائی نے رہبر کےساتھ برسوں کی رفاقت اور جدوجہد کے واقعات بیان کئے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کو الوداع کرنے اور تشیع و تدفین سے متعلق آستان قدس رضوی کا دوسرا خصوصی اطلاعیہ حکومت داری ایک جامع پالیسی کے آئینہ میں،  آستان قدس رضوی کی علمی سفارت کاری کی توسیع و ترقی کے لئے لائق اور قابل افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ  کرنے پر زور رضوی لائبریری کی جانب سے 20 مراکز کو 33 ہزار392 کتب ارسال  عشق حسینی کی سیکڑوں روایتی رسومات کے ساتھ ایران ایک متحد حسینی انجمن سید الشہداء(ع) کے سوگ میں امام رضا(ع) کی وصیت «فَابْکِ لِلْحُسَیْن» پر لبیک عالم اسلام کی خواتین نے قرآنی محفل کا انعقاد کر کے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا