اُس گھڑی جب مؤذن کی آواز سے پہلے کی خاموش زمین کو اپنے دامن میں لپیٹ لیتی ہے اور حرم کے رواقوں سے نسیم سحر چلتی ہے تو گویا کسی بڑے فنکار کے ہاتھوں میں موجود قلم صرف رنگ نہیں بلکہ روح بکھیر رہی ہے ،استاد محمود فرشچیان وہ فنکار ہیں جنہوں نے برسوں اپنے قلم کو رضوی دہلیز پر رکھا وہ صرف حرم کے مصور نہیں تھے بلکہ روحانی و ملکوتی سانسوں کے راوی تھے۔
خبر کا کوڈ: 250 تاریخ اشاعت : 2026/05/10