آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 28 جون 2026 بروزاتوار کو ثامن مرکز بلڈنگ میں بین الاقوامی سطح پر مطالعاتی توسیع و ترقی اور لائق و قابل افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے حوالے سے آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کے علمی خدمات کے سیکرٹریٹ اور آستان قدس رضوی کے بین الاقوامی امور کے مابین ایک جلاس منعقد ہوا ۔
اجلاس کے دوران بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں ایک فکری و مطالعاتی برانچ تشکیل دینے کے لئے موجودہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا اور دونوں فریقین نے باہمی روابط برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ لائق اور قابل افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کی علمی خدمات کے سیکرٹریٹ کے رکن جناب مہدی گنجی نے اجلاس کے دوران علمی خدام کے نیٹ ورک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدمات علمی سیکرٹریٹ؛لائق اور ممتاز افراد اور یونیورسٹی کے اساتذہ سے روابط کی وجہ سے بین الاقوامی امور کے ساتھ فکری و مشاورتی کام انجام دے سکتا ہے اور اس شعبے کے مطالعاتی اور فکری کاموں کا ایک اہم حصہ انجام دے سکتا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ یہ سیکریٹریٹ علمی خدام کے نیٹ کے ذریعے ماہرین اور محققین کی قابل توجہ تعداد کے ساتھ رابطے میں ہے اس لئے ان کی صلاحیتوں سے مختلف شعبوں کی تشکیل کے لئے بین الاقوامی امور میں استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔
جناب گنجی نے ’’نان ‘‘ سسٹم پر مبنی ماڈل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ایک اہم طریقہ کار تحقیقی منصوبوں کے لئے علمی صلاحیتوں کا استعمال ہے تجربے نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب کوئی تحقیقی منصوبہ امام رضا(ع) کی بارگاہ سے متعلق ہو تو بہت سارے ممتاز اساتذہ اور محققین روحانی جذبے کے ساتھ اور کم سے کم لاگت یا بغیر کسی معاوضے کے تعاون کرتے ہیں۔
ان کے مطابق، "نان" سسٹم سے استفادہ تحقیقی اور مطالعاتی منصوبوں کے اخراجات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے ممتاز اساتذہ کی علمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے اور علمی و تحقیقی منصوبوں کے نفاذ کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران آستان قدس رضوی کے بین الاقوامی امور میں منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کحلکی نے آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کی علمی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی علمی سطح پر یہ تعاون موجود تھا اور اب بھی خدام کے نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہوئے اسے مزید توسیع و ترقی دی جارہی ہے ۔
انہوں نے ’’حریم عالم سے علمی گفتگو‘‘ پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے جس کا عنوان’’گفتمان ھشت‘‘(ہشت گفتار) ہے کہا کہ اس منصوبے میں علمی خدام کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا بھر کے علمی مراکز بشمول ویٹیکن، الازہراور دیگر یونیورسٹیوں کے ساتھ علمی مکالے کے لئے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ جس سے آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی سفارت کاری مزید مستحکم ہو گی۔
واضح رہے کہ اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے مشترکہ نشستوں کے انعقاد کو جاری رکھنے اور زیر بحث موضوعات پر تعاون جاری رکھنے پر زور دیا تاکہ دونوں اداروں کے درمیان ایک منظم اور پائیدار تعاون کی بنیاد فراہم کی جا سکے۔