آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یکم اردیبہشت(21 اپریل( کو سرکاری کلینڈر کے مطاق استادِ سخن اور نامور ایرانی شاعر سعدی شیرازی کی یاد میں یوم سعدی منایا جاتا ہے ،رواں سال میں یہ دن عشرہ کرامت کے تیسرے دن سے مصادف تھا اس عظیم موقع کو غنیمت جانتے ہوئے رضوی فنون اور ثقافت سے وابستہ افراد حرم مطہر رضوی کے صحن پیامبر(ص) کے تشریفات ہال میں اکھٹے ہوئے اورآستان قدس رضوی کے متولی سے ملاقات کی اور اس دوران فن کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور رضوی ثقافت اور مکتب کی نشر و اشاعت سے متعلق اپنی آراء اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔
شہید رہبر کی شخصیت ہمہ گیر تھی اور محض علماء تک محدود نہیں تھی
آستان قدس رضوی کے متولی آیت اللہ احمد مروی نے اس ملاقات کے دوران عشرہ کرامت کے روحانی و معنوی ایّام کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے فن و ثقافت سے وابستہ افراد سے ملاقات کا موقع ملنےپر مسرت کا اظہار کیااور شہید رہبر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فن و ثقافت کے میدان میں ان کے نظریات پر روشنی ڈالتےہوئے کہا کہ ہمارے شہید رہبر کو اپنے ہم عصر علماء سے جو چیز ممتازبناتی تھی وہ یہی جامعیت ، صحیح نقطہ نگاہ اورعلماء و دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ دیگر حلقوں اور میدانوں میں بھی صاحب نظر ہونا ہے اور حقیقت میں انہی خصوصیات نے انہیں ایک منفرد شخصیت بنا دیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا درخشاں چہرہ اور شخصیت کے مختلف پہلو معاشرے اور دنیا والوں پر عیاں ہوگے۔
ضریح امام رضا(ع) کے پائے مبارک کی جانب نصب کئے جانے والے کتبوں سے متعلق واقعہ
آیت اللہ مروی نے اپنی گفتگو کے ایک حصے میں حضرت امام علی رضا(ع) کے پائے مبارک کی جانب نصب کئے جانے والے کتبوں کی تیاری سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کے ایّام میں جب زائرین پر اس مقدس بارگاہ میں آمد پر پابندیاں تھیں توضریح مطہر کے پائے مبارک کی جانب کتبے نصب کرنے کے مقصد سے شہید رہبر معظم انقلاب سے رائے لی تو انہوں نے استاد شفق کی شاعری کی تجویز پیش کی ہم استاد شفق کے پاس گئے اور انہوں نے چند اشعار بطور تحفہ دیئے بعد میں ہم نے یہ اشعار شہید رہبر کی خدمت میں پیش کئے اور شہید رہبر نے ان میں سے کچھ اشعار انتخاب کئے جنہیں ضریح مطہر کے پائے مبارک کے حصے میں نصب کئے جانے والے کتبوں پر تحریر کیا گیا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے حرم امام رضا(ع) میں پائی جانے والی فنی اور بصری خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ بہت خوبصورت ہیں لیکن زائرین اور مجاورین کے بیانات کے مطابق ان کتبوں میں سے بہت سارے ایسے ہیں جنہیں عام لوگ تو دور کی بات شاید بہت سارے ماہرین اور فنکار بھی نہیں پڑھ سکتے ، اس لئے ہم آپ فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد سے درخواست کرتے ہیں کہ ان خوبصورت فنی کتبوں کے متن اور مفاہیم سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کے لئے مناسب طریقہ فراہم کریں۔
امام رضا(ع) نے قدیم ایرانی تہذیب کو روح اور زندگی عطا کی
آیت اللہ مروی نے امام رضا(ع) کے وجود کو خراسان اور ایران کی سرزمین پر باعث بابرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایران قدیم اور گرانقدر تہذیب کا حامل ملک رہا ہے لیکن امام رضا(ع) نے اس قدیم اور عظیم تہذیب کو زندگی اور روح عطا کی اور حقیقی معنوںمیں اسے حیات بخشی ہے ۔
انہوں نے منفور امریکی صدر کے بیانات پر شدید تنقید کرتے ہوئے جس نے یہ دعویٰ کیا تھا اس جنگ میں اس عظیم تہذیب کو تباہ کر دیں گے کہا کہ ان ایّام میں جو کچھ ہم نے دیکھا یہ سب اسی ایرانی تہذیب کی طاقت اور زندہ ہونے کا مظہر ہے اور اس کے مدّ مقابل ایک ناکام مغربی اور امریکی تہذیب ہے جوواضح طور پر انسانوں کا استحصال، بے حیائی، دولت اندوزی،چوری اور غارت گری کی نمائندگی کرتی ہے ۔
