آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حرم امام رضا(ع) کی بہت ساری رسومات، مشہد مقدس کی دیگر مذہبی و تاریخی خصوصیات کی طرح ایک دیرینہ تعلق کی طرح جڑی ہوئی ہیں جس نے اس شہر کو آستان قدس رضوی کے گرد آباد کیا،یہ تعلق ایمان،عوامی عقائد اور روحانی رسومات پر مشتمل ہے جو صدیوں سے جاری ہے ۔
ان قدیمی رسومات میں سے ایک رسم ضریح مطہر کی صفائی اور غبار روبی کی رسم ہے یہ رسم تقریباً پانچ سو سال پرانی ہے جو اص مواقع پر اور مقررہ وقت میں خاص آداب کے ساتھ ادا کیا جاتی ہے ۔
ضریح مطہر کی صفائی اور غبار روبی کی رسم منعقد کرانے کے فلسفہ کو جاننے اور اس میں مور کے پروں کے استعمال اور اس کی نذر و منت کے حوالے سے رضوی ثقافت کے محقق اور مصنف جناب جواد نوائیان رودسری سےگفتگو کی جسے ذیل میں آپ قارئئین کے لئے پیش کیا جا رہا ہے ۔
ضریح مطہر کی صفائی اور غبار روبی کے و قت خاص اداب اوررسومات کب سے شروع ہوئیں اور ان کی کیا اہمیت ہے؟
بنیادی طور پر حرم امام رضا(ع) کے انتظامی امور اور دیکھ بھال میں خاص آداب کی پابندی در حققیت حکام بالا اور بزرگان کی طرف سے امام رضا(ع) کے الہیٰ مقام و مرتبے کے سامنے عقیدت و محبت کا اظہار تھی۔
اگرچہ تاریخی ادوار میں امام رضا(ع) کی نورانی بارگاہ سے عقیدت فقط مذہبی افراد سے متعلق نہیں رہی بلکہ مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر سے غیرمسلم بھی اس بارگاہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے تھے ۔
روضہ منورہ امام رضا(ع) میں صفائی اور غبار روبی کے لئے مور کے پروں کا استعمال کب سے شروع ہوا؟اور حرم میں اس کے انتخاب کی کیا اہمیت اور حیثیت تھی؟
معاصر مرثیہ خواں اور شاعر جناب سید حمید رضا برقعی نے بارگاہ امام رضا(ع) پر ایک خصوبصورت نظم تحریر کی ہے جس کے ایک شعر میں کہتے ہیں ’’آنجا کہ خادمینش از روی زائرینش/گرد سفر بگیرند با بال ناز طاووس‘‘(جس بارگاہ کے خادمین اس بارگاہ کے زائرین کے چہروں سے سفر کی گرد و خاک مور کے نازک پروں سے ہٹاتے ہیں)شاعر نے اس شعر میں حرم امام رضا(ع) کی ایک قدیمی ترین رسم کی طرف اشارہ کیا اور وہ بارگاہ رضوی کی مور کے پروں سے صفائی ہے،ایسا لگتا ہے کہ حرم کی صفائی کے لئے مور کے پروں کا استعمال ایک مہنگی اور گرانقدر چیز کے طور پر ہوا کرتا تھا اگرچہ اس سے متعلق دستاویزات صفوی دور تک پائی جاتی ہیں۔
صفائی ستھرائی میں مور کے پروں کے استعمال کے پیش نظر کن وجوہات نے اسے نذر و وقف کرنے والے افراد کے نزدیک قیمتی اور گرانقدر بنا دیا؟
چونکہ مور ہندوستان میں پائے جاتے تھے اس لئے مور کے پروں کی نذر عام طور پر ہندوستان کے شیعہ کرتے تھے ،البتہ دوسرے ممالک اور ایران سے تعلق رکھنے والے بزرگان بھی تھے جو یہ نفیس اور قیمتی چیز حرم کو پیش کرتے تھےلیکن اس کا ماخذ ہندوستان ہی تھا۔
آستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز میں 1111ھ ۔ ق(شاہ سلطان حسین صفوی کے دور حکومت) کی سند موجود ہے جس میں ضریح مطہر کی صفائی کے لئے مور کے پر سے جھاڑو بنانے کا ذکر ہے ، مور کے پر سے صفائی کرنے کی یہی قدیمی ترین سند ہے ، ایک اور سند 1118 ھ ۔ ق کی ہے جس میں مور کے پر سے بنے جھاڑو سے ضریح امام رضا(ع) کی صفائی کا ذکر ملتا ہے ۔
