آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 327
00:01

2026/07/02

رضوی خزانے کے عاشورائی قلمی نسخے؛حماسے و ایثار کا ورثہ

fif7i
رضوی خزانہ ایسے قیمتی عاشورائی قلمی نسخوں کا محافظ ہے جو حضرت ابا عبد اللہ الحسین(ع) کے جاوداں حماسے ، کارنامے اور صحرائے کربلا میں ان کے باوفا ساتھیوں کی قربانی کی داستان بیان کرتے ہیں۔ 

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کےادارہ مخطوطات میں قلمی نسخوں کے اندراج کے منتظم سید رضا صداقت حسینی نے محرم الحرام کے پہلے عشرے کے موقع پر ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رضوی خزانے میں موجود 59 ہزار سے زائد قلمی کتب موجود میں مختلف موضوعات پر مشتمل امام حسین (ع) اور واقعہ عاشورا کے بارے میں متعدد آثار عربی اور فارسی زبانوں میں موجود ہیں جو علما، بزرگان اور مصنفین نے تاریخ کے مختلف ادوار میں تحریر کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان آثار میں سے سید کاظم بن قاسم رشتی کی کتاب’’اسرار الشہادۃ‘‘،کمال الدین حسین بن علی بیھقی سبزواری کاشفی کی ’’روضۃ الشہدا‘‘،محمد تقی بن احمد بروجردی کی ’’عین البکاء‘‘ اور محمد صالح بن محمد برغانی قزوینی کی تصنیف ’’معدن البکاء فی مصیبۃ خامس آل العباء‘‘ قابل ذکر ہیں۔ 
صداقت حسینی نے بتایا کہ محمد صالح بن محمد برغانی قزوینی  کی کتاب’’مفتاح البکاء فی مصیبۃ خامس آل العباء‘‘،ابومخنف لوط بن یحییٰ اردی کوفی کی کتاب’’مقتل الحسین(ع)‘‘،عباس بن علی اکبر مجد دامغانی کی تصنیف’’منبع الدموع‘‘اورمولانا حسن بن محمد علی یزدی حائری کی کتاب ’’مھیج الاحزان و موقد النیران فی قلوب اھل الایمان‘‘ بھی اس خزانے میں موجود ہیں جو امام حسین(ع) اور عاشورا کے موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ 
اسرار الشہادۃ کا نسخہ
انہوں نے تین منتخب قلمی نسخوں کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ سید کاظم بن قاسم حسینی رشتی حائری(متوفی1259ہجری قمری)کی کتاب ’’اسرار الشہادۃ‘‘ان آثار میں سے ہے جو اس لائبریری میں موجود ہیں اور اس میں کربلا کا واقعہ بیان کیا گیاہے ۔ 
انہوں نے بتایا کہ اس کتاب کےمؤلف، شیخ احمد احسائی کےممتاز شاگردوں میں سے تھے ،اور یہ کتاب انہوں نے اپنے دوست عبدالوہاب قزوینی  کی درخواست پر24جمادی الثانی 1238ہجری کو مکمل کی۔ 
انہوں نے بتایا کہ یہ نسخہ سال 1261 ہجری قمری میں عبدالحمید روضہ خوان نے نسخ جلی خط میں 11 سطری، 54 ورق شکرئی کاغذ پر، 21 در 14.7 سینٹی میٹر کے سائز میں تحریر کیا اور سیاہ تیماج سے مجلد کیا گیا۔ یہ نسخہ سید محمدباقر سبزواری کی کوششوں سے محرم 1405 ہجری میں اس آستان مقدس کو وقف کیا گیا اور شمارہ 14273 کے تحت کتابخانہ رضوی میں محفوظ ہے۔ 
مفتاح البکاء کاقلمی  نسخہ 
جناب صداقت حسینی نے بتایا کہ محمد صالح بن محمد برغانی قزوینی (متوفی 1283ھ۔ق) کی تألیف ’’مفتاح البکاء فی مصیبۃ خامس آل العباء‘‘بھی عاشورائی آثار میں سے ہے ، اس کتاب کا مقدمہ تین ابواب، خاتمہ اور چودہ مجالس پر مشتمل ہے ۔ 
انہوں نے بتایا کہ یہ خطی نسخہ سال 1300 ہجری قمری میں محمد مہدی بن سلیمان ملقب به 'صدر الذاکرین' نے خوش خط نسخ میں 25 سطری، 351 ورق شکرئی آهار مہرہ کاغذ پر، 28.5 در 16.7 سینٹی میٹر کے سائز میں تحریر کیا اور عنابی میشن سے مجلد کیا گیا۔ اثر کے عناوین حاشیہ پر روشنائي سے جلی حروف میں لکھے گئے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ یہ نسخہ مہدی امامی نیشابوری کی طرف سے آذر 1346 ہجری شمسی میں وقف کیا گیا اور شمارہ 9861 کے تحت ادارہ مخطوطات آستان قدس رضوی میں قابل مطالعہ ہے۔