ایرانی تہذیب اور شیعہ مذہب کے تعارف کے لئے موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے پرتاکید
آیت اللہ مروی نے کہا کہ بارہ روزہ جنگ کے بعدماہ رمضان میں ہونے والی جنگ کے دوران دنیا کے بہت سارے سیاستدانوں،ماہرین اور ممتاز شخصیات کی نگاہیں اور دنیا والوں کی عوامی رائے ایران کی ثقافت اور تہذیب کی طرف مبذول ہوئی ہے ،شاہنامہ،حافظ کا دیوان ،سعدی کی گلستان و بوستان وغیرہ اور بہت سارے شاعروں نے اہلبیت(ع) اور قرآن کریم سے الہام لے کر شعر کہے جو کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی دنیا بھر میں جاویداں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مرد و خواتین آج بھی اہلبیت(ع)، امیرالمؤمنین (ع)، حضرت فاطمہ زہراء(س) اور حضرت زینب کبریٰ (س) سے الہام لے کر دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئی ہیں، ایرانی حضرت زینب کبری(س) کے پیروکار ہیں جنہوں نے گفتگو کی تلوار سے یزید جیسے ظالم کو شکست دے کر اسے سرزنش کے قابل بھی نہیں سمجھا ۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ایرانی قوم کی مزاحمت کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے ایرانی تہذیب اور شیعہ مذہب و مکتب کے تعارف لئے مناسب موقع پیدا ہوا ہے ،دنیا اس تہذیب اور مذہب کو جاننے کی پیاسی ہے اس لئے آپ فنکاروں کو اپنی مہارت و صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ان قیمتی موضوعات کے تعارف اور بہتر اشاعت کے لئے بھرپور کوشش کرنی چاہئے ۔
حرم امام رضا(ع) کی فنی اور ثقافتی صلاحتیوں سے استفادہ کرنا
آستان قدس رضوی کے متولی نے حرم امام رضا(ع) میں پائے جانے والے شاندار فنی کاموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مختلف برسوں اور مختلف صدیوں میں ان فنی کاموں کو مختلف فنکاروں کی جانب سے انجام دیا گیا یہ خود فن، مذہب اور روحانیت کی یکتائی اور وحدت کی دلیل ہے اور فن و مذہب کے مابین ایک معنی تعلق پایا جاتا ہے ۔
آیت اللہ مروی نے اجلاس میں موجود مہمانوں کی آراء اور تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا(ع) کی شخصیت کے اہم پہلوؤں کا ذکر کرنے،زائرین کی زیارت، توسل اور راز و نیاز کے علاوہ شاعری ، کتاب خوانی، مباحثہ اور کہانیاں وغیرہ سنانے کے جلسات منعقد کرنے پر بھی توجہ دینی چاہئے اور یہ آپ فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو اس سلسلے میں ہماری معاونت کر سکتے ہیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی سے ملاقات کے دوران فن و ثقافت سے وابستہ بعض شخصیات کا اظہار خیال
اس ملاقات کے دوران فن و ثقافت سے وابستہ بعض افراد نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں۔
استاد مسعود نجابتی: براہ کرم فنی اور قلمی کاموں والا خزانہ عوام کے اختیار میں قرار دیا جائے ۔
میرے خیال میں بصری فنون کےبعض شعبے اہم اور تہذیب ساز عناصر ہیں جن سے غفلت برتی گئی ہے حالانکہ یہ موضوع شہید رہبر معظم انقلاب کے لئے توجہ موضوع تھا ،جب ہم حرم مطہر سے باہر نکلتے ہیں تو فن کے لحاظ سے حرم کے اندر اور باہر کے فن تعمیر کے مابین کوئی با معنی تعلق نظر نہیں آتا ۔
دوسرا اہم موضوع جس پر توجہ دی جانی چاہئے وہ اسلامی انقلاب کے 47 سال گزرنے کے بعد بھی ملک میں سرکاری لباس کے ڈیزائن کا مسئلہ ہے ہمارے پاس ملک میں حکام اور ذمہ داران افراد کے لئے کوئی بھی سرکاری لباس نہیں ہے ۔
اتابک نادری: رضوی ثقافت کا تعارف کرانے والے نمائشی آثار کو وقتی طور پر نہیں دیکھنا چاہئے
