آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 169
12:09

2026/04/05

آقا سید مجتبی خامنہ ای کے نظریات، رہبرانقلاب کے ہی نظریات ہیں۔

آقا سید مجتبی خامنہ ای کے نظریات، رہبرانقلاب کے ہی نظریات ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں رہبر، امام عصر ( عج) کا جانشین اور ایسا فقیہ ہوتا ہے جو علم اور تقوا کے لحاظ سے اعلی مرتبہ پر فائز ہوتا ہے ۔

آستان نیوز کے مطابق مجتمع عالی قرآن و  حدیث کے سربراہ اور حوزہ و یونیورسٹی کے استاد حجت الاسلام ڈاکٹر محمد علی رضائی اصفہانی نے حرم مطہر رضوی کے مدرسہ پریزاد میں ایک علمی نشست میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے رہبرحضرت آیت اللہ سیدمجتبی خامنہ ای حفظہ اللہ کی خصوصیات بیان کی ۔     
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے رہبرانقلاب اسلامی کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے ان کی علمی صلاحیتوں، سیاسی بصیرت و تجربات اور سادہ طرز زندگي و تقوا و تدین نیز اختیارات کے استعمال سے اجتناب کو ان کی اہم ترین خصوصیات قراردیا اور کہا کہ پورے ایران میں کہیں بھی آقا مجتبی کے نام پر ایک میٹر بھی زمین نہيں ہے جبکہ انہوں نے اپنے والد کے ہمراہ چالیس سال کا عرصہ اس حیثيت سے گزارا کہ ان کے والد یا تو ملک کے صدرتھےیارہبرتھے ۔
حجت الاسلام رضائي اصفہانی نے کہا کہ بنیادی آئين میں علم ، عدالت اور شجاعت رہبرکے لئے ضروری ہے اور ماہرین کی اسمبلی یا مجلس خبرگان جو 80 ارکان پر مشتمل ہے رہبرکا انتخاب اور ان کی کارکردگي پر نظارت کرتی ہے 
انہوں نے کہا کہ نئے رہبرکے انتخاب کے عمل میں متعدد اہم اور معروف شخصیات میں سے مجلس خبرگان کی اکثریت نے رہبر شہید کے دوسرے بیٹے حضرت آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کو ان کی علمی، سماجی اورسیاسی خصوصیات کی بنیاد پر دیگر امیدواروں پر ترجیح دی ۔
انہوں نے نئے رہبرکی علمی صلاحیتوں اور کارناموں  کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ حضرت آيت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے تقریبا 40 سال تک تہران اور قم کے حوزہ میں تعلیم حاصل کی اور تقریبا 20  برسوں تک خود اصول اور فقہ کا درس خارج دیا چنانچہ 2023 تک تقریبا 1300 شاگردوں نے ان کے درس خارج میں شرکت کے لئۓ اپنے نام رجسٹرڈ کرائے تھے اور پھر اس کے بعد انہوں نے اپنے درس خارج کی کلاسز کو بند کردیا تاکہ بزرگ مراجع کرام کے دروس میں طلبا کی تعداد کم نہ ہو۔
 انہوں نے آيت اللہ سید محتبی خامنہ ای کی سیاسی بصیرت اور کارناموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا وہ رہبرشہید کے دست راست تھے اور برسوں تک ان کے ہمراہ اہم سیاسی اور فوجی میٹنگوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔
حجت الاسلام رضائي اصفہانی کا کہنا تھا کہ بہت سے اعلی حکام یہ جانتے تھے کہ آقا مجتبی کے نطریات اور خیالات بالکل وہی ہیں جو رہبرانقلاب کے نطریات ہیں   ۔
انہوں نے سادہ زیستی اور اقتصادی میدان میں اختیارات سے استفادے سے اجتناب کو رہبرسوم انقلاب کی ایک بڑی خصوصیت بتایا اور کہا کہ رہبرشہید جمہوری اسلامی اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے ان کے بیٹے کوئي کمپنی ، فرم ، تجارت خانہ کھولیں یا ایکسپورٹ ایمپورٹ کے کاموں میں حصہ لیں۔ کیونکہ وہ ان چیزوں کو لغزش ، خطا اور غلط استفادے کا سبب و محل سمجھتے تھے ۔
حجت الاسلام رضائي اصفہانی نے اس طرز فکر کو رہبرشہید کے گھر میں تقوا اور ورع کی  علامت قرار دیا اور کہا کہ رہبرشہید بھی اور موجودہ رہبر بھی (( حد ورع )) میں ہیں یعنی حتی ان کاموں کے نزدیک تک بھی نہیں جاتے جن میں گناہ کا امکان بھی ہو۔
انہوں نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں رہبرشہید اور ان کے اہل خانہ کی ایک اور ممتاز خصوصیات شہرت اور نام و نمود سے اجتناب قراردیا اور کہا کہ حضرت آقا شہید اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ ان کے بچے یا بیٹے میڈیا میں آئيں۔ نہ تو وہ کوئي انٹرویو دیتے اور نہ ہی سوشل میڈیا میں وہ سرگرم تھے اور نہ ہی کبھی کیمرے کے سامنے آتے یہاں تک کہ عکس یا فوٹو کھینچوانا یا سیلفی وغیرہ  بھی بہت ہی کم ہوتی تھی کہ کہیں کوئي اس کا غلط استعمال نہ کرلے    
 حجت الاسلام رضائي اصفہانی نے آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی محاذ جنگ میں شرکت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ انہوں 17 سال کی عمر میں ایران پر مسلط  کی گئي آٹھ سالہ جنگ کے دوران محاذ جنگ کا رخ کیا تھا اور کئي کارروائيوں میں شرکت کی تھی اس کے باوجود اس وقت کے بہت سے کمانڈروں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آقامجتبی خامنہ ای ، اس وقت کے صدر یا اس کے بعد ملک کے رہبر کے بیٹے ہیں 
حجت الاسلام رضائی اصفہانی نے رہبر کی شہادت کے دن کے واقعات کا بھی ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس دن صبح رہبرشہید نے اپنے بچوں کو خبردار کردیا تھا کہ حملہ اور بمباری کا خدشہ موجود ہے اور بچوں سے فرمایا تھا کہ وہ ان کے گھر سے کہیں اور چلے جائيں لیکن گھر کے لوگ منجملہ سید مجتبی خامنہ ای رہبر شہید کے ہمراہ گھر میں ہی موجود رہے جو ان کی شجاعت اور بہادری کی علامت ہے ۔
 انہوں نے اپنے خطاب  کے آخر میں ایران کے حساس حالات کے دوران جب دس ملکوں اور دو ایٹمی قوتوں کے مقابلے میں ملک  جنگ کی حالت میں ہے اور رہبر و متعدد کمانڈر شہید کئے جاچکے ہيں آیت للہ مجتبی خامنہ ای کے ذریعے  ملک کی رہبریت اور قیادت کو قبول کئے جانے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام ان کی شجاعت و بہادری کا نقطہ کمال ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ملک کو ایسے ہی رہبراور قائد کی ضرورت ہے جو پوری قوت کے ساتھ میدان میں ڈٹا رہے اور امریکا اور اسرائيل کو سانس لینے کا موقع نہ دے ۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح رضوی یونیورسٹی  اور جامعہ المصطفی مشہد برانچ کے درمیان مشترکہ تعاون کا آغاز نقل و حمل، رہائش اور پارکینگ کی توسیع کے لئےحکومت،پارلیمنٹ اورصوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہیں؛صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ کا بیان ایران اور ہندوستان کے مابین باضابطہ فارسی زبان کی تعلیم کے لئے باہمی تعاون کا آغاز حرم امام رضا(ع) میں نصب جالیوں کی زیارت اور فن تعمیر سے متعلق تفصیلات آستان قدس رضوی کے ریسرچ معاونین کا بین الاقوامی امور کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافے پر زور صفوی دور کے وقف  حمام دروازہ کا تعارف ایران سے متعلق میرے ذہن میں پائے جانے والے منفی تاثرات مکمل  طور پرتبدیل ہو گئے؛سنی انفلوئنسر کا بیان تنزانیا سے امام رضا علیہ السلام کے حرم تک عشق و محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ   حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب ہندوستان کے ممتاز عالم دین کی جانب سے اسلامی وحدت کی ضرورت پر تاکید/ برصغیر اوردنیا میں اسلامی بیداری کی ایک جھلک   عالم اسلام کی وحدت میں حضرت امام علی رضا(ع) کی شخصیت کا لافانی عنصر      قائد شہید امت کی دانشمندانہ اسٹریٹیجی نےدشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن کا انعقاد حرم رضوی میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن "میلاد صادقین" کا انعقاد لبنانی رکن  پارلیمنٹ کی آستان قدس کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ سے ملاقات علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی اور امام رضا(ع) یونیورسٹی باہمی تعاون کی توسیع کے راستے پر گامزن افغان شہری کی جانب سے نایاب ڈاک ٹیکٹس آ‎ستان قدس رضوی کو ہدیہ حرم امام رضا(ع)میں عرب زبان زائرین  کے لئے’’امین الامہ، امام المقاومہ‘‘ کے عنوان سے ادبی محفل کا انعقاد