آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ اسلامی انسانی حقوق کمیشن آف لندن کے سربراہ جناب مسعود شجرہ نے عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کے تحت منعقدہ نشست کے دوران اس بات پر تاکید کی کہ امام رضا (علیہ السلام) کی سیرت اور تعلیمات موجودہ دنیا میں انسانی حقوق کی نئی تعریف کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمِ آل محمد (علیہ السلام) کی تعلیمات صرف ایک نظری فریم ورک نہیں؛ بلکہ انسانی کرامت کے تحقق کے لیے ایک عملی روڈ میپ ہیں۔ سیرتِ رضوی ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلامی نقطہ نظر میں انسانی حقوق تقابل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ «رأفت» اور «انسانی کرامتِ ذاتی» کی بنیاد پر استوار ہیں۔
گفتگو کی منطق؛ حقائق کی وضاحت کے لئے ایک ضرورت
انہوں نے امام رضا(ع) کے مناظرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیرتِ رضوی میں سب سے زیادہ جو چیز نمایاں ہے وہ کرامت پر مبنی منطق ہے۔ امام رضا (ع) اپنے مخالفین کے ساتھ بھی استدلال اور احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔ یہی چیز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آج کی دنیا کے انسانی حقوق کے ماحول میں، ناانصافی کے مقابلے کا حل صرف چیخنا نہیں، بلکہ حقائق کی وضاحت ایسی زبان میں ہے جو پاک انسانی فطرت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ رضوی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسانوں کے حقوق، رنگ، نسل اور عقیدے سے قطع نظر، ایک الٰہی امانت ہیں اور ان حقوق کا دفاع درحقیقت اسی عزت کا تحفظ ہے جو خدا نے بنی نوع انسان کے لیے مقرر کی ہے۔
حق و باطل کا تقابل ؛ سیاسی سرحدوں سے بالاتر
مسعود شجرہ نے شہید رہبر(رح) کے افکار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ جدو جہدکا تفکر جو شہید رہبر(رح) سے سرچشمہ لیتا ہے کوئی نسلی ، ریاستی، قومی یا حتی سرحدی جدو جہد نہیں ہے، اس جدوجہد کو روزمرہ سیاست کے قالب اور جغرافیائی سرحدوں تک محدود کرنا، اس کی حقیقت سے دور ہونا ہے۔ ان کا تفکر دراصل حق و باطل کے درمیان جدوجہد تھا؛ ایک بنیادی تقابل جو ذاتِ ہستی اور وحی کی تعلیمات میں جڑا ہوا ہے اور آج کی دنیا میں اس کی تشخیص کے لیے قرآنی اور ماورائے مادی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔
مزاحمت میں سچائی کی روشنی میں عالمی بیداری
انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں بیداری آرہی ہے حتی مختلف سیاسی شخصیات بھی اس حقیقت کا اقرار کرتی ہیں کہ بنی نوع انسان خطرے میں ہے ، یہ بیداری اس سچائی ، مزاحمت اور فداکاری کا نتیجہ ہے جو مزاحمتی محاذ میں دیکھی جا سکتی ہے ،اس راہ پر شہید رہبر(رح) کی تحریک درحقیقیت حسینی تحریک کی بازگشت تھی جس نے حقیقت کو ہر طرح کے فریب اور باطل کے کھوکھلے سہاروں پر مقدم کیا۔