افشاریہ دور حکومت میں صفائی کے لئے اس کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا کیونکہ اس دور کی بہت ساری دستاویزات میں جھاڑوں کی دیکھ بھال اور آرائش کے اخراجات ذکر ہوئے ہیں۔
قاجاریوں کے دور حکومت میں بھی اس کا استعمال جاری رہا بلکہ اس دور میں ان جھاڑوں پر موتیوں اور قیمتی پتھروں سے سجانے کے فن پر بھی توجہ دی گئی ، حسن خان سالار جو کہ محمد شاہ قاجار کے آخری دور اور ناصر الدین شاہ قاجار کے ابتدائی دور میں مشہد مقدس پر قابض تھے ان کی والدہ کا وقف کردہ جھاڑو بھی انہی میں سے ایک ہے جس میں خوبصورت مور کے پروں کے علاو موتیوں کی کڑھائی اور خوبصورت آرائش بھی تھی اس جھاڑو کی لمبائی ایک میٹر سے بھی زیادہ تھی جو اس وقت آستان قدس رضوی کے میوزیم میں موجود ہے ۔
بعد کے زمانے میں ایران کو مور کے پروں کی برآمدات کی صورتحال کیا تھی؟
قاجاری دور حکومت کے آواخر اور پہلوی دور کے آغاز میں روضہ منورہ امام رضا(ع) اور ضریح مطہر کی صفائی کے لئے مور کے پروں سے جھاڑوؤں کو بنانے میں مشکلات پیش آئیں جن کی وجوہات سے ہم بے خبر ہیں، ہندوستان سے جس پر اس وقت برطانوی راج تھا مور کے پروں کی برآمدات ممنوع یا شدید حد تک محدود ہو گئی تھی اور 1310 ہجری شمسی میں یہ مسئلہ کافی سنجیدہ تھا حتی ہندوستان کے شیعہ بھی آسانی سے اپنی نذورات اور تحائف اس بارگاہ کے لئے نہیں بھیج سکتے تھے تاہم اس پابندی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہندوستان کے شیعوں کی عقیدت ختم ہو گئی تھی۔
یہ خاص نذر کس شخص کے نام پر درج ہے ؟
اس سلسلے میں ہمارے پاس 1312 ہجری شمسی کی ایک سند موجود ہے جس میں ہندوستان کے شہر حیدرآباد دکن کے ایک شیعہ شہری جناب سید باقر حسین نے ضریح مطہر امام رضا(ع) کے لئے مور کے پروں سے بنے جھاڑوؤں کو بھیجنے کی کوشش ذکر کی گئی ہے ،درحققیت یہ سید باقر حسین دکنی کی نذر و منت تھی جس کی ترسیل کی ذمہ داری زاہدان کی پوسٹل کمپنی«Khilanda Ram & Bros.» نے اٹھائی تھی ، اس سند میں پوسٹ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے آستان قدس رضوی کے متولی کو ایک خط کے ذریعہ اس کے دیر سے پہنچنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ’’جناب والا کی خدمت میں احترام پیش کرتا ہوں،مور کے پروں کے زاہدان کسٹم کے ذریعے داخلے کے سلسلے میں کسٹم ڈیپاڑٹمنٹ سے اجازت کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ تمام پوسٹل پارسل کے ساتھ اسے آپ زاہدان میں داخل کر سکتے ہیں اور اسے براہ راست خراسان کسٹم بھیج سکتے ہیں تاکہ وہاں سے وصول کیا جا سکے ،تاہم مور کے پروں کی ہندوستان سے برآمدات بذریعہ پوسٹ ممنوع ہے ،میں نے پوسٹ آفس کے سربراہ کو دوبارہ خط لکھا ہے ،اگر پوسٹ آفس اسے نہ روکے تو ہم اسے پارسل کر کے بھیج دیں گے ، فقط پوسٹ آفس کے سربراہ کے جواب کا انتظار ہے ،آپ کی خدمت میں انتہائی ادب و احترام پیش کرتے ہیں ‘‘