آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 486
13:08

2026/10/18

جب دنیا کے معمار کسی صدمے کو تسکین دینے کے لئے ہم آواز بن جاتے ہیں

افب
’’میناب آرکیٹیکچر:تسلی اور تسکین دینے سے فراتر،صلح اور زندگی کے لئے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی مقابلےمیں نام اندراج کرانے کی تاریخ ختم ہونے کو ہے ،اب تک 47ممالک کے ڈیزائنرز نے اس مقابلے میں شرکت کر کے میناب کے فرشتوں کی مظلومیت کوتسلی اور تسکین دینے کے لئے اپنے اپنے ڈیزائن رجسٹرڈ کروائے ہیں ۔ 

گلزار شہدائے میناب(میناب میں شہداء کا قبرستان) وہ جگہ ہے جسے ’’نورستان‘‘ کہنا چاہئے ،خاندانوں کا اس فضا کے ساتھ گہرا اور دائمی تعلق اس طرح کا ہے کہ غم زدہ ماں باپ، روزمرہ کے شور و غل سے بے پروا ہو کر، اس گلزار کو اپنی خلوت کا گہوارہ پاتے ہیں اور بعض اوقات چوبیس گھنٹے اپنے بچوں کی قبروں کے پاس گزار دیتے ہیں،یہ مسلسل حاضری اس درد کی عکاسی کرتی ہے جو ایک گہرے صدمے میں تبدیل ہو چکا ہے ،ایک ایسا رنج جسے روایتی اور فرسودہ سانچوں میں نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اسے ایک ایسے معمارانہ سانچے کی کی ضرورت ہے جو اس نقصان کے بوجھ کو تسلی اور تسکین کی طرف لے جا سکے۔
’’نامکمل خواب‘‘ سے لے کر ’’میناب علیہ فراموشی‘‘ جیسی تعابیر
بین الاقوامی مقابلہ برائے منظر نگاری اور یادگاری فضا برائے گلزارشہدائے میناب اسکول کے سربراہ جناب سعید مہرپویا نے قدس اخبار کے نامہ نگار سے گفتگوکے دوران اس تقریب کےموضوع کے انتخاب کے ارتقائی مراحل کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بتدا میں مقابلے کے لیے «نامکمل خواب» جیسے تجاویز زیر غور تھیں؛ ایک ایسا نام جو بچوں کے پنپنے اور ان فرشتوں کی برباد شدہ آرزوؤں کے فقدان پر مرکوز تھا۔ لیکن میدانی جائزوں اور غم زدہ خاندانوں کے ساتھ بار بار کی ملاقاتوں میں، ہم نے محسوس کیا کہ یہ نام سوگ کو صرف ایک زاویے (نقصان اور جرم) سے بیان کرتا ہے اورممکن ہے کہ  مخاطبین کے لاشعور میں صدمے کو دوبارہ پیدا کرے۔ 
انہوں نے مزید یہ کہا کہ نتیجتاً، ہم نے «تسلی بخشی» اور «صلح اور زندگی» کے مفاہیم کی طرف رخ موڑا؛ کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ اس تلخ واقعے کو مرثیہ گوئی سے زیادہ «حیات» کی نوعیت کے پیغام کی ضرورت ہے۔ «میناب علیہ الفراموشی» کا عنوان بھی ایک نام سے بڑھ کر وقت کے گزرنے اور خاموشی کے خلاف واضح موقف ہے؛ یہ اس بات کا  انتباہ کہ عوامی ضمیر بیدار رہے اور اس حقیقت کی ایک عینی نشانی جو ان فرشتوں کی مظلومیت اور دشمن کے جرم کی آواز زمانے کے شور و غل میں خاموش نہ ہو۔
درد کی روایت اور پس ماندگان کی تسکین کے لئے ایک فضا
اس تقریب کے دوران جناب مہرپویا نے مطلوبہ معماری کی زبان کی وضاحت دیتے ہوئے زور دیا کہ اس پروجیکٹ میں ڈیزائنرز کا سب سے بڑا چیلنج سوگ کی عکاسی اور امید دلانے کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنا ہے۔ ڈیزائن اس طرح سے ہونا چاہیے کہ ایک طرف بچوں کی جاں گداز مظلومیت اور درد کی سنگینی کو تصویر کرے اور دوسری طرف صدمے اور ناامیدی کے گڑھے میں کبھی نہ گرے، بلکہ غم زدہ خاندانوں کے لیے سکون، خلوت، غور و فکر اور تسلی خاطر کی فضا فراہم کرے۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اس یادگاری فضا کے اصلی اور قلبی مخاطب سب سے پہلے شہداء کے عزیز خاندان ہیں،اس گلزار کا ڈھانچہ انہیں ایک صریح اور دیرپا پیغام پہنچائے گا کہ ’’ہم نے اس بڑے صدمے کو نظر انداز نہیں کیا ہے، آپ کو اکیلا نہیں چھوڑا ہے اور یہ سانحہ کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔‘‘
