فولادی جالی ((یا اردو زبان زائرین جسے مرادوں کی جالی کہتے ہیں)) کو بنانے کا ماجرا وہاں سے شروع ہوتا ہے جب ملا محسن فیض کاشانی نے یہ تجویز دی کہ ایک ایسی جالی یا جھروکہ بنایا جائے جہاں سے امام رضا علیہ السلام کے روضہ کی ضریح نظر آئے تاکہ لوگ وہاں سے دل کھول کر اپنے دل کی بات امام رضا علیہ السلام سے کہہ سکیں۔
اگرچہ آج اس جالی پر طلائي رنگ کردیا گيا ہے لیکن فولاد یا لوہے کا یادگاری نام یعنی لوہے کی جالی یا فولادی جالی آج بھی اس کا اصل نام ہے جو صرف صحن انقلاب تک محدود نہيں ہے بلکہ ایسی ایک اور جالی صحن جمہوری اسلامی میں بھی نصب کردی گئي ہے جس پر خوبصورت کتبے نصب ہیں اور اسی انداز میں لوگ وہاں بھی کھڑے ہو کر جالی کے خانوں سے امام رضا علیہ السلام کے روضہ کی ضریح کی زیارت کرتے ہیں اور اپنے امام سے حال دل بیان کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ صحن گوہر شاد میں بھی ایسی ہی ایک جالی لگا دی گئي ہے جہاں سے مشتاقان زیارت، ضریح مطہر کی زیارت کرتے ہیں اس جالی پر آبی رنگ سے سورہ حمد کا کتبہ بھی نصب ہے اور یہ ساری چیزیں زائرین کے ذہنوں کے جھروکوں کو ضریح کے قریب اپنی موجودگي کو کا پورا احساس دلاتی ہیں۔۔
خبر کا کوڈ: 177 تاریخ اشاعت : 2026/04/05