آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم کی جانب سے خلیج فارس کے قومی دن کی مناسبت سے ایران کے اس حصے کی تمام عظیم ہستیوں کی یاد میں جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں ،قاجاری دور کے ایک بیش قیمت قلمی نسخے’’جنوبی بندرگاہوں کا جغرافیہ‘‘ کتاب کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ کتاب عباس قلی تفرشی بازرجانی کی تحریر کردہ ہے ۔
جناب عباس قلی تفرشی بازرجانی نے اس کتاب میں خلیج فارس کے جزیروں،بندرگاہوں، قدرتی حالات اور انسانی جغرافیہ سے متعلق تمام خصوصیات کو نہایت بارک بینی ، توجہ ،آسان اور دلکش سلیس زبان میں پیش کیا ہے ۔
کتاب سے کی اگلے سال رونمائی کی جائے گی
محققین اور جغرافیہ کے ماہرین نے ہمیشہ سے قدیم فارس کے سمندر(موجودہ خلیج فارس) کے جغرافیہ کے بارے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ،تاریخی ذرائع کے مطابق؛ یہ خطہ ہمیشہ سے ایران اور ایرانی ثقافت سے جڑا رہا ہے ،نیز حالیہ چند دہائیوں کے دوران نئی ریاستوں کے ظہور سے قبل یہ علاقہ ہمیشہ پارس،پرشین،پرشیا اور فارس کے نام سے جانا جاتا تھا۔
گذشتہ برسوں میں بحیرہ پارس اور اس کے جزیروں کے حوالے سے تحقیقات انجام دی گئی ہیں جن میں سے کچھ تحقیقات، ان کے مصنفین کے تعاون سے اس نسخے کے اصلی متن سے پہلے متعلقہ کتاب میں شائع کی جائيں گي ۔
قابل توجہ ہے کہ اس کتاب کی رونمائی آئندہ سال اپریل میں یوم خلیج فارس کے موقع پرکی جائے گی۔
امید ہے کہ یہ ثقافتی اقدام خلیج فارس کی بہتر اور مزید شناخت کے لئے ایک مؤثر قدم ثابت ہوگا تاکہ اس خطے کے وطن عزیز پر قربان ہونے والے شہیدوں بشمول سپاہ کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علیرضا تنگسیری سے لے کر خطے عظیم سپوتوں غلام علی بایندر ،رئیس علی دلواری اور ایران کے دیگر نامور اور گمنام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم کے بانی حاج حسین آقا ملک نے 1316 ہجری شمسی مطابق 1937 عیسوی میں یہ خزانہ آستان قدس رضوی کے لئے وقف کیا تھا 1375 ہجری شمسی مطابق 1996 تک ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم تہران کے بین الحرمین بازار میں واقع ملک ہاؤس میں واقع تھا جس کی نئی عمارت باغ ملی کی تاریخی عمارت ہے جسے آستان قدس رضوی کی کاوشوں سے تیار کیا گیا ۔