آستان نیوز کے مطابق نئے ہجری شمسی سال کے وقت اور دعائے یا مقلب القلوب و الابصار سے حرم مطہر رضوی میں ایک خاص معنوی ماحول پیدا ہوگیا
تحویل سال یا نئے ہجری شمسی سال کی رسومات نمازمغرب و عشا کے درمیان انجام پائيں اور حرم کے صحنوں اور رواقوں میں موجود دسیوں ہزار زائرین اور مجاورین نے دعائے تحویل سال، زیرلب زمزمہ کرکے اپنے دلوں کو آسمانوں کی جانب روانہ کیا اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ملک وقوم کی سلامتی اور خوشحالی کی دعا کی ۔اس موقع پرذکر یا مقلب القلوب اور صلوات کی آواز پورے حرم میں گونج رہی تھیں
تحویل سال یا نئے ہجری شمسی سال کی رسومات ہر سال حرم مطہر رضوی میں منعقد ہوتی ہیں جن میں پورے ایران سے لاکھوں کی تعداد میں زائرین شرکت کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں زائرین اس نورانی بارگاہ میں دیگر عاشقان اہل بیت کے ہمراہ نئے سال کا آغاز کرتے ہیں
اس درمیان نئے ہجری شمسی سال کا آغاز اس سال ماہ مبارک رمضان کی آخری تاریخ کو ہوا اور اس موقع پر امام رضا علیہ السلام کا حرم نمازمغرب و عشا کے موقع پراور اس کے بعد بھی زائرین سے مملو اور لبریز تھا اور سب کی آنکھوں میں اشک امید تھے اور دعا کے لئے ہاتھ بلند تھے
ماہ مبارک رمضان کے آخری دن غروب کے وقت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کے مناظر قابل دید تھے ۔ ایسا وقت غروب جو عطر دعا اور انتظار سے آمیختہ تھا اس لمحے کے لئے دسیوں ہزار بلکہ لاکھوں کی تعداد میں زائرین اور مجاورین گھنٹوں قبل سے حرم کے مختلف صحنوں اور رواقوں میں پہنچ گئے تھے اور حرم کے تمام صحنوں اور رواقوں میں نماز مغرب و عشا کے لئے نمازیوں کی منظم صفوں نے معنوی مناظر اور لحمات کو مزید دلکش بنادیا تھا ۔ کسی کے ہاتھ میں قرآن کریم تھا تو کسی کے ہونٹ ذکر و دعا کی حالت میں جنبش کررہے تھے اور بعض تو پورے اطمینان و سکون کے ساتھ امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کے طلائي گنبد کو ہی دیکھے جارہے تھے جن کے چہروں سے شوق و سکون اور امید جھلک رہی تھی اور ان کو یہ اطمینان حاصل ہورہا تھا امام رؤوف کی عنایتوں کے زیرسایہ ان کا نیا سال امن و ترقی و خوشحالی کا سال ہوگا
نئے ہجری شمسی سال کے آغاز کے موقع پر ((آوای ارادت)) نامی گروپ نے اجتماعی طور پر دعا پڑھی اور منقبت خوانی کی
یہ منقبت امام رضاعلیہ السلام کی مدح میں تھی جبکہ اس گروپ نے ایران اسلامی اور اس کے اقدار سے تجدید عہد کے سلسلے میں بھی اجتماعی طور پراشعار پڑھے ۔ جس وقت قومی ترانہ (( اے ایران اے سرائے امید )) ترانہ پڑھا گيا اوراس کی آوازپورے حرم میں گونجی توحرم میں موجود زائرین اور مجاورین کے جم غفیر نے ایک ساتھ مل کریہ ترانہ پڑھا جس سے وطن سے محبت اور جذبہ فداکاری کا شاندار جلوہ دیکھنے کو ملا
چند ہی لمحوں بعد معروف ترانہ (( سلام فرماندہ))کی آواز زائرین کے درمیان گونجی اور یوں حرم کی فضا جوش و جذبے سے سرشار ہوگئی
تحویل سال سے قبل مداح اہل بیت (ع) مہدی رسولی نے دعائے توسل کی قرآئت کرکے غیر معمولی معنوی ماحول پیدا کردیا تھا اور سبھی زائرین نے مل کر یہ دعا پڑھی اور لوگوں کی آنکھوں سے اشک جاری تھے گویا سب کے دل ایک آواز ہو کرتوسل کررہے ہیں اور سبھی زائرین، ایران اور ایرانی عوام کی سربلندی نیز ترقی و خوشحالی کے لئے دست دعا بلند کئے ہوئے تھے
اس سال بھی نئے ہجری شمسی سال کی رسومات نے ایک بار پھراہل بیت اطہار سے لوگوں کے عشق و محبت کا جلوہ پیش کیا اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے نئے سال کا استقبال امام مہربانی حضرت علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کے حرم میں کیا