ہمیں ایرانی ثقافت کی حد بندی نہیں کرنی چاہئے میرے خیال میں ایرانی ثقافت امام رضا(ع) کی ثقافت سے متاثر ہے اس لئے ہمیں صرف بعض مواقع جیسے عشرہ کرامت اور ماہ صفر کے آخری عشرہ وغیرہ میں امام رضا(ع) سے متعلق موضوعات پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ جب بھی کوئی ادبی اور فنی کام تخلیق ہو اور اس میں کوئی ایسا پیغام ہو جو کسی انسانی اور اسلامی اقدار کی طرف اشارہ کر رہا ہوتو وہ کام بھی امام رضائی کام ہے جس نے امام رضا(ع) کی تعلیمات سے استفادہ کیا ہے اور رضوی معارف کو فروغ دے رہا ہے ۔
استاد صادق کرمیار: ہم رضوی شعبوں میں کام کرنے لئے مختلف ذوق رکھنے والے افراد کو دعوت دیں
آستان قدس رضوی میں بہت سارے کام خاموشی اور بغیر تشہیر کے انجام پا رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک بھر میں دیکھا جا سکتا ہے ، تمام لوگ جو امام رضا(ع) کے لئے کام کرتے ہیں ان کے اندر ایک جذبہ اور محبت ہے جو انہیں ان کاموں کی طرف کھینچ لاتی ہے اس لئے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ مختلف ذوق اور مختلف طبقوں کے افراد کو اس مقدس بارگاہ کی فیوضات سے محروم نہ کریں اور دعا کرتے ہیں کہ ہمارے کام امام رضا(ع) کی خوشنودی کا باعث بنیں۔
استاد حسن روح الامین: ایرانی قوم کی شجاعت کو بیان کرنے کے لئے داخلی وسائل اور ذرائع سے استفادہ کرنا چاہئے
میں 2009سے تصویر کشی کر رہا ہوں اور ان تمام آثار کو حرم مطہر کو عطیہ کرنا چاہتا ہوں لیکن بظاہر ان کاموں کی تنصیب یا نمائش کے لئے کوئی مناسب جگہ نہیں ہے امید ہے اس سلسلے میں کوئی تدبیر کی جائے ۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ثقافتی اور فنی وسائل اور بنیادی ڈھانچے موجود ہیں اور بہت قیمتی افراد بھی موجود ہیں موجودہ حالات میں ہمیں ان وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ثقافت اور تہذیب کے تعارف اور اس شجاعت اور مزاحمت کو بیان کرنے کے لئے جو غیرت مند ایرانی قوم نے دکھائی ہے بہتر طریقے سے استعمال کرنا چاہئے ۔
سعید بیابانکی: رضوی اشعار کو ان کے اہل تک پہنچایاجائے
میرے خیال میں رضوی شاعری اور فارسی شاعری نے انقلاب کے بعد تعداد اور معیار کے لحاظ سے اچھی ترقی کی ہے جس کی کامیابی کا ایک بڑا حصہ شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کی حمایتوں کی مرہون منت ہے ۔
آستان قدس رضوی اور ملک بھر میں اچھی رضوی شاعری تخلیق ہو رہی ہے لیکن یہ اہل تک نہیں پہنچتی اس لئے ضروری ہے کہ قومی میڈیا کے ذریعے مناسب اشعار نشر کئے جائیں ،اگرچہ تخلیقی آرٹ انسٹیٹیوٹ کے کچھ کام ممتاز افراد اور ماہرین کے لئے ہیں لیکن ان میں سے کچھ عوام الناس کے لئے بھی ہونے چاہئے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں۔
ڈاکٹر ابراہیم: ادیان و مذاہب کا ایک ہال قائم کیا جائے
آج کل قومی یکجہتی کا مسئلہ ایک پیراڈائم بن چکا ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں اس مسئلے پر توجہ دی جا رہی ہے ۔
امام ہشتم(ع) کے مقام کو اجاگر کرنے کے لئے خصوصی توجہ دی گئی ہے حتی پانچ جلدوں پر مشتمل ایک تحقیقی کام انجام دیا گیا ہے،ہم منتظر ہیں کہ مختلف ممالک کے مذہبی رہنماؤں کی موجودگی میں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) منعقد کی جائے تاکہ اس تحقیقی کام کی باضابطہ طور پر نقاب کشائی کی جا سکے۔
اس کے علاوہ آستان قدس رضوی کےا دارہ بین الاقوامی امور کی معاونت سے 12 مختلف شعبہ جات میں مختلف مصنوعات تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ادیان و مذاہب کے مابین گفتگو کا ایک ہال بھی قائم کرنے کے لئے کاوشیں جاری ہیں اس سلسلے میں ہمیں آستان قدس رضوی کی حمایت کی ضرورت ہے ۔
واضح رہے کہ اس اجلاس کے دوران استاد غفورزادہ نے اپنی ایک غزل پہلی بار پڑھی جس کا عنوان ’’اشک ہای بی صدا‘‘ تھا جو امام رضا(ع) اور اس نورانی بارگاہ کی مدح و ثنا سے متعلق تھی ۔