آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ’’درمحضر حکیم شہید‘‘(شہید حکیم کے حضور میں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سلسلہ وار اجلاس آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں منعقد کیا گیا جس کا مقصد شہید رہبر(رحمت اللہ علیہ) کی شخصیت،علمی وسماجی اور انقلابی و جہادی پہلوؤں کا از سر نو جائزہ لینا اور ان کے قریبی ساتھیوں کی زبانی واقعات کو محفوظ کرنا ہے ۔
اجلاس کے آغاز میں اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے سماجی و ترویجی شعبہ کے معاون حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر علی الھیٰ خراسانی نے شہید رہبر کے قریبی ساتھیوں کی زبانی واقعات کو ریکارڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کی نسل کو شہید رہبر(رحمت اللہ علیہ) کا تعارف صرف تاریخی دستاویزات کے ذریعے ممکن نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی زبانی جو برسوں ان کے ساتھ رہے اور جنہوں نے ان کے ساتھ مل کر جدوجہد کی وہ ان کی انفرادی،سماجی اور انقلابی زندگی کے ان پہلوؤں کو روشن کر سکتے ہیں جو اب تک بیان نہیں ہوئے ۔
انہوں نے سید مجتبیٰ زادہ کا تعارف شہید رہبر(رح) کے چچا زاد بھائی اور ان کے دیرینہ ساتھی کے طور پر کراتے ہوئے کہا کہ برسوں پر محیط خاندانی قربت، تحریک کے دور میں ساتھ، اور رہبرِ شہید (رحمت اللہ علیہ) کی شخصیت سے گہری واقفیت، اُن کی زبانی واقعات کو انقلابِ اسلامی کی زبانی تاریخ کا ایک قیمتی حصہ بناتی ہے۔
اجلاس کے دوران اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر احد فرامرز قراملکی نے سید مجتبیٰ زادہ کو معاصر خراسان کی زبانی تاریخ کے ممتاز راویوں میں سے قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاصر خراسان کی تاریخ میں شاید شاذ و نادر ہی کوئی ایسا اثر انگیز واقعہ ہو جس کے وہ قریبی شاہد اور گواہ نہ ہوں اس لئے ان کی زبان سے ان واقعات کو محفوظ کرنا انقلابی تاریخ کے محققین کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہے ۔
سید مجتبیٰ مجتہد زادہ نے اس نشست میں اپنے خاندانی پس منظر اور شہید رہبر (رحمۃ اللہ علیہ) کے ساتھ اپنے رشتے کی وضاحت کرتے ہوئے، اسلامی تحریک کے برسوں کی یادیں بیان کیں اور ۱۵ خرداد کے واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے اس دور کے انقلابی ماحول اور انقلابی قوتوں کے کردار کو بیان کیا۔
انہوں نے انقلابی تحریک اور جد وجہد کے برسوں میں شہید رہبر (رحمۃ اللہ علیہ) کے ساتھ اپنی پہلی ملاقاتوں اور رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے، تحریک کے اعلامیوں کی ترسیل، خفیہ انقلابی سرگرمیوں، انقلابی تحریک کے جلسوں اور انقلاب کی تحریک کی ہدایت میں ان کے موثر کردار کے بارے میں گفتگو کی اور اس دور کی کچھ ان سنی باتیں شرکاء کے سامنے بیان کیں۔
انہوں نے شہید آیت اللہ بہشتی اور انقلاب اسلامی کی دیگر مؤثر شخصیات سے متعلق یادیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر (رحمۃ اللہ علیہ) نے انقلابی جد وجہد کے تمام برسون اور انقلاب کی فتح کے بعد، دور اندیشی، تدبیر اور عوامی مزاج کے ساتھ، ہمیشہ تاریخی مواقع پر اہم کردار ادا کیا اور اس دور کے بہت سے فیصلوں اور موثر اقدامات نے ان کی موجودگی اور ہدایت سے اپنا راستہ پایا۔
واضح رہے کہ سلسلہ وار اجلاس’’درمحضر حکیم شہید‘‘ میں شہید رہبر کی زندگی،مبارزات اور افکار سے منسلک یادوں اور زبانی بیان کئے گئے واقعات کو بیان کیا گیا ، ان میں محققین،ماہرین اور شہید رہبر کے قریبی ساتھیوں نے شرکت کی ۔