ہم نے ہندوستان کی ایک علمی و ثقافتی شخصیت کے ساتھ گفتگو کی جس کی زندگی کا سفر ممبئی اور لندن میں اکیڈمک تعلیمی فضا سے شروع ہو کر قم کے حوزہ علمیہ کی روحانی فضا تک پہنچا۔
مشہد مقدس میں روضہ منورہ امام رضا(ع) کے جوار میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس’’وحدت اسلامی‘‘ کے دوران ہم نے ہندوستان کے شہر ممبئی سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین حجت الاسلام ضمیر عباس جعفری سے ملاقات کی اور ان سے عالم اسلام کی صورتحال ، وحدت کی ضرورت اور مزاحمتی محاذ کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کی جسے قارئین کےلئے ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے :
ہزاروں مذاہب کی سرزمین سے آنے والا مسافر؛ کیوں قم؟
جنہوں نے ممبئی اور لندن کی یونیورسٹیوں سے تجارت اور اکاؤنٹنگ کے شعبے میں تعلیم حاصل کی ہے ، وہ اپنی زندگی کے اس اچانک موڑ کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس چیز نے ایک طالبِ تجارت کو ایک طالبِ علم میں تبدیل کیا ، وہ مادّی محرکات نہیں تھے بلکہ ’’فکر و نظریات‘‘ سے روشناس ہونا تھا۔
انہوں ںے بتایا کہ امام خمینی(رح) اور شہید مطہری(رح) کے افکار سے آشنائی کے بعد میری زندگی میں ایک نیا دروازہ کھلا ، حقیقت کی طرف کشش اور اسلام کی خدمت کا جذبہ مجھے لندن سے شیعیت کے مرکز قم کی طرف کھینچ لایا۔
یہ شیعہ محقق جو اپنے سید ہونے کو فخرکے ساتھ بیان کرتے ہیں اور ہندوستان کو جس میں پچیس کروڑ مسلمان آباد ہیں جن میں سے چھ کروڑ شیعہ ہیں،ایک ایسا ملک قرار دیتے ہیں جومزاحمتی محاذ کے ادراک اور بیانیہ کے حوالے سے بہت زیادہ صلاحیت رکھتا ہے ۔
شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رحمت اللہ علیہ) کی شخصیت سرحدوں سے بالاتر ہے
جب ہم نے ہندوستان کے مسلمانوں کا شہید رہبر(رح) کی شہادت پر رد عمل سے متعلق سوال کیا توان کا جواب چونکا دینے والا تھا:’’میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان کے 95 فیصد مسلمانوں کا دل ایران کے شہید رہبر(رح) کے ساتھ ہے ۔
حجت الاسلام ضمیر عباس نے شہید رہبر(قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی شہادت کے بعد مختلف علاقوں کے سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس سفر کے دوران دیکھا کہ چھوٹی چھوٹی دوکانوں پر بھی ایران کے شہید رہبر کی تصویر نصب ہے ،جب ہم ان سے پوچھتے تھے یہ کون ہے تو جواب دیتے تھے ’’ہمارا رہبر ہے ‘‘۔ یہ مسئلہ فقط شیعوں تک محدود نہیں ہے ، ہندوستان کے بڑے بڑے اہلسنت علماء بھی صراحت کے ساتھ انہیں اپنا رہبر قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق، میڈیا کی طرف سے پھیلایا جانے والا جھوٹا پراپگینڈا جو شہید رہبر ایران (رحمت اللہ علیہ) کو اسرائیل کے ساتھ تعاون یا آمریت کا الزام دینے کی کوشش کر رہا تھا، آج ہندوستان میں بے اثر ہو چکا ہے۔ لوگوں نے میدانی حقائق اور ایران کی غزہ اور قدس کے لیے بے دریغ حمایت کو دیکھ کر حق کو باطل سے پہچان لیا ہے۔
عالم اسلام دوحصوں میں؛ حسینی بمقابلہ یزیدی
اس گفتگو کا سب سے دلچسب حصہ،ایک ہندوستانی عالم دین کا شیعیت اور اسلام کے فیوچر کے لئے وحدت اسلامی کی ضرورت کا تجزیہ ہے ۔
ان کا ماننا ہے کہ دنیا ایک نئے دو قطبی نظام میں داخل ہو رہی ہے ،آج افریقہ،ہندوستان اور یورپی ممالک میں شیعہ و سنی کی بات نہیں ہے ، آج کے نوجوان کہتے ہیں کہ ہمارے صرف دو مذاہب ہیں؛ حسینی اور یزیدی۔
جو بھی ایران اور غزہ کے محاذ پر ہے وہ حسینی ہے اور جو اس تحریک کے مقابلے میں کھڑا ہے وہ یزیدی ہے ، لہذا اب شیعہ اور سنی کی بات نہیں کرنی چاہئے ،بلکہ کہنا چاہئے کہ دنیا میں حق و باطل کے دو محاذ ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ غیرمسلم اور ہندو بھی کربلا کو جاننا چاہتے ہیں ،کیونکہ ان کے لئے سوال ہے کہ ایک ملت(ایران) سپر پاور کے سامنے کیسے ڈٹ سکتی ہے اور ہتھیار نہیں ڈالتی؟ یہی وہ چیز ہے جس نے شیعیت کو جاننے کی عالمی پیاس پیدا کی ہے ۔
جہاد تبیین ؛ گمراہی کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ
اس ہندوستانی دانشور نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالم اسلام کا سب سے بڑا چیلنج ’’تفرقہ‘‘ اور ’’گمراہی‘‘ ہے جسے دشمن بہت زیادہ میڈیا بجٹ کے ساتھ ہوا دے رہا ہے ،اس چیلنج سے نکلنے کا حل بالکل وہی ہے جس پر شہید رہبر(رح) نے بارہا تاکید کی ہے یعنی ’’جہاد تبیین‘‘۔
ان کا ماننا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ شکوک و شبہات کو واضح اور عقلی دلائل کے ساتھ ختم کریں ،دشمن ان شکوک و شبہات کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ، لہذا ہماری ذمہ داری شفافیت کے ساتھ بیان کرنا ہے ، ہمیں حقیقت کو دنیا تک پہچانا چاہئے کیونکہ حقیقت بذات خود بہترین مبلغ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کابیانیہ اوراس کی قیادت جغفرائیائی حدود عبور کر چکی ہے اور دنیا بھر کے نوجوانوں کی انصاف پسندانہ شناخت کا حصہ بن گئی ہے ، یہ ایک ایسی شناخت ہے جو مقاومت اور عدالت کے محور کے گرد، ناموں اور مذاہب سے بالاتر ہو کر تشکیل پا رہی ہے۔