آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ5نومبر2026 بروز جمعرات کو حرم امام رضا(ع) کے سینئر ڈائریکٹر جناب رضا خوراکیان نے پاکستان کے شہر کراچی کے امام جمعہ اورعالمی شہرت یافتہ خطیب علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی سے ملاقات کے دوران پاکستانی زائرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی زائرین حضرت رضا (ع) کے گرامی ترین زائرین میں سے ہیں؛ کیونکہ وہ مشهد مقدس تک پہنچنے اور بارگاہِ منورِ رضوی کی زیارت کے لیے انتہائی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔
انہوں نے پاکستانی زائرین کے زمینی سفر کی دشواریوں، بشمول راستے میں طویل انتظار، سیکیورٹی کی پابندیوں اور نقل و حمل کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ زائرین ان تمام مشکلات کے باوجود خاص عقیدت و ارادت کے ساتھ حضرت امام رضا (ع) کی زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں، اور یہ شوق و خلوص اس بات کا مستحق ہے کہ ان پر مزید توجہ دی جائے اور انہیں بہتر خدمات فراہم کی جائیں۔
حرم مطهر رضوی کے سینئر ڈائریکٹر نے پاکستانی زائرین کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں ایران میں داخلے کے راستے پر ان زائرین کے آرام اور پذیرایی کے لیے ایک مجموعہ تیار کیا گیا ہے تاکہ ان کی کچھ مشکلات حل ہو سکیں۔
اردو زبان میں ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کے لیے حرمِ رضوی کی جانب سے مکمل آمادگی
خوراکیان نے پاکستانی عوام کے ساتھ براہ راست ثقافتی تعلقات کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اس ملک کے فعال افراد اور ثقافتی شخصیات کی شرکت سے حرم امام رضا(ع) میں ثقافتی اور مذہبی پروگرامز منعقد کیے جائیں۔
انہوں نے اردو زبان میں لائیو کمیونیکیشن اور مشترکہ پروگرام تیار کرنے کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حرم مطہر رضوی کی صلاحیتوں کو پاکستانی شخصیات کی جانب سے تقاریر، تلاوت قرآن، شعر خوانی اور ثقافتی و مذہبی مواد پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؛ اس طرح سے کہ یہ پروگرام حرم مطہر رضوی سے پاکستانی عوام کے لیے نشر ہوں۔
انہوں نے آستان قدس رضوی کی جانب سے پاکستان میں ثقافتی اور مذہبی وفود بھیجنے میں تعاون کے لیے آمادگی کا بھی اعلان کیا اور اس ملک کی مشہور شخصیات اور ثقافتی مراکز کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے پر زور دیا۔
حرم مطهر رضوی کے سینئر ڈائریکٹر نے ایران اور پاکستان کے درمیان مشترکہ ثقافتی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے حرم مطهر رضوی میں پاکستان کے ثقافتی ہفتے کا انعقاد ایک اور قابلِ عمل موضوع قرار دیا اور کہا کہ حرم مطهر رضوی کے میوزیم کے خزانے میں پاکستان کے قیمتی آثار، بشمول خطی نسخے اور اس ملک کی ثقافتی و علمی شخصیات سے متعلق آثار موجود ہیں، جو دونوں قوموں کے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو متعارف کرانے کے لیے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے ایران اور پاکستان کی ثقافت اور فکر میں علامہ اقبال لاہوری(رح) کے مقام کا بھی ذکر کیا اور اس شخصیت کو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی گفت و شنید کو فروغ دینے کے لیے ایک مناسب موضوع قرار دیا۔
پاکستان میں امام رضا (ع) کے یوم شہادت کی تقریبات منعقد کرنے کی تجویز
اس ملاقات کے ایک اور حصے میں صفر کے آخری ایام میں حرم مطهر رضوی کے بین الاقوامی پروگراموں کو وسعت دینے کا موضوع زیر بحث آیا۔
خوراکیان نے خطے کے ممالک میں امام رضا (ع) کی شہادت کی تاریخ کے بارے میں بعض مذہبی روایات کے فرق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 17 صفر کو بھی امام رضا (ع) کے یوم شہادت کی عزاداری کے پروگراموں کے طور پر اہمیت دی جاتی ہے۔ اسی بنیاد پر، یہ تجویز دی جاتی ہے کہ آئندہ برسوں کی منصوبہ بندی میں، آستان قدس رضوی کے بین الاقوامی پروگراموں کا ایک حصہ اس مناسبت پر اور حرم مطهر کے خدام اور ثقافتی فعال افراد کے ایک وفد کی موجودگی میں پاکستان میں منعقد کیا جائے۔
اس کے بعد یہ تجویز پیش کی گئی کہ پاکستان کی مذہبی اور ثقافتی شخصیات کے تعاون سے کراچی شہر میں حضرت امام رضا (ع) کے نام اور یاد میں ایک تقریب منعقد کی جائے اور اس پروگرام میں حرم مطهر رضوی کا متبرک پرچم بھی موجود ہو۔
خوراکیان نے آخر میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حرم مطهر رضوی مختلف قومیتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے تمام محبان اہلبیت (ع) سے تعلق رکھتا ہے، اردو زبان میں ثقافتی اور مذہبی پروگرام منعقد کرنے کے لیے بعض رواقوں کی صلاحیت کو مختص کرنے کے سلسلے میں اس مجموعے کی آمادگی کا اعلان کیا اور پاکستانی زائرین کے لیے خصوصی پروگراموں کے انعقاد کی خاطر امام خمینی (ره) رواق کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔
اس ملاقات کے تسلسل میں، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے حالیہ مہینو ں میں پاکستانی زائرین کی تعداد میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے، خاص سیکیورٹی حالات اور سفر کے راستوں میں موجود پابندیوں کو اس موضوع کی اہم ترین وجوہات قرار دیا۔
انہوں نے حرم مطهر رضوی میں پاکستانی زائرین کی ثقافتی اور مذہبی ضرورتوں پر توجہ دینے کی ضرورت کا بھی ذکر کیا اور اردو زبان زائرین کی موجودگی، زیارت اور عزاداری کے پروگرام منعقد کرنے کے لیے ایک مناسب جگہ مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی زائرین کو بھی اپنی زبان اور ثقافت کے مطابق جگہ کی ضرورت ہے تاکہ وہ زیارت کے ساتھ ساتھ اپنے مذہبی پروگرام اور ثقافتی سرگرمیاں انجام دے سکیں۔
اس ملاقات کے آخر میں، حرم مطهر رضوی کی سینئر مینجمنٹ کی جانب سے یادگار کے طور پر پاکستانی وفد کو آستان قدس رضوی کا ایک متبرک تحفہ پیش کیا گیا۔
علامہ سید شہنشاه نقوی نے اس ملاقات کے بعد برصغیر کے زائرین کے ایک گروہ کے ہمراہ شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کی مزار پر حاضری دی اور زیارت کی، اور پھر آستان قدس رضوی کی مرکزی لائبریری میں تشریف فرما ہو کر «مقاتل الشیعہ» کے عنوان سے 14 جلدوں پر مشتمل تحریری مجموعے کو اس آستان مقدس کی لائبریری کو ہدیہ کیا۔