آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے محقق جناب علی اکبری چناری نے اپنے ایک مضمون میں سید الشہداء کی شخصیت اور تحریک کے حوالے سے غیرمسلم دانشوروں کے نظریات کو منعکس کیا ہے ،یہ نظریات اس بات کے عکاس ہیں کہ عاشورا کا پیغام دنیا بھر کے آزاد منش اور حریت پسند انسانوں کی مشترکہ زبان ہے ۔
تفصیلی مضمون یا یادداشت ذیل میں قارئین کے لئے ذکر کی جارہی ہے :
امام حسین سے عشق و محبت جغرافیائی، مذہبی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہے اور اسی محبت کی وجہ سے دنیا بھر سے ہر مذہب و مسلک سے ماورا ہو کر لوگ اربعین کے ملین مارچ میں شرکت کرتے ہیں ۔ امام حسین علیہ السلام نے اس لئے قیام کیا تاکہ اعلیٰ انسانی اور الہیٰ اقدار کو زندہ کر سکیں اور جب تک انسانیت ہے ان سے محبت روز بڑھتی رہے گی اور کبھی خاموش نہیں ہوگی۔
حضرت امام حسینؑ نے وقت کے یزید کے خلاف قیام کیا اور اپنے خون کے نذرانے سے خدا کا دین زندہ کیا اور جب تک اللہ باقی ہے، حسین(ع) اور ان کا مکتب باقی رہے گا اور ان کے پیروکاروں کا زمانے کے یزیدیوں کے خلاف قیام اور ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
دوسرے ادیان و مذاہب کے آزادمنش انسان بھی حضرت اباعبداللہؑ سے ناقابلِ بیان عشق و محبت رکھتے ہیں اور ان کی تحریک سے متاثر ہیں۔ ہر سال ہم اس عقیدت کا ایک حصہ محرم کی عزاداری اور اربعین کی مشی میں دیکھتے ہیں۔
چند ایک دوسرے ادیان کے دانشوروں نے بھی امام حسینؑ کی عظیم شخصیت اور ان کے قیام کی تعظیم و تکریم میں متعدد تحریریں، مضامین، کتابیں اور تقاریر پیش کی ہیں۔ ان میں سے ایک عیسائی پادری انتون بارا ہیں جنھوں نے "الحسین فی الفکر المسیحی" کے عنوان سے کتاب تصنیف کی ہے۔
یہ تصنیف "حسینؑ در اندیشہ مسیحیت" کے عنوان سے فارسی میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں سیدالشہداء(ع)کے قیام کے اسباب و علل کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد بار ان کی عظیم اور غیرمعمولی شخصیت کا ذکر کیا ہے اور امام حسین(ع)کو الٰہی ادیان کا جاوداں اور حقیقی گوہر قرار دیا ہے۔
کرس ہیور، ایک اور مسیحی دانشور، اپنے بیانات میں کہتے ہیں کہ امام حسینؑ بطور "سیدالشہداء" تمام انسانوں کے لیے مشیتِ الٰہی کے سامنے مکمل تسلیم اور خالص عبودیت کا نمونہ ہیں۔
موریس دوکبری، ایک اور مسیحی سائنسدان ہیں جو امام حسینؑ کو آزادمنش انسانوں کے لیے اپنے زمانے کے طاغوت کے سامنے استقامت اور ظلم کا بوجھ نہ اٹھانے کا نمونہ قرار دیتے ہیں اور حضرت کے اقوال سے الہام لے کر کہتے ہیں کہ "حسین(ع) سامراج کے آگے نہیں جھکے ، پس آؤ ہم بھی ان کے طریقے کو اپنے لئے نمونہ بنائیں، سامراجی طاقتوں کے چنگل سے نجات پائیں اور ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیں۔"
ہندو دانشور تمداس تندون؛امام حسین(ع) اور ان کے شجاعانہ قیام کی توصیف میں لکھتے ہیں کہ ’’امام حسین(ع) کی شہادت نے مجھ پر بچپن سے ہی گہرا اور غم انگیز اثر ڈالا،میں اس عظیم تاریخی یادگار کی اہمیت کو جانتا ہوں ، امام حسین(ع) کی شہادت جیسی قربانیاں انسانی تہذیب کو بلند کرتی ہیں اور ان کی یاد کو باقی رکھنا اور یاد دلانا قابل قدر ہے ۔
ہندوستان کے عظیم رہنما مہاتما گاندھی ، امام حسین (ع) کے قیام اور شخصیت سے متعلق فرماتےہیں کہ’’ میں نے اسلام کے عظیم شہید امام حسین(ع)۔ کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا ہے اور کربلا کے صفحات پر پوری توجہ دی ہے اور مجھ پر یہ بات روشن ہو گئی ہے کہ اگر ہندوستان کو کامیاب ملک بننا ہے تو اسے امام حسین(ع) کے کردار کو اپنے لئے نمونہ عمل بنانا ہوگا ۔
تھامس ماساریک نے امام حسینؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی مصیبتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان دونوں عظیم شخصیات کی مصیبتوں کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ"عیسیٰؑ پر جو مصائب آئے، وہ حسینؑ پر آنے والی مصیبتوں کے مقابلے میں ایک بڑے پہاڑ کے سامنے ایک تنکے کی مانند ہیں۔"
اسکاٹش سائنسدان تھامس کارلائل کہتے ہیں کہ ’’حسین(ع) اور ان کے ساتھیوں کو خدا پر پختہ ایمان تھا ،انہوں نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ تعداد کی برتری کی اس وقت کوئی اہمیت نہیں ہوتی جب حق کا سامنا باطل سے ہوتا ہے ،تعداد کی قلت کے باوجود حسین(ع) کی فتح میرے لئے باعث حیرت ہے ۔
مالخار سانگولاشویلی عیسائی بشپ نے غیرمسلم ادیان سے تعلق رکھنے والے مختلف طبقوں کے لوگوں کی اربعین میں شرکت کو امام حسین(ع) کی فتح کی علامت قرار دیا ہے ، انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ امام حسین ہمارے لیے عدل و انصاف، فتح اور محبت کی علامت ہیں۔ امام حسین ہی ہیں جو ہم سب کو یکجا کرتے ہیں تاکہ ہم ایک دوسرے کو پہنچائے گئے زخموں اور دکھوں کا علاج کریں۔ ایک دوسرے سے محبت اور توجہ اربعین کی علامت ہے اور یہ ہماری روزمرہ زندگی کے ہر لمحے میں جاری رہنا چاہیے۔"
ان کے خیال میں، جتنا زیادہ لوگ اربعین کا تجربہ کریں گے، یہ دنیا اتنی ہی زیادہ محفوظ، خوشگوار اور پرامن ہوگی۔