آستان نیوز کے مطابق آج آستان قدس رضوی کی اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کا کانفرنس ہال غربت و آشنائی کی خوشبو سے معطر تھا ایسی خوشبو جو گویا براہ راست بین الحرمین سے آرہی تھی تاکہ امام رضا علیہ السلام کے حرم میں موجود زخمی دلوں کا مرہم بنے ۔
متبرک پرچم ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے حرم کے خدام کی امام رضا علیہ السلام کے حرم میں آمد اور موجودگی گویا سید الشہدا علیلہ السلام کی ضریح مبارک کی خوشبو بکھیر رہی تھی، یہ موجودگی محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی کہ بلکہ پرچمدار عشق حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے زیرسایہ ایران اور عراق کے درمیان گہرے معنوی رابطے کی واضح علامت تھی ۔
میناب سے مشہد تک کا سفر؛ خون اور خدمت کا رشتہ
امام حسین علیہ السلام کے حرم کے خدام نے کربلا سے یہ سفر میناب کے گرم علاقے کی دلجوئی سے شروع کیا امام حسین علیہ السلام کےحرم کے خدام جو خود کو سربازان ولایت سمجھتے ہيں مشہد مقدس مشرف ہونے سے پہلے ان سوگواروں سے ملنے میناب گئے جنھوں نے اپنے پیاروں اور معصوم بچیوں اور بچوں کو حق کی راہ میں فدا کردیا تھا اور پھر 10 اپریل 2026 کو مشہد الرضا (ع ) پہنچ کر ان شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات کی جنھوں نے اپنے عزیزوں اور پیاروں کو اللہ کی راہ میں پیش کیا تھا ۔ ان خدام حرم حسینی نے شہدائے مقاومت اور جنگ رمضان کے اہل خانہ کو سید الشہدا علیہ السلام کی جانب سے عزت و تکریم سے نوازا ۔
وہ مائيں جو خدا کی امانتدار تھیں
آستان قدس رضوی کی اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے کانفرنس ہال کے گوشے میں ماؤں کی رونے کی آوازیں مجلس کے ستون میں لرزہ پیدا کررہی تھیں ۔ وہ مائيں جن میں سے ہر ایک کی عشق و عقیدت کی الگ الگ داستانیں تھیں۔
شہید صادقی کی والدہ جن کی آنکھ میں فخرموجزن تھا اپنے شہید بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں (( اے میرے لال)) تونے میرا اپنے باپ اور ملک کا سر فخر سےاونچا کردیا ۔
تھوڑے سے فاصلے پرشہید کاظم شافعی کی والدہ زینبی صبر و حوصلے کے ساتھ اپنے بیٹے کو امام زمانہ (عج) کا سپاہی کہہ کر پکار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ : وہ میرے پاس ایک امانت کے طور پر تھا انشاء اللہ کہ ہم امام زمانہ (عج) کے سامنے سرخرو ہوں گے۔
شہید حسین عشقی کی ماں اپنے بیٹے کی خبرشہادت سننے کے وقت کی حالت اور کیفیت بیان کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں (( میرے بیٹے کو جس چیز کی تمنا تھی وہ اس کو مل گئي )) لیکن میرے دل کو چین نہیں مل رہا تھا تاہم آج جب وہ فرزند حضرت فاطمہ (س) امام حسین علیہ السلام کے حرم کے خدام کے سامنے بیٹھیں تھیں تو گویا ان کے دل کو قدرے سکون مل گیا تھا
خون جو ایک دوسرے میں آمیختہ ہوگئے
امام حسین علیہ السلام کے حرم مطہر کی انتظامیہ کے قائم مقام سربراہ اور عتبہ مقدس حسینی کے نمائندے سید محمد حسن بحرالعلوم نے جذباتی انداز میں تقریرکرتےہوئے ایران اور عراق کے عوام کے گہرے اور مضبوط رشتوں پر زور دیا ۔
انہوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ دشمن قوتیں کسی بھی قیمت پر ایران اور عراق کے عوام کے روابط کو خراب نہيں کرسکیں گي کہا کہ ہمارے دل آّپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے ہاتھ آّپ کی مدد کے لئے ہر وقت تیار ہیں اور ہمارے خون آپ کے خون سے آمیختہ ہیں۔
عتبہ مقدس حسینی کے نمائندہ خصوصی نے شہدا کو باعث عزت و سربلندی قراردیا اور زخمیوں کے لئے اللہ سے شفائے عاجل کی دعا کی ۔
اس موقع پر آستان قدس رضوی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام اسفندیاری نے بھی اپنے خطاب میں شہدا کے اہل خانہ کو معاشرے کا چراغ راہ قراردیا اور کہا کہ ان عظیم لوگوں کی خدمت کا اجر شہادت کے اجر سے کم نہيں ہے
دلوں کو تسلی دینے کے لئے ذکر مصائب سید الشہدا (ع)
مداح اہلبیت محمود صفائی کربلائي نے جیسے ہی مصائب اہل بیت (ع) پڑھنا شروع کیا حاضرین کی آنکھوں سے اشک جاری ہونے لگے ان کے ذکر مصائب نے وہاں موجود لوگوں کو ہواؤں کے دوش پر سیدھے کربلائے معلی پہنچا دیا جو تمام قربانیوں اور فداکاریوں کا سرچشمہ اور مرکز ہے
اس پروگرام کے آخر میں امام حسین علیہ السلام کے حرم کی طرف شہدا کے والدین اور گھر والوں کو متبرک تحائف پیش کئے گئے جو داغدار دلوں کے لئے باعث تسکین بنے۔
یہ پروگرام شہدا کو خراج عقیدت اور شہدا کے اہل خانہ کو خراج تحسین پیش کرنے سے زیادہ ایک حقیقت کی تجلی تھا کہ شہادت اور خدمت کا راستہ دونوں ہی ایک بارگاہ تک پہنچ کر اختتام پذیر ہوتا ہے آج کربلا مشہد پہنچی تاکہ یہ بتاسکے کہ کوئي بھی جغرافیائي سرحد پیروان اہلبیت علیھم السلام کے درمیان فاصلہ پیدا نہيں کرسکتی اور شہید کا خون ایک ایسی ریسمان ہے جو حق پرستوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھے گی ۔