معماری کا ظرف؛ زندگی کے مظروف کی خدمت میں
میناب اسکول کے شہداء کا یادگاری باغ اور لینڈ اسکیپ ڈیزائن کے بین الاقوامی مقابلے کے ڈائریکٹر نے مزید یہ بتایا کہ معماری کو صرف جمالاتی اجزاء یا ظاہری افعال تک محدود کرنا اس کی اصالت کو مجروح کرتا ہے۔ معماری اپنے جوہر میں انسان کی روحی، عاطفی اور جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے «ماحول میں باشعور تصرف» ہے؛ اسی لیے اس واقعے میں «زندگی» مظروف ہے اور «ماحول» وہ ظرف ہے جس میں اس دل خراش رنج کا مداوا ہونا چاہیے۔ اس پروجیکٹ کی اسٹریٹجک سمت «تسلیم بخش آرکیٹیکچر» کی بنیاد پر استوار کی گئی ہے تاکہ ماحول، غم کو دوبارہ پیدا کرنے کے بجائے، پس ماندگان کی تسکین کے لیے ایک بستر فراہم کرے۔
میناب کو فراموشی سے بچانے کے لئے تین پائیدار اقدامات
اس بین الاقوامی مقابلے کے سربراہ نے اس مہم کے تشکیل پانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس تلخ واقعے کو وقت کی گرد میں گم ہونے سے بچانے کے لیے، تین بنیادی اور تکمیلی اقدامات جاری ہیں جن میں سے دو اقدامات آستانہ قدس رضوی کے متولی کے حکم سے طے کیے گئے ہیں اور گلزار کا لینڈ اسکیپ اور یادگاری باغ کا ڈیزائن کا مقابلہ اس کے اضلاع میں سے ایک ہے۔ پہلے مرحلے میں اور سرکاری اداروں کے فیصلے کے مطابق، اسکول کی عمارت اور حادثے کی جگہ کو محفوظ رکھا جائے گا اور اسے ایک «میوزیم» میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ ملک کی تاریخی یادداشت میں اس ظلم کی ایک زندہ سند کے طور پر باقی رہے۔
انہوں نے دوسرے مرحلے اور ’’شجرہ طیبہ‘‘ اسکولوں کی تعمیر سے متعلق حکم کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ آستانہ قدس رضوی کی کوششوں سے، ملک کے آٹھ پسماندہ  علاقوں میں ان فرشتوں کے نام اور یاد میں آٹھ اسکولوں کی تعمیر کو ایجنڈے میں رکھا گیا ہے تاکہ «دانائی اور حیات» کا چراغ جو اس درسگاہ میں بجھ گیا تھا، ایران کے آٹھ دیگر حصوں میں دوبارہ سے روشن ہو جائے۔
جناب مہرپویا نے مزید یہ کہا کہ تیسرا مرحلہ گلزار شہدائے میناب(شہدائے میناب قبرستان)اور اس کے ارد گرد کے آٹھ ہزار مربع میٹر رقبے کی تنظیم اور ڈیزائنگ ہے تاکہ ان معصوم بچوں کی آرامگاہ ایک پرسکون اور پائیدار فضا میں تبدیل ہوجائے۔ 
فکری سفارت کاری اور میڈیا فلٹرز سے عبور کرنا
جناب مہرپویا نے اس تخصصی مقابلے میں فری شرکت کے انعقاد کی منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری بنیادی ترجیح میڈیا کمیونیکیشن کے مواقع فراہم کرنا اور ایرانی و غیر ملکی دانشوروں اور ڈیزائنرز کو براہ راست اس سانحے کی گہرائی سے منسلک کرنا ہے۔ اس کے ساتھ، اب تک تقریب کی انفارمیشن پورٹل کم از کم 119 ممالک سے دولاکھ سے مرتبہ وزٹ کیا گیا ہے  اور 7 ہزار سے زیادہ بار مقابلے کے دستاویزات کا مجموعہ حاصل (ڈاؤن لوڈ) کیا گیا ہے جو اس انسانی مہم کی خبر کی جاذبیت اور عالمگیر رسائی کی عکاسی کرتا ہے ۔ 
47 ممالک کے ڈیزائنرزکی شرکت، ججنگ کے مراحل میں
اس تقریب کے سربراہ نے شرکاء کے موجودہ رجحان کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ نام اندراج کرانے کی تاریخ ختم ہونے میں دوہفتے سے بھی کم دن باقی ہیں، دنیا کے 47 ممالک کے ڈیزائنرز نے اس تقریب میں اندراج کیا ہے جس میں داخلی شرکاء کا حصہ تقریباً 72 فیصد اور غیر ایرانی ڈیزائنرز کی شرکت کی شرح تقریباً 28 فیصد ہے۔
