آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 467
17:07

2026/09/21

طالبات کا ہاسٹل ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ علم و روحانیت کے امتزاج کی علامت ہے

برس
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ طالبات کا ہاسٹل ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ اور اس جیسے کئی دیگر منصوبے علم و دانش اور روحانیت و مذہب کی علامت ہونے چاہئیں،اور ان سے یونیورسٹی ، طلبا ،ثقافت اور دینی معارف کے مابین تعلق کو مضبوط بنایا جانا چاہئے۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 20 ستمبر2026 بروز اتوار کو مشہد مقدس کی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس میں ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ہاسٹل کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں آیت اللہ احمد مروی نے اپنے خطاب کے آغاز میں حضرت امام حسن عسکری (ع) کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اوریونیورسٹی آف میڈیکل سائنس کے سربراہ اور آستان قدس رضوی کے متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ہاسٹل محض ایک عمارت یا عام ہاسٹل نہیں ہے، بلکہ یہ علم، یونیورسٹی، روحانیت  اور دین کے آپس میں جڑنے اور یکجہتی کی علامت ہے۔
انہوں نے آستان قدس رضوی اور مشہدمقدس کی میڈیکل سائنس یونیورسٹی کے مابین تعاون جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ یہ تعاون جاری رہے گا اور مستقبل میں اس کی رفتار اور وسعت میں مزید اضافہ ہوگا تاکہ یونیورسٹی، دینی حلقوں اور روحانیت کے درمیان تعلق قائم کرنے اور اسے تقویت دینے کے لیے اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ علم و روحانیت کے ملاپ کی علامت
آستان قدس رضوی کے متولی نے یونیورسٹی طلبہ کے تھیسزز کے جلسات دفاع کو حرم امام رضا(ع) میں منعقد کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تجویز کا مقصد علم و یونیورسٹی،طالب علم اور استاد کا مذہب اور روحانیت سے تعلق جوڑنا ہے ۔
آیت اللہ احمد مروی نے حضرت امام علی رضا(ع) کے علمی مقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت رضا (ع) امام صادق (ع) کے الفاظ میں «عالم آل محمد» ہیں؛ کیا حرج ہے کہ حرمِ عالم آل رسول اللہ (ص) میں علمی مباحث اور علمی اجلاس منعقد ہوں اور یہاں تک کہ یونیورسٹی کے کچھ تھیسز کے دفاع کے اجلاس بھی حرم مطہر میں منعقد ہوں؟
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات پرتاکید کرتے ہوئے کہ طلبا کا حرم سے تعلق صرف زیارت تک محدو نہیں ہونا چاہئے کہا کہ طالب علم صرف زیارت کے لئے ہی حرم کیوں آئے؟ ہم کیوں ہر شعبے میں یونیورسٹی اور حرم کے درمیان ؛ طالب علم اور امام رضا(ع) کے درمیان ربط قائم نہ کریں اور امام رضا(ع) کو لوگوں کی زندگی میں کیوں نہ لائیں؟
آیت اللہ مروی نے کہا کہ آستان قدس رضوی کے پاس حرم امام رضا(ع) میں طلبہ کے تھیسز کے جلساتِ دفاع منعقد کرانے کے لئے ضروری جگہ موجود ہے اور وہ ان اجلاسوں کے لئے درکار سہولیات اپنے خرچ پر فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔
اگر امام رضا(ع) ہوتے تو کیا کرتے؟
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے دوران شہید رہبر(رح) سے متعلق ایک یادگار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب میں آستان قدس رضوی کے کچھ مسائل اور مشکلات کے سلسلے میں ان کی خدمت میں پہنچا، تو میں نے عرض کیا کہ ایک طرف آستان قدس ہے اور دوسری طرف عوام، اور پوچھا کہ ان مسائل کے مقابلے میں کیا کرنا چاہیے۔
شہید رہبر عظیم الشان(رح) نے ایک جملہ فرمایا جس نے ہمارے سامنے ایک وسیع راستہ اور باب کھول دیا اور بہت سی مشکلات حل کر دیں؛ فرمایا ’’اگر حضرت رضا (ع) ہوتے تو کیا کرتے؟‘‘
آیت اللہ مروی نے اس جملے کو آستان قدس رضوی کے بہت سارے اقدامات کا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ آستان قدس کے بہت سے اقدامات اسی معیار اور اسی جواب کو بروئے کار لا کر تشکیل پائے ہیں۔
