(( ضامن آہو)) تحریک نے جو غیرعمدی جرائم کا ارتکاب کرنے والی قید کی سزا کاٹنے والی ماؤں کو رہا کرانے کے لئے ماہ مبارک رمضان کے آغاز میں شروع کی گئي تھی اب اپنے آخری مرحلے اور ہدف تک پہنچ گئی ہے
اس خبر کی مزید تفصیلات جاننے کے لئے کرامت رضوی فاؤنڈيشن کے شعبہ خواتین اور اہل خانہ کی سربراہ محترمہ فاطمہ دژ برد سے گفتگو کی ہے
آستان نیوز کے مطابق کرامت رضوی فاؤنڈيشن کے شعبہ خواتین اور اہل خانہ کی سربراہ محترمہ فاطمہ دژ برد نے عید سعید فطر کی آمد کے موقع پر ایک ٹیلی ویژن انٹرویو می کہاکہ آستان قدس رضوی کا ایک اہم کام مشکلات میں گرفتار لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے تحت ان والدین کی مشکلات کو حل کرنا بھی شامل ہے جو غیر عمدی جرائم کی وجہ سے قید کی سزا کاٹ کررہے ہیں ۔
اس سال ماہ مبارک رمضان کے آغاز میں (( ضآمن آھو)) کے نام سے ایک تحریک شروع کی گئي جس کا مقصد پورے ملک میں ان 118ماؤں کو قید سے رہائي دلانا تھا جو غیرعمدی جرائم کی وجہ سے جیلوں میں بند تھیں
اورعوام کی مدد وعطیات سے یہ کام مکمل ہوگیا
محترمہ دژ برد نے اس سوال کے جواب میں کہ اس وقت 118 ماؤں کے کیس جو قید میں ہیں کس مرحلے میں ہیں اور یہ مائيں کب اپنے گھروں کو لوٹیں گي کہا کہ خوش قسمتی سے اب تک جب عید سعید آنے والی ہے ان قید ماؤں کی فائلوں کا جائزہ لیا جاچکا ہے اور سبھی قیدیوں کے خلاف شکایت کرنے والے ، متاثرین اوراستغاثہ کو راضی کرنے کے لئے کام مکمل کرلئے گئے ہیں اور انشاء اللہ عید سعید فطر کے موقع پر جیلوں میں قید یہ مائيں اپنے بچوں کے پاس لوٹ آئیں گي اور عید کی خوشیاں اپنے اپنے گھروں میں منائيں گي
غیرعمدی جرائم کے مرتکب قیدیوں کو رہا کرانے کا پروگرام جاری ہے
کرامت رضوی فاؤنڈيشن کے شعبہ خواتین اور اہل خانہ کی سربراہ محترمہ فاطمہ دژ برد نے اس پروگرام کو جاری کرنے کے بارے میں کہا کہ آستان قدس رضوی کے تحت مخیرحضرات کے ذریعے انجام پانے والے تعاون سے غیرعمدی جرائم کا ارتکاب کرنے والے قیدیوں کو رہا کرانے کا پروگرام 2021 میں ماہ مبارک رمضان میں شروع کیا گيا تھا اس وقت عام خیال یہی تھا کہ شاید یہ پروگرام وقتی ہو لیکن پورے ایران میں لوگوں نے اس پروگرام کا بھرپور خیرمقدم کیا یہاں تک کہ بیرون ملک لوگوں نے بھی اسے بہت پسند کیا اور اسی بناپر یہ پروگرام ایک سنت حسنہ میں تبدیل ہوگیا اور پھر 2021 کے بعد سے ہر سال ماہ مبارک رمضان میں یہ پروگرام انجام دیا جاتا ہے اور اس تحریک کے نتیجے میں اب تک 3100 ماں اور باپ جو غیر عمدی جرائم کے تحت جیلوں میں سزائے قید کاٹ رہے تھے رہا کرائے گئے ۔
انہوں نے ان قیدیوں کی رہائي کے لئے جو رقومات ادا کی گئيں ان کے بارے میں کہا کہ بہت ہی اہم اور قابل ذکر نکتہ یہی ہے کہ ان قیدیوں کے کیس اور فائلوں کو ختم کرانے کے لئے مجموعی طور پر 6 ہزار ارب تومان کی ضرورت تھی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم نے یہ پوری رقومات ادا نہیں کيں بلکہ پورے ایران میں امام رضا علیہ السلام کے اعزازی خادموں نے استغآثہ اور متاثرین کے پاس جاکر ان مجرموں اور قیدیوں کو معاف کرنے کے لئے انہیں راضی کیا اور ان میں سے بہت سے متاثرین اور استغاثہ نے امام رضا علیہ السلام کے نام کے احترام میں اپنے قرضوں یا دیگر اشکال میں اپنے حق کو معاف کردیا
کرامت رضوی فاؤنڈيشن کے شعبہ خواتین اور اہل خانہ کی سربراہ محترمہ فاطمہ دژ برد نے اس تحریک کا عوام کے ذریعے پرجوش خیرمقدم کئے جانے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ امام رضا علیہ السلام کا نام بہت سی مشکلات کے حل کی کنجی ہے اور جب ایران کے عوام دیکھتے ہیں کہ اس نام مبارک کے پرچم تلے بہت سی مشکلات حل ہوجاتی ہیں تو وہ نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