مہرپویا نے ججنگ کے کثیر الجہتی ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مقابلے کا ماننا ہے کہ میناب اسکول کے شہداء کے گلزار کے لینڈ اسکیپ اور یادگاری فضا کا ڈیزائن صرف معماری یا منظر کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس میں انسانی، سماجی، ثقافتی، فنکارانہ اور نفسیاتی ابعاد بھی مؤثر ہیں۔ اسی لیے، تشخیص اور درجہ بندی کے لیے اندرون و بیرون ملک کے سات سرکردہ ماہرین پر مشتمل جیوری (ہیئت داوران) کا تعین کیا گیا ہے۔
موضوع کی اہمیت اور پیچیدگی کے پیش نظر یہ بھی طے پایا ہے کہ فائنل مرحلے تک پہنچنے والے آثار کو ججنگ کمیٹی کے منتخب کرنے کے بعد، آرٹ، سینما، ادب، سماجی علوم، نفسیات اور دیگر متعلقہ شعبوں کے کچھ ماہرین کو مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ منتخب آثار کے بارے میں اپنے تخصصی نظریات اور مشاہدات پیش کریں۔
 مزید برآں، منتخب آثار کے تعارف کے علاوہ، اس ایونٹ کے علمی، پیشہ ورانہ اور ثقافتی نتائج اور مقابلے کے دستاویزات کو اس پروجیکٹ کے ورثے کے ایک حصے کے طور پر محفوظ اور شائع کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں بھی تحقیق، تعلیم اور پیشہ ورانہ گفتگو کے لیے دستیاب رہیں۔
معزز متولی کی ہدایت اور کی گئی منصوبہ بندی کے مطابق ؛ مقابلے کے عمل کی تکمیل اور نفاذ کے لیے مطلوبہ ڈیزائن کے انتخاب اور فنی نقشوں کی تکمیل کے بعد، اس تلخ واقعے کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی شروع ہوں گے۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
جب دنیا کے معمار کسی صدمے کو تسکین دینے کے لئے ہم آواز بن جاتے ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کی پچیسویں پری کانفرنس کا قم میں انعقاد ملکی سلامتی،جغرافیائی سالمیت اور معیشت کے تحفظ میں قبائلی افراد پیش پیش ہیں؛ آیت اللہ احمد مروی حرم مطہری رضوی کا انگریزی شعبہ اہل بیت‏‏ (ع )  کی تعلیمات کو دنیا میں عام کرنے کی سمت ایک اہم قدم آستان قدس رضوی کو حرم امام حسین(ع) کا پرچم ہدیہ کیا گیا ایسے ملک میں نماز قائم کرنا جس میں اسلامِ نابِ محمدی(ص) کا پرچم بلند ہے ،اہم ترین امور میں شامل ہے؛ رہبر معظم انقلاب کا بیان نماز کی ترویج کا آغاز نمازیوں کے کردار و عمل سے ہوتا ہے؛ آیت اللہ احمد مروی  صدرمملکت کا اقوام متحدہ میں خطاب باعثِ افتخار تھا؛ آیت اللہ مروی ’’اِنعاشُ العَقل‘‘ کے ابتدائی دورے کی اختتامی تقریب کا انعقاد « مصحف الحسین (ع)»؛ امام حسین (ع) کے دست مبارک سے تحریرکردہ قرآں کے کچھ اوراق کی اشاعت آيت اللہ العظمی شبیری زنجانی کی رحلت پر آستان قدس رضوی کے متولی کا تعزیتی پیغام   امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے کی صلاحیت موجودہ حد سے کئی گنا زیادہ ہے  عطیات کے عمل میں شفافیت؛آستان قدس رضوی کے لئے عوامی عطیات میں اضافے کا باعث بنی حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم کے پرچم کی تبدیلی کی رسم رضوی سیرت میں حکیمانہ مینجمنٹ اور استقامت؛دینی طرز حکمرانی کا مکمل نمونہ مزاحمتی محاذ کا ناقابل شکست ہونے کا دارومدار’’جہاد تبیین‘‘ اور رضوی تعلیمات پر ہے رضوی سیرت؛ انسانی کرامت کی بنیاد پر انسانی حقوق کی نئی تعریف کے لئے ایک عملی نمونہ امام رضا(ع) آج بھی اقوام اور ادیان کے مابین یکجہتی کا مرکز ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع)؛امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے طالبات کا ہاسٹل ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ علم و روحانیت کے امتزاج کی علامت ہے آستان قدس رضوی کے متولی کی موجودگی میں ملک کے جدید ترین ہاسٹل کا افتتاح