آستان نیوز کے مطابق اس بار امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کا خیمہ مقاومت سفارتی اور قانونی اقتدار کے واقعہ کا میزبان تھا
ایران کے نائب وزیرقانون ڈاکٹر سید محمد مہدی غمامی نے اس اجلاس میں حالیہ حملوں اور جارحیتوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی غیر معمولی قومی غیرت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کی عظیم قوم پر درود و سلام بھیجتے ہيں جو ان راتوں میں پوری شجاعت اور فداکاری کے ساتھ میدانوں میں موجود رہی تاکہ ایران اسلامی کی عزت اور سربلند تاریخ اور ارضی سالمیت کی حفاظت کرے اور یہی استقامت ہماری آنے والی قانونی جنگ میں سب سے مضبوط پشپناہ ثابت ہوگی ۔
انہوں نے جارح امریکا اور اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے خلاف قانونی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان جارحیتوں سے ایرانی معاشرے کو بڑے پیمانے پر جانی، مالی اور نفسیاتی نقصان پہنچا ہے۔ چھوٹے بڑے کاروبار بند ہوجانے سے لے کر ان حملوں سے پیدا ہونے والی بدامنی کے باعث نفسیاتی نقصانات اورلوگوں کی در بدری، یہ ساری چیزیں وہ ہیں کہ جن کا اسلامی جمہوریہ ایران کی عدالتوں کے 1390 کے قانون کےمطابق دشمنوں سےحساب اور تاوان وصول کیا جائے گا ۔
ڈاکٹر غمامی نے انتہائی ٹھوس لہجے میں کہا کہ ہم جرائم پیشہ افراد کے اموال اور املاک کو ضبط کرکے عوام کو ان کا حقیقی تاوان دلوائيں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد بین الاقوامی حلقوں میں ان سفاک مجرموں کے بارے میں اس حقیقت کو آشکار کرنا ہے کہ ان کی ایرانی عوام سے براہ راست دشمنی ہے اور انہوں نے ایرانی عوام کی عزت و شرف کو نشانہ بنایا ہے ۔ ڈآکٹرغمامی کا کہنا تھا کہ اس قانونی مورچے میں تاریخی موجودگی محمد و آل محمد (ص ) پر صلوات کی برکت سے ان اپسیٹینی حکومتوں پر فتح و کامیابی پر منتج ہوگی
اس درمیان وکالت مظلوم کے نام سے صیہونی حکومت اور امریکا کے خلاف مقدمہ کی کارروائي شروع کردی گئي ہے اس کارروائي کا مقصد جنگ رمضان کے متاثرین کو ان کا حق دلانا ہے
آستان نیوز کے مطابق امام رضا ( ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی نے مظلوم اقوام کے حقوق کو دلانے کے راستے میں ایران کی وزارت قانون ، صوبہ خراسان رضوی کی بار کونسل اور امام صادق (ع) یونیورسٹی کے شہری اور انسانی حقوق مرکز اور تھینک ٹینک کے تعاون سے مظلوم کی وکالت کے نام سے قومی کمپیئن شروع کردی ہے
یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کا خیمہ مقاومت ہررات مشہد مقدس کے فلسطین اسکوائر پر طالبات کے ہاسٹل کے سامنے اپنی سرگرمیاں انجام دیتا ہے جس کے دوران متاثرین سے وکالت وصول کرکے وکلا سے صلاح و مشورہ کیا جاتا ہے تاکہ مقدمے کی کارروائي شروع کی جاسکے ۔