آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛’’جوان آبادی‘‘ کے عنوان سے کرامت رضوی فاؤنڈیشن کے تحت منعقدہ کانفرنس کے دوران آیت اللہ احمد مروی نے نوجوان جوڑوں اور ان کے ہمراہ آنے والے افراد اور تولید نسل اور اور جوان آبادی میں اضافے کی مہم میں سرگرم افراد کا خیر مقدم کیا اور حضرت فاطمہ زہراء(س) اور امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے یوم ازدواج پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے رسول خدا(ص) کی روایت ’’تَنَاکَحُوا تَنَاسَلُوا تَکْثُرُوا فَإِنِّی أُبَاهِی بِکُمُ اَلْأُمَمَ یَوْمَ اَلْقِیَامَةِ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا کہ شادی کرواور نسل میں اضافہ کرو،بے شک قیامت کے دن تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔
آيت اللہ احمد مروی نے کہا کہ مسلمان جوان جوڑا جب شادی کرتا ہے تو سب سے پہلے رسول خدا(ص) کا دل خوش ہوتا ہے ان کا کہنا تھا کہ شہید آیت اللہ ابراہیم رئیسی(رح) کی ترجیحات میں سے ایک جس پر وہ تاکید کرتے تھے اور اسے اپنی سرگرمیوں کا حصہ سمجھتے تھے ’’جوان آبادی کو بڑھانے‘‘ کا مسئلہ تھا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ رہبرشہید معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای(رح) نے 2012 میں صوبہ خراسان شمالی کے سفر کے دوران آبادی کا مسئلہ اٹھایا اور فرمایا کہ 'گزشتہ برسوں میں ہم ایک غلط تجربے کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آبادی میں اضافے کو روکا جائے ، یہ فیصلہ غلط تھا۔'
آيت اللہ مروی نے کہا کہ جن چند اہم اور حساس موضوعات پر رہبر شہید معظم انقلاب نے بھرپور جرات حقیقت پسندی اور انکساری کے ساتھ اٹھایا تھا وہ ملک میں گھٹتی ہوئي آبادی کا مسئلہ تھا اور فرمایا تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی گھٹتی ہوئی آبادی کو روکا جائے اور اس میں اضافہ کیا جانا چاہئے ۔
جوان آبادی کی برکات اور فوائد
آیت اللہ مروی نے کہا کہ آبادی کسی بھی ملک کی سخت اور نرم طاقت کے بنیادی عناصر میں سے ایک ہے۔ اہل مغرب کی نسل کو محدود کرنے کی پرانی سازش آج خود ان کے لیے مسئلہ بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ممالک نے بچوں کی پیدائش پر انعامات رکھ دیے ہیں، جوڑوں کے لیے سہولیات فراہم کی ہیں تاکہ وہ ترغیب پائیں ،اب جب وہ اس بڑے نقصان سے دوچار ہو گئے ہیں تو سمجھ رہے ہیں کہ آبادی مختلف محاذوں پر کیا کردار ادا کر سکتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ظالم شاہی دور میں دیواروں پر سامراجی اور مغربی نعرے ’’کم اولاد زندگی بہتر‘‘ لکھے ہوتے تھے، جس پر اب خود انہی (مغرب والوں کو) بھی ندامت ہے، اور افسوس کہ یہ سوچ ہماری اسلامی زندگی میں بھی داخل ہو گئی ہے ۔
انہوں نے ملک میں آئندہ چند برسوں کے دوران نوجوان آبادی می کمی کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس آبادی اور ملک میں جوان نہ ہوں، اس میں پیداواری طاقت نہیں ہوتی ،جب یہ طاقت نہ ہو تو ترقی نہیں ہوتی، اس لیے خوشحالی اور اقتدار ممکن نہیں ہوتا۔
صوبہ خراسان کے حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل کے رکن آیت اللہ مروی نے کہا کہ ایک جدید اور عظیم فیکٹری بھی اگر انسانی قوت نہ رکھتی ہو تو بیکار ہے ،جب آبادی بڑھاپے کی طرف جارہی ہو تو ملک کو کون چلائے گا؟ بوڑھے اور سن رسیدہ افراد؟جن میں خلاقیت، نوآوری اور محنت و کوشش کی وہ قوت نہیں ہوتی جو تعمیرِ وطن کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے موجودہ معاشرتی صورت حال کی بابت خبردار کرتے ہوئے جس میں معاشرہ بڑھاپے کی طرف جا رہے کہا کہ طاقت کے عناصر میں سے ایک عنصر جوان قوت ہے ، اگر انقلاب کے آغاز میں ہمارے پاس جوان نہ ہو ہوتے تو محاذوں پر کون جاتا؟ مجاہدوں کی صفیں نوجوانوں نے تشکیل دیں تاکہ ملک محفوظ رہ سکے۔
انہوں نے زیادہ آبادی والے بعض ممالک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آبادی کی کثرت باعثِ فخر ہے ،اور اصل قوت اور اقتدار کا سرچشمہ بھی نوجوان آبادی ہی ہے۔
اسلام میں مومنانہ زندگی کا تسلسل
آیت اللہ احمد مروی نے کہا کہ آبادی کا مسئلہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کے بارے میں فقط شوہر اور بیوی کو سوچنا چاہئے بلکہ ذمہ داران اور حکومتی عہدیداروں پر بھی لازم ہے کہ وہ حالات کو آسان بنائیں اور ایسی سہولیات فراہم کریں کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تولید نسل کی طرف رغبت پیدا کریں۔
انہوں نے بچے پیدا کرنے یا تولید نسل کو اسلام میں مومنانہ زندگی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدا نے جذبات اس لیے پیدا کیے ہیں کہ شادی ہو ،یہ عارضی لذتوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ایک اہم کام ہے جسے تخلیق کے تسلسل اور نسل کی بقا کا مقدمہ قرار دیا ہے ۔ اگر شادی نہ ہو تو انسانی نسل ختم ہو جائے گی، جبکہ خدا یہ نہیں چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ خدا چاہتا ہے کہ جب تک دنیا کے نظام میں انسان کا وجود باقی ہے، اس کی نسل جاری رہے ، لہٰذا یہ انسانی غریضے اور لذت پسندی شادی کا مقدمہ ہیں۔ اور جو شخص شادی کرتا ہے، وہ خدا کی سنت پر عمل کرتا ہے اور تخلیق کے تسلسل میں ارادۂ الہیٰ کو عملی شکل دیتا ہے ۔
تولید نسل یا بچے پیدا کرنا ارادۂ الہیٰ کی تکمیل کا ذریعہ ہے
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ تولید نسل اور بچے پیدا کرنے کو ارادۂ الہیٰ کی تکمیل کا ذریعہ سمجھا جائے نہ کہ بوجھ ،انہوں نے ان افراد پر جوبچے پیدا کرنے کو بوجھ سمجھتے ہیں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ نہیں جانتے کہ اولاد کی کیا برکات ہیں اور یہ کتنی اہم ہیں ، اگر مقصد درست ہو تو مشکلات کے باوجود انسان اپنے روشن مستقبل کے لیے کوشش کرتا ہے۔ اگر انسان جان لے کہ یہ الٰہی اسباب میں سے ایک ہے اور خدا کی مرضی کے تحقق کا ذریعہ ہے، تو یقیناً وہ مشکلات برداشت کر لے گا۔