آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ عاشورا کے دن حرم امام رضا(ع) کے رواق امام خمینی(رح) میں عاشورائی عزاداروں کا عظیم اجتماع منعقد ہوا ،جس میں عزاداروں نے اپنے ولی نعمت حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا(ع) کو سرکار سید الشہداء کی مظلومانہ شہادت پر تعزیت پیش کی۔
عزاداری کے اس عظیم اجتماع میں جو عاشورا کے ظہر کی نمازبا جماعت کے بعد رواق امام خمینی (رح) میں منعقد ہوا، مداحان اہل بیت (ع) محمد صالحی پور اور مرتضی اسلامی نژاد نے اپنی نوحہ خوانی اور دردناک مصائب سید الشہدا بیان کرکے عزاداروں کے دلوں کو صحرائے نینوا کا مہمان بنایا۔
یہ ذاکرین اور نوحہ خوان کبھی حضرت فاطمہ (س) کے بیٹے کی دشمن کے لشکر کے سامنے تنہائی کا ذکر کرتے، کبھی عصر عاشورا میں امام حسین بن علی (ع) کے بے سہارا بچوں کا مرثیہ پڑھتے، اور کبھی صحرائے کربلا کے تنہا سقا کی شجاعتوں کی یاد میں "یا اباالفضل" کا نعرہ لگاتے۔
اس عظیم الشان اجتماع میں حاضرین نے "لبیک یا حسین(ع)" کا نعرہ بلند کر کے اس امامِ غریب زہرا حضرت امام حسین علیہ السلام کی صدائے "هل من ناصر ینصرنی" کا ایک بار پھر لبیک کہا اور مکتبِ حسینی کے اہداف سے تجدیدِ بیعت کی۔
اہل بیت (ع) کے عاشقوں کی وسیع پیمانے پر موجودگی اور جانسوز نوحہ خوانی نے حرم رضوی میں مکتبِ عاشورا سے محبت اور وفاداری کا ایک شاندار منظر پیش کیا۔ ایک ایسا منظر جو ظاہر کرتا تھا کہ کربلا کا پیغام صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی دنیا کے آزاد منش لوگوں کے دلوں میں زندہ اور پایندہ ہے۔