آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ بیروت میں المیادین چینل کے دفتر کے سربراہ رونی آلفا نے چھٹی عالمی کانگریس حضرت رضا (ع) کی بین الاقوامی تخصصی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا(ع) صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی انسانوں کو اس مقدس بارگاہ کی طرف کھینچ رہے ہیں۔
انہوں نے امام رضا(ع) کی زیارت کو ایک اعزاز سمجھتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی حرم امام رضا(ع) کی زیارت سے مشرف ہو چکا ہوں۔
انہوں نے چھٹی عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج میں اس کانفرنس میں مزاحمتی محاذ کے تناظر میں شریک ہوا ہوں، جسے ہم نیا سامراج کہتے ہیں، یہ ایک ایسا دھارا ہے جو میرے نزدیک ان تسلط پسندانہ منصوبوں کے خلاف کھڑا ہے جنہوں نے پورے مغربی ایشیا خطے کو متاثر کیا ہے ۔
رضوی کانگریس؛ عالمی یکجہتی کا مظہر
اس لبنانی دانشور اور صحافی نے عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) میں شرکاء کے تنوع کو اس روداد کی نمایاں خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں قابل توجہ نکتہ مختلف ادیان و مذاہب اور اقوام کی شرکت ہے ۔
جناب آلفا نے کہا کہ یہ تنوع ظاہر کرتا ہے کہ امام رضا (ع) کو رحلت کے صدیوں بعد بھی انسانوں کو جمع کرنے کی صلاحیت حاصل ہے۔ لوگ اس مقدس بارگاہ میں آتے ہیں، زیارت کرتے ہیں اور امام رضا (ع) سے دعا اور عنایت طلب کرتے ہیں۔ ایسی صلاحیت قوموں اور مختلف ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ربط پیدا کرنے میں اس عظیم امام (ع)کے مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
نئے سامراج کے خلاف مزاحمت
انہوں نے مغربی ایشیا کی سیاسی اور امنیتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعہ نئے استعماری منصوبوں کے خلاف قوموں کو یکجہتی کی اہمیت پر تاکید کی جائے ، ایسے منصوبے جو ہمارے خیال میں خطے کے ممالک کی آزادی، حاکمیت اور مستقبل کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران 28 فروری کے امریکی و صیہونی حملوں کے بعد، ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف جغرافیائی سیاسی پوزیشن میں ہے۔