انہوں نے ان خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے جو اس سے قبل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز مشہد کے طلبہ سے اپنی ملاقات میں طلبہ کی طرف سے پیش کیے گئے تھے، کہا کہ ہم نے بھی اسی معیار کی بنیاد پر اپنے آپ سے کہا کہ اگر حضرت رضا (ع) ہوتے تو ان خدشات کے مقابلے میں کیا کرتے اور اسی بنیاد پر طلبہ کے لیے اقدامات کیے گئے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے غیر ارادی جرائم میں ملوث قیدیوں کی رہائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقع پر عدلیہ کے ایک ذمہ دار شخص نے حرم مطہر میں ایک ایسے گروہ کا ذکر کیا جو مالی مسائل اور معمولی رقم کی وجہ سے جیل میں تھا اور ایک رقم مختص کر کے ان میں سے بہت سے لوگوں کی رہائی کا زمینہ فراہم کیا جا سکتا تھا۔ وہیں میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ اگر حضرت رضا (ع) ہوتے تو کیا کرتے اور اسی نگاہ نے بہت سے قیدیوں کی رہائی کا زمینہ فراہم کیا۔
آیت اللہ مروی کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات امام رضا(ع) کی مقدس و نورانی بارگاہ کی برکت سے ہیں اور ہمارا اس میں کوئی کردار نہیں ہے ، یہ سب امام روؤف اور مہربان امام کے روضہ منورہ کی برکات سے ہیں۔
بیماری کے درد اور تکلیف کا ازالہ؛ خدمت کے اہم ترین مصادیق
آستان قدس رضوی کے متولی نے طب اور علاج کے شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ علاج ایک بہت اہم مسئلہ ہے، اور لوگوں کے لیے بہترین خدمات میں سے ایک ان سے بیماری کے درد اور تکلیف کا ازالہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی صحت اور علاج کے میدان میں اپنی استطاعت اور امکانات کی حد تک قدم اٹھاتے ہیں اور عوام کے علاج اور بیماری کی تکلیف کو کم کرنے کو اپنی ترجیحات میں شمار کرتے ہیں۔
محترم متولی نے امام رضا(ع) کے لئے وقف کردہ جائیدادوں اور نذرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا (ع) کے اموال اور وسائل کا ایک اہم حصہ ان وقف اور نذرانوں سے فراہم ہوتا ہے جو لوگ حضرت رضا (ع) کے ساتھ شوق اور ایمان کے ساتھ پیش کرتے ہیں، اور ان اموال کو عوام ہی کے لیے اس طرح خرچ کیا جانا چاہیے کہ جس کا ایک اہم ترین میدان صحت اور علاج کا شعبہ ہے۔
میڈیکل کمیونٹی کو خراج تحسین اورملک کی علمی ترقی پر زور
آیت اللہ مروی نے ایران کی طبی کمیونٹی کو مہارت، علمی صلاحیت، عزم، ذمہ داری اور طبی اخلاقیات کے لحاظ سے ایک قابل فخر کمیونٹی قرار دیتےہوئے کہا کہ طبّی کمیونٹی نے دفاعِ مقدس کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہمارے ڈاکٹروں اور نرسز جنگی محاذوں پر فعال رہے ۔
انہو ں نے کہا کہ طبی برادری نے کورونا کے دور میں بھی قابل تعریف کارکردگی دکھائی اور ایرانی قوم کو شہداء پیش کیے اور 12 روزہ جنگ میں بھی پوری قوت اور توانائی کے ساتھ عوام کی خدمت میں مصروف رہی۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے ملک کی طبی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا کہ اپنے ملک میں عام طبی چیک اپ بھی ممکن نہیں تھا؛ لیکن آج ایران میں ایرانی ڈاکٹروں کے ہاتھوں مشکل ترین آپریشنز انجام دئے جاتے ہیں اور یہاں تک کہ بیرون ملک سے لوگ علاج کے لیے ایران آتے ہیں۔
آیت اللہ مروی نے اس تبدیلی کو اسلامی انقلاب کے اہم ترین کارناموں میں سے قرار دیتے ہوئے کہا کہ  انقلاب سے پہلے عام کلینکوں میں بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک کے ڈاکٹر موجود تھے اور ہمارے پاس اتنے ڈاکٹر بھی نہیں تھے کہ پسماندہ علاقوں کو طبی خدمات کے لئے فراہم کر سکیں؛ لیکن آج انقلاب اسلامی کی برکت سے ملک کی علمی ترقی اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ ہماری طبی صلاحیتیں ماضی سے قابل موازنہ نہیں ہیں۔
انہوں نے شہید رہبر(رح) کے علم و دانش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ علم، دانش اور علمی ترقی پر زور دیتے تھے اور عوامی مجالس ہوں یا نجی، اس موضوع کے لیے وقت نکالتے تھے۔
یونیورسٹی اور عوام کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے دوران یونیورسٹی اور عوام کے درمیان کمزور تعلق پر روشنی ڈالتےہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں وسیع جگہ اور مختلف سہولیات کی ضرورت کی وجہ سے عام طور پر معاشرے کے متن سے کچھ فاصلے پر بنائی جاتی ہیں؛ یہ ضرورتیں قابل فہم ہیں، لیکن اس فاصلے کو پُر کرنے کے لیے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔
انہوں نے معاشرے کے متن میں روایتی دینی مدارس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے شہروں میں پرانے دینی مدارس بازار میں اور عوام کی دسترس میں واقع تھے۔ اس میں حکمت تھی؛ طالب علم اس مدرسے کے ذریعے جو معاشرے کے متن میں واقع تھا، عوام سے رابطہ قائم کرتا، ان کے ساتھ زندگی گزارتا اور عوام کے مسائل اور مشکلات سے بیگانہ نہیں ہوتا۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ یونیورسٹیاں بڑی جگہ اور زیادہ سہولیات کی ضرورت کی وجہ سے ہمیشہ گنجان آباد مراکز اور بازار کے متن میں نہیں بن سکتیں؛ لیکن دوسرے ذرائع سے اس فاصلے کو پُر کرنا چاہیے۔
انہوں نے تاکید کی کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے کہ طالب علم ڈاکٹر، ماہر یا انجینئر بننے کے بعد عوام سے بیگانہ نہ ہو اور ان کے مسائل اور ضروریات سے تعلق رکھے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ یونیورسٹیوں، وزارتوں اور حکومت میں پالیسی سازی کرنے والے عزیزوں کو اس موضوع پر غور کرنا چاہیے تاکہ یونیورسٹی سے نکلنے والا اسپیشلسٹ زیادہ سے زیادہ عوامی ہو۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی ماہر شخص کا عوام کی عام آبادی سے رابطہ نہ ہو تو ممکن ہے کہ اسے عوام کی حقیقی ضروریات کی کافی معلومات نہ ہوں اور اس کا فیصلہ عوام کی زندگی کے حقائق سے فاصلہ پیدا کر لے۔
آخر میں آیت اللہ مروی نے یونیورسٹی سے وابستہ افراد کے امام رضا (ع) سے تعلق کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ آستان قدس رضوی کا یونیورسٹی کے ساتھ تعاون جاری رہے گا اور ہم آئندہ اس تعاون کو مزید وسیع کریں گے اور اس صلاحیت کو یونیورسٹی، دینی شعبے اور روحانیت کے درمیان ربط پیدا کرنے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال ماہ رمضان میں آستان قدس رضوی کےمتولی آیت اللہ احمد مروی نے یونیورسٹی آف میڈٰکل سائنس کے طلبا کے ہاسٹلز کا دورہ کیا اور طلبا سےملاقات کے بعد طلبہ کی طرف سے ہاسٹل کی سہولیات کی توسیع اور فراہمی، بشمول نئے ہاسٹل کی تعمیر، کے خدشات اور درخواستوں کے پیش کیے جانے کے بعد، آستان قدس رضوی کے متولی کی منظوری سے طالبات کا ہاسٹل’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ آستان قدس رضوی کی حمایت سے یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس کے مقام پر تعمیر اور افتتاح کیا گیا۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
رضوی سیرت میں حکیمانہ مینجمنٹ اور استقامت؛دینی طرز حکمرانی کا مکمل نمونہ مزاحمتی محاذ کا ناقابل شکست ہونے کا دارومدار’’جہاد تبیین‘‘ اور رضوی تعلیمات پر ہے رضوی سیرت؛ انسانی کرامت کی بنیاد پر انسانی حقوق کی نئی تعریف کے لئے ایک عملی نمونہ امام رضا(ع) آج بھی اقوام اور ادیان کے مابین یکجہتی کا مرکز ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع)؛امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے طالبات کا ہاسٹل ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ علم و روحانیت کے امتزاج کی علامت ہے آستان قدس رضوی کے متولی کی موجودگی میں ملک کے جدید ترین ہاسٹل کا افتتاح عبدالعظیم حسنی (ع) دینی معرفت سے سماجی اتحاد تک آستان قدس رضوی؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح رضوی یونیورسٹی  اور جامعہ المصطفی مشہد برانچ کے درمیان مشترکہ تعاون کا آغاز نقل و حمل، رہائش اور پارکینگ کی توسیع کے لئےحکومت،پارلیمنٹ اورصوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہیں؛صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ کا بیان ایران اور ہندوستان کے مابین باضابطہ فارسی زبان کی تعلیم کے لئے باہمی تعاون کا آغاز حرم امام رضا(ع) میں نصب جالیوں کی زیارت اور فن تعمیر سے متعلق تفصیلات آستان قدس رضوی کے ریسرچ معاونین کا بین الاقوامی امور کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافے پر زور صفوی دور کے وقف  حمام دروازہ کا تعارف ایران سے متعلق میرے ذہن میں پائے جانے والے منفی تاثرات مکمل  طور پرتبدیل ہو گئے؛سنی انفلوئنسر کا بیان تنزانیا سے امام رضا علیہ السلام کے حرم تک عشق و محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ   حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب