آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ڈاکٹر مہدی سلطانی فر نے شہید رہبر(رح) کی تشیع جنازہ کے موقع پر پچاس طبی مراکز،فیلڈ ہاسپٹلز اور حرم امام رضا(ع) میں 2100 سے زائد طبی عملے کی تعیناتی کی خبر دی۔
انہوں نے سوگواروں اور زائرین کی ملینوں کی تعداد میں موجودگي کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تشییع جنازہ کے موقع پر ایک کروڑ سے زائد زائرین کی شرکت متوقع ہے اس لئے بہتر طبی خدمات فراہم کرنے کے لئے تمام طبی انتظامات کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دارالشفاء ہاسپٹل کا طبی عملہ ہر سال یکم نوروز،شبہائے قدر اور ماہ صفر کے آخری عشرے کے موقع پر طبی خدمات فراہم کرتا ہے ۔
ڈاکٹر سلطانی فر نے بتایا کہ ہم نے طبی خدمات کی دو حصوں میں منصوبہ بندی کی ہے ، پہلے حصے میں جنازہ اور تدفین کے دن کے لئے اور دوسرا حصہ تدفین کے بعد کا ہے ۔
ڈاکٹر سلطانی فر نے کہا کہ: رہبر شہید کی تشییع اور تدفین کے موقع پر بھی کوشش کی گئی ہے کہ اگر کوئی ہنگامی صورت حال پیش آئے تو 4 منٹ سے کم وقت میں خدمت فراہم کی جائے، اور غیر ایمرجنسی مریضوں کے لیے 10 سے 15 منٹ کا انتظار متوقع ہے۔
انہوں نے حرم مطہر میں طبی عملے کی وسیع تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اہداف کے حصول کے لیے، حرم مطہر میں 100 سے 120 چھے رکنی موبائل طبی ٹیمیں متعین کی گئی ہیں تاکہ ہجوم کی زیادہ صورت میں تقریباً 40 سے 50 میٹر کے دائرے میں زائرین کو خدمت فراہم کر سکیں۔
دارالشفای امام (ع) کے سربراہ کے مطابق، یہ ٹیمیں خصوصی ایمرجنسی بیگ سے لیس ہیں جن میں وزارت صحت کی چیک لسٹ کے مطابق ایمرجنسی اور کسی حد تک غیر ایمرجنسی مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے مکمل طبی وسائل موجود ہیں۔
ڈاکٹر سلطانی فر نے کہا کہ اگر زیادہ خصوصی خدمات کی ضرورت ہو تو مریض کو جدید مراکز منتقل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: مجموعی طور پر 30جدید طبی مراکز اور 20 ایمرجنسی مراکز، یعنی تقریباً 50 طبی اور ایمرجنسی مراکز حرم کے اندر اور اس منصوبے کے دائرے میں فعال ہوں گے۔
دارالشفاء امام رضا (ع)کے منیجنگ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ اگر زیادہ جدید طبی خدمات کی ضرورت ہو تو حرم مطہر کے اندر پانچ طبی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے تین فیلڈ ہسپتال مکمل سہولیات اور حتیٰ کہ آپریشن تھیٹر کے ساتھ خدمت کے لیے تیار ہیں اور ان میں مطلوبہ ماہرین بھی تعینات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں بھی ہزاروں طبی عملہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور ہلال احمر کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور مجموعی طور پر 10 سے 15 ہزار طبی عملہ حرم سے باہر خدمات انجام دے گا۔
آخر میں انہوں نے زائرین کو سفارش کرتے ہوئے کہا کہ زائرین ضروری طور پر اطلاعی پیغامات اور بھیجی گئی ہدایات پر توجہ دیں اور خدام اور خدمتگار عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ممکنہ ناخوشگوار مسائل سے بچا جا سکے۔