آستان نیوز کے مطابق ابھی مشہد کی فضا پوری طرح روشن بھی نہيں ہوپائي تھی اور گذرتی ہوئي رات کی سیاہی باقی تھی کہ حرم مطہر رضوی کی فضا بیدار ہوچکی تھی نسیم سحر طلائي گلدستوں کے درمیان سے گزر رہی تھی اور سبھی صحنوں کو حرم کی خوشبو کے ساتھ خنکی پہنچارہی تھی اس دوران ایک مہینے تک روزہ داری کرنے والے مومنین کے قدم آہستہ آہستہ حرم کے صحنوں کی جانب اٹھتے جارہے تھے ۔
اس سال عید فطر یعنی ماہ شوال کی پہلی تاریخ ایرانی کلنڈر کے پہلے مہینے فروردین کی بھی پہلی تاریخ یعنی عید نوروز سے مصادف تھی ایسا مبارک تقارن جس نے حرم مطہر رضوی میں عید فطرکے معنوی ماحول کو دوچنداں کردیا تھا
مشہد مقدس کی تمام سڑکوں اور گلیوں سے نمازیوں کا سیل رواں زیرلب ذکر و دعا کے ساتھ حرم امام رضا علیہ السلام کی جانب بڑھ رہا تھا جن میں سے بعض کے ہاتھوں میں قرآن کریم بھی تھے ۔
حرم کے خدام نمازیوں کے امڈتے ہوئے سیلاب کا خندہ پیشانی کے ساتھ استقبال کررہے تھے اور انہيں منظم صفوں میں بیٹھانے کی رہنمائي کررہے تھے اور پھر نمازیوں کی یہ صفیں لمحہ بہ لمحہ طولانی ہوتی گئيں جوصحنوں کے ساتھ حرم کے اندر کے رواقوں تک طولانی ہوگئیں۔ صحن پیامبر اعظم سے ہوتے ہوئے یہ صفیں دیگر صحنوں اور رواقوں تک پہنچ چکی تھیں ۔ جی ہاں یہ وہ عظیم الشان اجتماع تھا جو باہم سجدہ شکر ادا کرنے کے لئے حرم پہنچا تھا
نماز عید الفطر کے اجتماع کا پروگرام ایران کے ممتاز بین الاقومی قاری مصطفی احمدی کے ذریعے قرآن کریم کی تلاوت سے شروع ہوا بعدازاں گلدستہ حرم نامی تواشیح گروپ نے عید کی نظم پڑھی اس کے بعد مداح اہل بیت احد سبزی نے اہل بیت اطہار علیھم السلام کی شان میں منقبت خوانی کی ۔
پروگرام کے دوران رہبرشہید انقلاب اسلامی کی وہ ویڈیو تصاویر نشر کی گئيں جو گذشتہ برس نمازعید فطر میں ان کی موجودگي اورامامت کے دوران بنائي گئي تھیں ۔ رہبرشہید انقلاب اسلامی کی یہ ویڈیو دیکھتے ہوئي پورے مجمع پر ایک لمحے کے لئے سکوت طاری ہوگیا جس میں احترام بھی تھا اور رہبر سے جدائی کی بے قراری بھی ۔
کچھ ہی دیر بعد نماز عید کی تکبیروں کی آوازیں سنائي دینے لگیں اور حرم کے گوشہ و کنار میں: «اللّهُ اکبر، اللّهُ اکبر لا إلهَ إلا اللّهُ واللّهُ اکبر اللّهُ اکبر وللّه الحمد الحمدُ للّهِ علی ما هدانا…» کی صدائيں گونج رہی تھیں گویا حرم کی فضا بھی نمازیوں کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کی صدائيں بلند کررہی ہو۔
نماز عید کا آغاز ہوگيا اور صفوں میں کھڑے دسیوں ہزار کی تعداد میں نمازی قنوت میں اللَّهُمَّ أَهْلَ الكِبْرِياءِ وَالعَظَمَةِ، وَأَهْلَ الجُودِ وَالجَبَرُوتِ، وَأَهْلَ العَفْوِ وَالرَّحْمَةِ، وَأَهْلَ التَّقوى وَالمَغْفِرَةِ…» کا ورد کرنے لگے گویا ہر نمازی اس لمحے اپنے دل کو ہلکار کرنا چاہ رہا تھا اور اور اپنے اندر کے ہرطرح کے غرور و کبر کو نکال پھینک کر پورے سکون کے ساتھ ماہ رمضان کو الوداع کہہ رہاہو
امام رضا علیہ السلام کے حرم میں پرشکوہ نمازعید فطرآیت اللہ علم الھدی کی امامت میں ادا کی گئي ۔
نماز عید فطر کے عظیم الشان اجتماع کو منظم طریقے سے منعقد کرانے کے لئے حرم کے خدام، عید کی صبح کے ابتدائي اوقات سے ہی حرم کے چاروں جانب اور جگہ جگہ خدمت میں مشغول نظر آرہے تھے ۔ نماز کے بعد ایک لاکھ ستر ہزار تبرک کے پیکٹ جن میں میٹھائی اور دیگرچیزیں شامل تھیں نمازیوں میں تقسیم کئے گئے۔