روضہ الشہداء کا قلمی نسخہ
 جناب صداقت حسینی نے کہا کہ کمال الدین حسین بن علی بیھقی سبزواری کاشفی معروف بہ واعظ(متوفی910ھ۔ ق) کی کتاب ’’روضہ الشہداء‘‘دس ابواب پر مشتمل ہے اور اس آستان مقدس کے دیگر قیمتی قلمی آثار میں سے ہے جس میں امام حسین (ع) کے فضائل و مناقب اور واقعہ کربلا کا بھی ذکر ہے۔
انہوں نے  کہا کہ روضه الشهدا کا قلمی نسخہ شمارہ 17182 کے ساتھ حرم مطهر رضوی کی لائبریری میں موجود ہے، نسخ خط میں 19 اور 20 سطری، 233 ورق حنائی کاغذ پر، 22.8 در 16.5 سینٹی میٹر کے سائز میں تحریر کیا گیا ہے، اس کے عناوین شنگرف (سرخ رنگ) سے لکھے گئے اور عنابی تیماج سے مجلد کیا گیا ہے۔ اس نسخے کی تاریخ 11ویں صدی ہجری قمری سے متعلق ہے جسے مہر 1368 ہجری شمسی میں جامعہ علوم اسلامی    رضوی کی طرف سے اس لائبریر میں منتقل کی گی۔ 
واضح رہے کہ اہل علم و تحقیق کتابخانہ کے محققین ہال میں جا کر قلمی نسخوں کی ڈیجیٹل تصاویر مفت دیکھ سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر درخواست فارم مکمل کر کے مطلوبہ نسخے کی تصویر حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے مطالعات و تحقیقات میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ادارے کی غیر حضوری خدمات محققین کو آستان قدس رضوی کی ڈیجیٹل لائبریری کی ویب سائٹ https://digital.aqr.ir کے ذریعے بھی فراہم کی جاتی ہیں۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
ایرانی اور عراقی عوام، اسلام اور مقدسات کے دفاع میں ہم عہد اور ہم سفرہیں دشمن ایران اور عراق کے درمیان پائے جانے والے گہرے رشتے کو توڑنے کے درپے ہے؛آیت اللہ احمد مروی عراقی قبائل کے سرداروں کی حرم امام رضا (ع) میں حاضری مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال - ۱ مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال 2 حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان خواتین کےلئے مجلس عزاء کا انعقاد حرم امام رضا(ع) کے بست شیخ بہائی کا افتتاح آستان قدس رضوی اور علمی وثقافتی تعاون کی توسیع میں شہید صدر عالمی ایوارڈ کی کمیٹیوں کی سرگرمیاں اردو زبان خواتین کے لئے حرم امام رضا(ع) میں مجلس عزاء کا انعقاد مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال ہیلتھ پر مبنی خدمات کے بہترین قومی ایکسپورٹر کے عنوان سے رضوی اسپیشلٹی ہاسپٹل کا انتخاب عالمی سائنسی اولمپیاڈکے 60 میڈلز جیتنے والے طلبا اور قومی داخلہ ٹیسٹ کے ٹاپ رینک ہولڈرز کو حرم امام رضا(ع) میں خراج تحسین علم و ترقی کی راہ میں خدا سے رابطہ برقرار رکھیں؛ آیت اللہ احمد مروی اہلبیت(ع) کی محبت ، ایرانی اور عراقی عوام کے مابین نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے؛آیت اللہ احمد مروی ایران اور عراق کا محاذ ایک ہی ہے؛ شیخ حسن السعدی شعبہ بین الاقوامی امور میں دارالعلم کا سلسلہ علمی مرکز تک قم یونیورسٹی میں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کے اجلاس کے انعقاد کے تقاضوں کا جائزہ لیا گیا عراق کے موکب داروں نے حرم امام رضا(ع) کے رواق دارالذکر میں بھائی چارگی کا نعرہ بلند کیا ایرانی قوم کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے صلے میں عراقی موکب داروں کی تجلیل و تکریم کے لئے تقریب کا انعقاد جب دنیا کے معمار کسی صدمے کو تسکین دینے کے لئے ہم آواز بن جاتے ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کی پچیسویں پری کانفرنس کا قم میں انعقاد